پی ڈی ایم کا فیصلہ! حکومت کے اعصاب پر سوار
05 جنوری 2021 (11:54) 2021-01-05

وطن عزیز میں سیاسی گہما گہمی روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ 25 جولائی 2018ء کے انتخابات کے دن سے بہت پہلے ہی نادیدہ قوتوں کی مداخلت کی بازگشت سنائی دینے لگی۔ 25 جولائی کی شام اور اس کے بعد جہانگیر ترین کی آزاد اراکین کو جہاز میں لالا کر گلے میں پی ٹی آئی کے دوپٹے ڈالنا غیر معمولی تھا۔ جہانگیر ترین اتنی بڑی شخصیت نہیں تھے کہ اراکین اسمبلی کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر لا سکتے۔ ایک فون کال کافی ہوتی ہے سیاسی سمت بتانے کے لیے اور وہ فون کال ہر ایک رکن اسمبلی کو کی گئی۔ ایک طرف اقتدار کی کشتی ہو، دوسری طرف نیب کی کال کوٹھڑی تو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ لوگ کس طرف جائیں گے۔ ان حالات میں اتحادیوں کے ساتھ چند ووٹوں کی عددی اکثریت سے حکومت بنا دی گئی۔ اب اگر اس کو سلیکٹڈ ، جعلی، نا اہل کہا جاتا ہے تو بھلے اس میں سچائی نہ ہوتی مگر حکومت کی کارکردگی وزیراعظم کے متفرق انٹرویوز، وزراء، مشیروں ترجمانوں کی فوج ظفر فوج نے ثابت بھی کر دیا کہ اپوزیشن درست کہتی ہے۔ 

مولانا فضل الرحمن کا خیال تھا کہ یہ جعلی، دھاندلی سے بننے والی حکومت ہو گی لہٰذا اس اسمبلی میں بطور رکن حلف ہی نہیں اٹھانا چاہیے لیکن عمران خان کی حیثیت اب ایسی نہیں رہ گئی تھی اور نہ ان کو لانے والوں نے اس لیے اتنی محنت کی تھی کہ اس کی اسمبلی حلف نہ اٹھائے اگر ایسا کیا جاتا تو وطن عزیز کی حقیقی سیاسی جماعتوں کو آئندہ حقیقی نقصان پہنچتا۔ میاں نواز شریف کا اقتدار حقیقی طور پر تو ان کی اپنی وزارت عظمیٰ کے دور میںہی ختم ہو چکا تھا۔ پانامہ کا میلہ ہی نواز شریف کی اقتدار کی چادر چھیننے کے لیے سجایا گیا تھا اور 2014ء کے دھرنے کے بعد اُن پر جو مقدمات دوبارہ متحرک کئے گئے، نئے مقدمات بنائے گئے وہ اس لیے نہیں تھے کہ وہ جیت کر پھر حکومت بنوا سکیں۔ پیپلزپارٹی کو بھی علم تھا کہ چند سیٹیں کراچی اور جنوبی پنجاب میں دے کر کچھ ملتا ہے تو سودا سستا نہیں ہے ورنہ فیصلہ ساز قوتیں کچھ بھی کر سکتی ہیں۔ ایک طرف شہیدوں کا قبرستان ہے دوسری طرف سندھ چیف منسٹر ہاؤس تھا۔ 

اب آتے ہیں پی ڈی ایم کی موومنٹ کی طرف پی ڈی ایم بہت کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ یکم جنوری کو ہونے والے اجلاس میں کئے گئے فیصلے حکومتی ایوانوں پر بجلی بن کر گرے ہیں کہ وزراء اور مشیر اور ترجمان اس قدر دکھی ہوئے کہ کوئی بات ہاتھ نہیں آئی تو پی ڈی ایم کی قیادت کے چہرے پڑھنے شروع کر دیئے کہ ان کے چہروں سے ایسا لگ رہا ہے ان کے چہروں سے ویسا لگ رہا ہے۔ دراصل 

