Supreme Court,Justice Gulzar,burning,Karak temple,Receive,Maulvi Sharif
05 جنوری 2021 (13:09) 2021-01-05

اسلام آباد:سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کرک مندر جلائے جانے پر ریمارکس دئیے ہیں کہ  حکومت کی رٹ برقرار رہنی چاہیے،پولیس اہلکاروں کو صرف معطل کرنا کافی نہیں ہے،اس واقعہ سے پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی،سمادھی کی بحالی کی رقم مولوی شریف اور اسکے گینگ سے وصول کریں،جب تک ان لوگوں کی جیب سے پیسے نہیں نکلیں گے یہ دوبارہ یہی کام کریں گے،متروکہ وقف املاک کے چیئرمین اپنے فرائض خوش اسلو بی سے سرانجام نہیں دے رہے،ان کے ادارے کے ملازمین مندر کی زمینوں پر کاروبار کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ میں خیبر پختونخواہ میں کرک مندر جلائے  جانے کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔دوران سماعت چیئرمین اقلیتی کمیشن شعیب سڈل نے عدالت کو بتایا کہ اس واقعہ سے پوری ملک کی بدنامی ہوئی،کے پی متروکہ وقف املاک نے مندر کی جگہ کا تحفظ نہیں کیا،کرتاپور کیطرح یہ جگہ ہندوں کیلئے مقدس ہے۔آئی جی کے پی نے عدالت کو بتایا کہ ایس پی اور ڈی ایس پی سمیت ڈیوٹی پر معمور 92 اہکاروں کو معطل کیا ہے،واقعہ میں ملوث 109 افراد گرفتار ہیں،مجوزہ جگہ پر جمعیت علما پاکستان کااجتماع تھا،اس موقع پر موجود 6 علما میں سے صرف مولوی شریف نے عوام کو احتجاج کرنے پر اکسایا۔

چیف جسٹس نے اس موقع پر چیئرمین ہندو کونسل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیں دستاویزات دیں معاہدہ کب ہوا صرف باتوں سے کام نہیں چلے گا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے  کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے یہ تصاویر ساری دنیا بھر میں پھیل چکی ہیں، اپنی عمارتیں بنانے کیلئے وقف املاک کے پاس پیسہ ہے مگر ہندوں کیلئے نہیں، پولیس کا موقف ہے کہ خون خرابے کی وجہ سے پولیس خاموش کھڑی رہی۔

عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر مندروں اور گردواروں کی زمینوں سے تجاوزات ختم کرانے سمیت متروکہ وقف املاک سے ملک بھر کے مندروں اور گردواروں ،متروکہ وقف املاک کی زمینوں پر چلنے والے مقدمات اور فعال اور غیرفعال مندروں کی دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کر لی 


ای پیپر