اسامہ ستی کے قاتل پریشان نہ ہوں
05 جنوری 2021 (11:53) 2021-01-05

انسانی تاریخ کا سب سے خونخوار درندہ انسان ہی ہے جس کو صرف قانونی کی بالادستی سے نکیل ڈالی گئی ہے۔ وائے افسوس کہ پاکستان میں یہ پٹہ صرف کمزور انسانوں کیلئے کارآمد اور طاقتور ہمیشہ اس قانون کی تضحیک کرتے ہوئے نکل جاتا ہے۔ راہ چلتے عام شہریوں کو اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے جان کا خطرہ لاحق ہو جائے تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صورتحال اس سے زیادہ خراب ہو چکی ہے جتنی ہمیں محسوس ہو رہی ہے۔

19 جنوری 2019 کو لاہور کا ایک خاندان شادی میں شریک ہونے کیلئے بورے والا جا رہا تھا کہ ساہیوال شہر میں کمسن عمیر، اریبہ اور حدیبہ کے سامنے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے ان کے والد خلیل ٗ والدہ نبیلہ اور 13 سالہ بڑی بہن اریبہ کو موت کے گھات اتار دیا۔ انسداد دہشت گردی کے متعدد جوانوں نے گاڑی کو گھیرے میں لے لیا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔گاڑی کا مالک ذیشان بھی اس حادثہ میں ہلاک ہوا جس کے بارے میں بعد میں موقف اختیار کیا گیا کہ وہ مبینہ دہشت گرد تھا۔

محکمہ انسداد دہشت گردی نے دعویٰ کیا کہ یہ پورا گینگ تھا جب پیچھا کیا گیا تو انہوں نے سی ٹی ڈی پر فائرنگ کی اور اس فائرنگ میں ان کے چار افراد کی موت بھی ہو گئی مگر جب عینی شاہدین کی بنائی ہوئی جائے حادثہ کی ویڈیوز سامنے آئیں تو معلوم ہوا کہ یہ سب جھوٹ تھا۔ وہ اکیلی کار تھی ٗ اس میں صرف یہی فیملی موجود تھی اور ان پر بغیر کسی وارننگ کے فائرنگ کی گئی اور وہ نہتے شہری تھے۔ 

جھوٹ پکڑے جانے پر سی ٹی ڈی اہلکاروں کو حراست میں لینا پڑا ۔ عمران خان سانحہ ساہیوال کے بعد شدید صدمے کی کیفیت میں چلے گئے اور انہوں نے فوراً سوشل میڈیا پر ایک ٹویٹ کر کے اپنا حق ادا کر دیا کہ ’’سہمے ہوئے بچوں، جن کے والدین کو ان کی آنکھوں کے سامنے گولیوں سے بھون ڈالا گیا کو دیکھ کر ابھی تک صدمے میں ہوں۔ ریاست اب ان بچوں کا ذمہ لے گی اور ان کی مکمل دیکھ بھال کرے گی‘‘۔ اس دور کے وزیر مملکت برائے داخلہ اور پی ٹی آئی کے جید سیاسی رہنما شہریار آفریدی نے قومی اسمبلی میں دھواں دار تقریر میں فرمایا ’’میں نے جان اللہ کو دینی ہے اور آج میں اس ایوان میں کہو ں گا۔چاہے مجھے اس عہدے سے استعفیٰ کیوں نہ دینا پڑے۔ہم انہیںایسی (سی ٹی ڈی ملزمان کو)مثا ل بنائیں گے جسے صدیوں تک پاکستان کے لوگ یاد رکھیں گے‘‘۔

مگر پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ سانحہ ساہیوال کے تمام ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری 

کر دیا۔ وہ تمام لوگ جنہوں نے ویڈیو بنائی یا جو موقع پر موجود تھے انہوں نے ملزمان کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔ عمران خان معلوم نہیں کیسے صدمے کی حالت سے نکلے۔ شہریار آفریدی نے جان تو اللہ کو دینی ہے مگر وہ عوام کو استعفیٰ نہ دے سکے۔

اپریل 2019 میں اعجاز شاہ کو وفاقی وزیر داخلہ بنایا گیا تو شہریار آفریدی کو وزیر مملکت برائے اینٹی نارکوٹکس فورس بنا دیا گیا اور وہ رانا ثنا اللہ کی منشیات کیس میں گرفتاری کے بعد قومی اسمبلی کے اسی فلور پر کھڑے ہو کر وہی الفاظ دہرا رہے تھے کہ ’’جان اللہ کودینی ہے‘‘ اور قسمیں اٹھا کر استعفیٰ کا اعلان کر رہے تھے۔ ان سے رانا ثنا اللہ والی ذمہ داری لینے کے بعد اب ان کے پاس وفاقی وزیر کے برابر چیئر مین کشمیر کمیٹی کا عہدہ موجود ہے۔ مگر انہیں شاید اپنا استعفیٰ دینا یاد نہ رہا۔