پی ڈی ایم کا فیصلہ سیاسی طور پر انتہائی مدبرانہ ہے جو آگے چل کر حکومت کی فیصلہ کن ناکامی کا سبب ہو گا۔ حکومت کا چہرہ شیخ رشید، فردوس اعوان، فیاض الحسن چوہان ، واوڈا، شہباز گِل، زرتاج گل، ندیم بابر، ذلفی بخاری اور عمران خان ’وزیراعظم‘ کی کہہ مکرنیاں ہیں۔ پی ڈی ایم نے اپنے قیام کے وقت 26 نکات کا اعلان کیا تھا اور اپنی تحریک میں سب سے آخر میں استعفوں کا آپشن رکھا تھا۔ حکومتی وزیر مشیر اور وزیراعظم کورس کی صورت میں استعفوں کی تکرار کرکے اس بات میں کامیاب ہو گئے کہ ریلیاں، احتجاج، جلسے جلوس، لانگ مارچ پیچھے رہ گئے اور انتخابات کا بائیکاٹ اور استعفے نمبر 1 پر آ گئے جبکہ بائیکاٹ کا ذکر نہیں تھا اور استعفے آخری آپشن تھی۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بی بی صاحبہ کی تعلیمات کے مطابق پارلیمنٹ نہیں چھوڑنی چاہیے۔ اگر ہمیں یہ فیصلہ کرناپڑا تو یہ یقینا وہ حالات ہوں گے جب اسمبلی اپنا کام بالکل ہی نہ کر رہی ہو گی۔ 

واقعی ان کے استعفے ایٹم بم ہوں گے مگر اس وقت جب وہ چلانے کی نوبت آجائے گی اگر ابھی نندن ویسے دھر لیا جائے تو ایٹم بم چلانے کی ضرورت نہیں لہٰذا پی ڈی ایم سمجھتی ہے کہ وہ حکومت کو ویسے ہی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گی۔ 

مولانا نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم آپ کو سرپرائز دیں گے لہٰذا محمد علی درانی کی انٹری بھی بلاوجہ نہیں آئندہ طاقتور حلقوں کو شہباز شریف کی طرف سے غیر جانبداری دکھانے کی شرط رکھی گئی تھی کہ وہ بلدیاتی انتخابات سینیٹ انتخابات سے پہلے کرائے جائیں جن میں غیر جانبداری ثابت کی جائے لیکن ممکن ہے پی ڈی ایم کو سینیٹ انتخابات اور ضمنی انتخابات میں غیر جانبداری ثابت کر دی جائے (مگرشہباز شریف کے مطابق یہ سب پی ڈی ایم کی منظوری سے منسوب ہو گا) فردوس اعوان ، شیخ رشید ، گل وغیرہ کے ہوتے ہوئے حکومت کو میڈیا پر پابندی نہیں لگانی چاہیے لوگ ویسے ہی ان کی وجہ سے اب ان چینلز کو نہیں دیکھتے۔ بہاولپور میں پی ڈی ایم کا جلسہ نوشتۂ دیوار ہے۔ آر یا پار والی بات ہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن، محترمہ مریم نواز اور بلاول بھٹو (جو اس جلسہ میں نہیں الگ پریس کانفرنس میں تھے) ایک انچ بھی اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔ مریم نواز نے وزیراعظم کی دیانت داری کی خوب خبرگیری کی اور مولانا فضل الرحمن نے کارکردگی کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ مریم نواز کے انداز کی پی ٹی آئی کو بہت تکلیف ہے وہ ذرا ڈی چوک میں عمران خان کی تقاریر سن لیں افاقہ ہو جائے گا۔ دراصل زرداری اور بلاول بھٹو یا پیپلزپارٹی نے استدلال کے ساتھ قائل کیا اور 26 نکات کے ساتھ موومنٹ کی ترتیب دہرائی بائیکاٹ جس میں تھا ہی نہیں اور استعفے لانگ مارچ کے بعد آخری آپشن تھے،کی یاد دہانی کرائی جو متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ یہی جمہوری طریقہ اور عقلی فیصلہ تھا جو حکومت پر نیپام بم بن کر گرا۔آنے والے وقت میں پی ڈی ایم مزید کامیابیاں حاصل کرے گی۔ آج میرے قارئین اس بات پر حیران ہوں گے مگر حقیقت یہی ہے جو لکھ دیا گیا تاکہ سند رہے۔ پی ڈی ایم نے انتہائی مدبرانہ فیصلہ کیا ہے جو حکومت کے لیے اعصاب شکن ہے۔ اس کو پی ڈی ایم میں دراڑ سے تعبیر کرنے والے احمقوں  کے سردار ہیں۔ 

٭ تبدیلی کا دعویٰ پانچ سال پورے کرنے کی حسرت میں بدل گیا

٭ پی ڈی ایم کی ریلی پر تنقید کرنے والے حکومتی وزراء اور ترجمان واقعی قافلوں پر بولنے والے لگتے ہیں۔

٭ 22 سال جدوجہد، 22 سالہ اسامہ 22 گولیاں اور یہ ’’ریاست مدینہ‘‘ کے دارالخلافہ میں 

الامان الحفیظ


ای پیپر