بوسہ تعظیمی.... کتنا فائدہ ،کتنا نقصان؟
05 جولائی 2018 2018-07-05

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے پاکپتن میں حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے دربار پر حاضری اور چوکھٹ پر بوسہ تعظیمی کے بعد جو طوفان برپا ہوا، اس پر دانستہ لکھنے سے گریز کیا تھا لیکن اس حوالے سے مجھ پر قارئین اور دوستوں کی جانب سے ہر گزرتے دن کے ساتھ لکھنے کے لیے دباﺅ بڑھتا گیا کہ پاکپتن شریف سے تعلق کی وجہ سے درگاہ حضرت بابا فرید الدینؒ پر حاضری اور اس پر تنقید کے باعث مجھے اس پر لکھنا چاہیے۔ ویسے تو اس معاملے کے دو پہلو ہیں جن میں ایک مذہبی اور دوسرا سیاسی ہے لیکن بنیادی طور پر سب کچھ سیاست سے جڑا ہوا ہے اور اسی لیے اس پر اتنی گرد اڑائی گئی۔ دربار کی دہلیز پر بوسہ تعظیمی ایک پرانی روایت ہے جو تقریباً دربار جتنی ہی پرانی ہے کیونکہ ”اجودھن“ کے پاکپتن میں تبدیل ہونے کی بنیادی وجہ یہی صاحب دربار ہیں کیونکہ اس خطے میں بسنے والی تمام ہندو اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی آبادی کو مسلمان کرنے اور اسلام کی جانب راغب کرنے میں بابا فریدؒ کا بنیادی کردار تھا۔
اس خطے میں چونکہ ہندو کلچر غالب تھا لہٰذا اسلام کو آسان مذہب کے طور پر ہی سامنے لایا گیا اور رہن سہن میں کوئی زیادہ بڑی تبدیلی کے بجائے وحدت اور بنیادی عقیدے کو درست کرنے پر توجہ مرکوز رکھی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمان ، عرب کی سرزمین سے آنے والے اس مذہب کی بنیادی تعلیمات تو سیکھ گئے لیکن ہزاروں سال پرانے کلچر اور رہن سہن کے طریقوں کو بھی اس میں شامل کیے رکھا وگرنہ بیٹی کو وراثت میں حصہ دینے کی جگہ بھاری بھرکم اور قیمتی جہیز دینے کی لعنت ہمارے معاشرے میں کیوں کر فروغ پاتی؟
دنیا بھر میں قدیمی کلچر اور مذاہب کا یہ مکسچر عام ہے اور ایسا ہونا کوئی انہونی بات نہیں کیونکہ مذہب جس سرزمین کے ذریعے متعارف ہوتا ہے وہاں کے رہن سہن اور بودوبوش کے تحت ہی نشوونما پاتا ہے لیکن جب یہ سفر کر کے دنیا کے دیگر خطوں تک پہنچتا ہے تو اس پر عمل کرنے کے طریقے درحقیقت ان رسوم و قیود سے متاثر ہوتے ہیں جن کا تعلق اس سرزمین یا ملک سے ہوتا ہے۔ طرز زندگی ہزاروں سال سے جاری ان ہی رہن سہن کے طریقوں سے ترتیب پاتا ہے۔ اس پس منظر کو بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم لوگ خالص عربی ماحول میں نہیں بلکہ ایک خاص ”ہندوستانی برانڈ آف اسلام” کی پریکٹس کرتے ہیں جس میں قوالی، جہیز اور شرعی حق مہر کے ساتھ ساتھ چار شادیوں کی شرعی اجازت کے ہمراہ مسلم عائلی قوانین بھی ایک ہی جگہ موجود ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی جاری ہے۔ اب آئین پاکستان میں مذہب اور عقیدے کی آزادی کی ضمانت دی گئی اور یوں بھی مذہب فرد کا انفرادی معاملہ ہوا کرتا ہے۔ مجھے بچپن میں دربار حضرت بابا فریدؒ کی مسجد میں قرآن پاک کی کچھ عرصہ تعلیم حاصل کرنے کا اتفاق ہوا ہے لہٰذا دربار حاضری کے رائج طریقہ اور پروٹوکول سے بھی شناسائی ہے وہاں دربار کی چوکھٹ اور دروازے کو چومنے سے مراد صاحب دربار سے اپنی محبت اور عقیدت کے اظہار کے سوا کچھ نہیں اور ویسے بھی شرح تعلیم کی کمی کے باعث الفاظ کے بجائے افعال یا حرکات و سکنات اپنے جذبات کے اظہارکا مسلمہ طریقہ ہے۔ اب اس کو سجدہ یا شرک کے زمرے میں شامل کرنا کم علمی یا بددیانتی اور فتویٰ جاری کرنا ظلم عظیم ہے۔ بزرگان دین کے مزارعات پر آپ نہ جانا چاہیں تو کوئی آپ کو مجبور نہیں کرتا لیکن صرف یہ بتا دیجیے کہ دوران نماز ”التحیات“ میں جن ”صالحین“ پر سلام بھیجتے ہیں ان کا انتخاب آپ اپنی مرضی سے کیسے کرتے ہیں؟ کیونکہ یہ سلام تو ان تمام کے لیے ہے جو پروردگار عالم اور ان کے محبوب کے نزدیک اس درجہ پر فائز ہیں۔