ایسا ہی واقعہ 8جون 2011 کو کراچی کے سرفراز شاہ کے ساتھ پیش آیا جو مبینہ طور پر بینظیر بھٹو شہید پارک میں خواتین کو ہراساں کر رہا تھا۔پارک کے گارڈ نے سرفراز شاہ کو گیٹ کے پاس کھڑے 6 رینجرز اہلکاروں کے حوالے کر دیا یہ واقعہ بھی سانحہ ساہیوال کی طرح میڈیا تک پہنچ گیا کیونکہ وہاں پر موجود ایک صحافی عبدالسلام سومرو نے ویڈیو بنا لی۔

 سرفراز شاہ نہتا تھا ٗ گڑگڑا رہا تھا ٗ رو رہا تھا ٗ منتیں کر رہا تھا معافیاں مانگ رہا تھا مگر 6 رینجرز اہلکاروں نے اسے گھیرے میں لے لیا۔ سپاہی شاہد ظفر نہتے سرفراز شاہ پر گن تان کر کھڑا ہو گیا۔سب انسپکٹر بہا الرحمن نے اسے گولی چلانے کا کہا مگر شاہد ظفر نے فائر نہ کیا۔ جس پر اسے تھپڑ رسید کیا گیا تو اس نے دو فائر کئے۔ 27 سالہ سرفراز شاہ زخمی ہو کر گر پڑا اور اپنی ماں کو یاد کر کے رونے لگا۔ اس نے رینجرز اہلکاروں کی منتیں کیں کہ مجھے ہسپتال لے جائو مگر کسی کے کان پر جون تک نہ رینگی اور اسے مرتا ہوا دیکھتے رہے۔ پھر جب وہ ہسپتال پہنچا تو زندگی کی بازی ہار چکا تھا۔ یہ واقعہ بھی شہریوں پر ہونیوالے مظالم کے درجنوں واقعات کی طرح کہیں گم ہو جاتا اگر اس کی واقعہ کی ویڈیو نہ بنتی اور عوام کے دلوں میں درد نہ جاگتا۔ پورے پاکستان میں ایک کہرام مچ گیا۔فاسٹ ٹریک پر رینجرز کیخلاف اس کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلنے لگاجس پر رینجرز کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ ’’مقدمہ اے ٹی سی میں چلنے سے رینجرز کے نوجوانوں میں بددلی پھیل رہی ہے اس لئے مقدمہ سیشن کورٹ میں منتقل کیا جائے۔‘‘ صرف دو ماہ میں سپاہی شاہد ظفر کو سزائے موت اور دیگر کو عمر قید کی سزا مل گئی۔ لیکن تین سال بعد 2014 میں سپریم کورٹ نے سپاہی شاہد ظفر کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا کیونکہ سرفراز شاہ کے ورثا نے شاہد ظفر کو معاف کر دیا۔

اسامہ ستی کے والد کا کہنا ہے کہ اسامہ کا ایک روز قبل پولیس اہلکاروں سے کوئی تنازع ہوا تھا جس پر اسے دھمکی دی گئی کہ ’’ہم تمہیں مزہ چکھائیں گے‘‘۔ کیا معلوم ندیم ستی کے اس الزام میں کتنی صداقت ہو؟ لیکن پولیس کے موقف کو سنا جائے تو سب بات واضح ہو جاتی ہے ’’ڈکیتی کی کال چلنے پر مشکوک معلوم ہونے پرکالے شیشے والی گاڑی کو اے ٹی ایس اہلکاروں نے روکنے کی کوشش کی اور گاڑی نہ روکنے پر فائرنگ کے نتیجے میں اسامہ ستی کی ہلاکت واقع ہوئی‘‘۔ 

اسلام آباد کا اسامہ ستی بھی ایسے ہی ظلم کا نشانہ بنا ہے۔ اسے نہ گرفتار کیا گیا ٗ نہ اس پر کیس بنایا گیا ٗ نہ اسے قانون کے کٹہرے میں لایا گیا بلکہ ہوا یہ کہ فرنٹ سے گاڑی کی ونڈ سکرین پر سیدھی فائرنگ کر کے ایک نوجوان کو قتل کر دیا گیا ٗ ایک گھرانے کو اجاڑ دیا گیا۔عمران خان ضرور اسامہ ستی کی تصاویر دیکھ کر صدمے میں ہوں گے اور ضرور کسی حکومتی وزیر نے اس موقع پر اللہ کو جان بھی دینی ہو گی لیکن یقین واثق ہے کہ اسامہ ستی کے قاتلوں کو کچھ نہیں ہونے والا۔


ای پیپر