اچھا اب اس معاملے کے سیاسی پہلو پر بھی بات کرتے ہیں، صوبہ خیبرپختونخواہ میں مسلمانوں کی اکثریت ایک خاص فقہ سے تعلق رکھتی ہے اور یہاں سے دینی مدارس بھی اسی نقطہ نظر اور مکتبہ فکر کی تعلیم دیتے ہیں جس میں دربار اور خانقاہ کی چنداں اہمیت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا سمیع الحق کے اکوڑہ خٹک کے دارالعلوم حقانیہ کو صوبائی حکومت کی جانب سے مالی امداد کے بعد عمران خان کو ان کے مخالفین نے زور و شور کے ساتھ ”طالبان خان “ کہنا شروع کر دیا تھا، لیکن آپ یہ حقیقت نظر انداز مت کریں کہ اس نام کے باوجود کے پی کے میں نہ تو عمران کی مقبولیت متاثر ہوئی اور نہ ہی اس کی سیاست کو کسی خاص رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ تھوڑا بہت کام بھی اس نے کر لیا ہے اور موجودہ حالات میں سیاسی طور پر عمران خان کو کے پی کے میں اپنے دیگر سیاسی حریفوں پر برتری حاصل ہے، سمجھیے بے فکری جیسا ماحول ہے۔ دوسری جانب پنجاب میں صورتحال بہت ہی مختلف ہے قریباً نوے فیصد سے بھی زائد آبادی ایک اور مکتبہ فکر کے تحت اپنی زندگی بسر کرتی ہے، جس میں بزرگان، دربار اور اولیا کے ساتھ اپنی عقیدت اور محبت چھپائی نہیں بلکہ دکھائی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ جتنے دربار اور خانقاہیں پنجاب میں ہیں اتنے کسی دوسرے صوبے میں نہیں۔ اس دربار پر حاضری کے بعد جو تنقیدسوشل میڈیا اور لبرلز نے عمران خان پر کی اس کا سیاسی طور پر اتنا نقصان نہیں ہو گا جتنا پنجاب میں اس کو فائدہ ہو گا۔
اسی طرح سندھ میں بھی دربار اور اولیاءسے عقیدت کا سلسلہ موجود ہے جسے عمران خان کی اس حاضری سے خوشی محسوس ہوئی ہو گی جس کا نقد سیاسی فائدہ ہو گا۔ یہاں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ عمران خان کی تیسری اہلیہ بشری مانیکا بنیادی طور پر وٹو برادری سے تعلق رکھتی ہیں اور دریائے ستلج کے گرد زیادہ تر راجپوتوں نے حضرت بابا فریدؒ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا جن میں سے اکثریت وٹو برادری سے تعلق رکھتی ہے خواہ وہ مانیکا، تیجے کا، کالوکا، گدھو کا،آہلو کا، رتے کا یا کسی بھی اور گوت سے تعلق رکھتے ہوں ان کی اس دربار سے عقیدت اور وابستگی فطری ہے اور حویلی لکھا سے لے کر میلسی کے آگے اور ریاست بہاولپور کے وہ علاقے جو ستلج کے کنارے آباد ہیں وہاں اس دربار کے ماننے اور اس سے عقیدت رکھنے والوں کی ایک بہت بڑی اکثریت ہے جن سے عمران خان کو سیاسی فائدہ ہو گا۔
اگر صرف دربار پر حاضری کی بات کی جائے تو میاں نواز شریف کے والد میاں محمد شریف مرحوم نے پاکپتن شریف کے قریب ”اتفاق شوگر ملز“ قائم کی تھی اور80ءکی دہائی سے وہ بھی پاکستان میں موجودگی تک اپنی عقیدت کا اظہار کرنے کے لیے باقاعدہ اس دربار آتے رہے جبکہ میاں نواز شریف بھی اسی دربار پر حاضری دیتے رہے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے بھی یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ ان کی دوسری حکومت جانے کی ایک وجہ اس دربار سے غیر حاضری بھی تھی ( واللہ علم وبالصواب)
روحانیت کی بات کی جائے تو کہا جا رہا ہے کہ 2018ءمیں پاکستان کے حکمران کا فیصلہ دو بزرگوں لال شہباز قلندر ؒ اور بابا فرید الدین گنج شکرؒ نے کرنا ہے لیکن پیر سید عرفان علی شاہ اس سے اتفاق نہیں کرتے ان کا کہنا ہے کہ بزرگان انتخاب سے پہلے سخت احتساب چاہتے ہیں وگرنہ بے موسمی اتنی بارش زندگی میں کبھی نہیں ہوئی۔ اپنے محدود علم کے باعث ان دونوں باتوں پر تبصرہ کرنے سے عاجز ہوں لیکن یہ بتا دوں کہ بھارت میں کانگریس کی اندرا گاندھی ہوں یا بی جے پی کے انتہا پسند نریندر مودی ، وہ اپنی انتخابی مہم میں حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ کے دربار ضرور جاتے ہیں جنہوں نے ہندوستان میں چشتیہ سلسلہ کی بنیاد قائم کی اور حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ ان کے مرید تھے اور ان کے ذریعے حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ اور سرکار نظام الدین اولیاءبھی خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کے مریدین اور انہی کے سلسلہ کو آگے بڑھانے والے تھے۔
بزرگان دین کا پاکستان سے تعلق اور اسی سرزمین سے متعلق پیشن گوئیاں ایک الگ موضوع ہے جس کے لیے شاید کئی کالم درکار ہوں، فی الحال عرض کرنا اتنا مقصود ہے کہ دربار نہیں تو ان کے گدی نشین آمدہ الیکشن میں عملی طور پر کردار ادا کرنے والے ہیں ورنہ عمران خان بابا فرید حاضری کے بعد پیر سیال کا رخ نہ کرتے!


ای پیپر