نوکری برائے فروخت
05 جنوری 2021 (11:51) 2021-01-05

سب سے پہلے آپ تجمل حسین کیس کے بارے میں مختصر جان لیں۔

فروری2019ء میں ایف آئی اے ( FIA)کو خبر ملی کہ سی ایس ایس کے پیپرفروخت ہو رہے ہیں اوریہ معاملہ کئی سال سے جاری ہے جس میں کئی اہم ترین نام ملوث ہیں۔ابتدائی طور پر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر تجمل حسین نقوی کا نام سامنے آیا(تجمل اس وقت پی ایم ایس بھی پاس کر چکا تھا)۔ ایف آئی اے نے لاہور میں واقع تجمل حسین نقوی کے گھر (کچا لائنز روڈ )پر چھاپہ مارااور تجمل حسین گرفتار ہو گیا۔معاملے کی کارروائی ہوئی تو انکشاف ہوا کہ اس میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن بلوچستان کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر خالد حسین مغیری‘ پنجاب پریزن ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اویس شریف اور ملتان ریجن کے ٹیکس آفیسر انسپکٹر سجاد علی ملوث ہیں۔ایف آئی اے کی کارروائی سے ان مجرمان کے اکائونٹس میں سی ایس ایس کے امتحانات سے قبل لاکھوں روپے کی ٹرانزیکشنز کا بھی انکشاف ہوا ۔انگریزی اخبار روزنامہ ڈان نے18فروری 2019ء کو اس خبر کو شائع کیا اور یوں یہ معاملہ پورے ملک میں میڈیا کی زینت بن گیا۔کچھ دن تک لوگ ایف پی ایس سی اور دیگر ملک کے اہم ترین اداروں کو برا بھلا کہتے رہے اور مجرمان کے خلاف بھی چاج شیٹس تیار ہوئیں لیکن چند ہی ماہ بعد یہ معاملہ بھی فائلوں میں دب گیا‘ جیسے پاکستان کے کئی اہم اور حساس واقعات قانون کی فائلوں میں مدتوں پہلے دب چکے۔ میں نہیں جانتا کہ پاکستان کے سب سے اہم امتحان سی ایس ایس ( CSS) کے پرچے بیچنے‘ خریدنے اور اس سال پاس ہونے والے امیدوارو ں کے ساتھ کیا ہوا اور آج وہ سب لوگ کہاں ہیں۔ مگر یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اگر ان مجرموں کو عبرت ناک سزا دی گئی ہوتی تو یقینا آج پنجاب کے اہم ترین ادارے پنجاب پبلک سروس کمیشن ( PPSC) کا یہ حال نہ ہوتا۔

ایک ہفتہ قبل میڈیائی ذریعے سے یہ خبر مجھ تک پہنچی کہ پیپر فروخت ہو رہے ہیں‘مجھے اس پر یقین نہ آیا اور اس کی پڑتال شروع کر دی۔جوں جوں اس معاملے میں شامل ہوا‘حیران کن خبریں موصول ہونے لگیں۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر‘اسسٹنٹ پولیس آفیسر‘ اسسٹنٹ اینٹی کرپشن‘ لیکچرار کیمسٹری‘ تاریخ‘ ایجوکیشن‘ فزیکل ایجوکیشن سمیت کئی اہم ترین پرچہ جات انتہائی سستے داموں فروخت ہونے کے انکشافات ہونے لگے۔اس میں نوسرباز بھی اپنی نوسربازی سے لوگوں لوٹتے رہے اور پیپرز کا جھانسا دے کر لاکھوں روپے بٹورتے رہے ۔پی پی ایس سی کی طرف سے امیدواران کے احتجاج کو ناصرف نظر انداز کیا گیا بلکہ اسے بے بنیاد قرار دے کر من پسند ٹی وی چینلز سے اپنی مرضی کے پروگرامز تک نشر کرائے گئے۔سیکرٹری پی پی ایس سی کی ذاتی اکیڈمی کا ذکر آیا تو وہ اس سے لاتعلق ہو گئے۔چیئرمین صاحب کی طرف سے بھی ایک واٹس ایپ ’’وائس نوٹ‘‘ جاری کیا گیاجس میں وہ حلف دینے کو بھی تیار تھے کہ مجھے اس معاملے کا علم تو نہیں مگر پی پی ایس سی کے ایگزام کمیٹی میں کئی لوگ ایسے تھے جن کے خلاف پیپر بیچنے کی خبریں آئی تھیں ‘میں نے ان کے خلاف انکوائری کرائی جس پر یہ پراپیگنڈا ہو رہا ہے۔امیدواران کے مسلسل احتجاج اور عدالتی کارروائیوں کے باوجود پی پی ایس سی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ جب خفیہ ذرائع سے یہ معاملہ محکمہ اینٹی کرپشن تک پہنچا تو انہوں نے خفیہ ٹیم کے ذریعے مجرموں کو پکڑا‘یہ بات یقینا زائد ہوگی کہ ٹیم نے کیسے خفیہ کارروائی کی اور کتنی مہارت سے تین دنوں میں یہ معاملہ نمٹا دیا۔

میرا مقصد پی پی ایس سی کے تمام افسران اور ادارے کے تمام لوگوں پر تنقید نہیں مگر میں اس بات سے یقینا حیران ہوں کہ اس سطح کی کرپشن کہانی سے چیئرمین اور سیکرٹری کیسے بے خبر رہے حالانکہ پیپر بیچنے والا شخص ڈیٹا انٹری آپریٹر تھا جو سیکریسی کے لحاظ سے ادارے کی اہم ترین پوسٹ ہے کیونکہ تمام پیپرز چیئرمین کی منظوری کے بعد یہی شخص انٹر کرتا تھا اور کرپشن کہانی کھلنے پر اس کی یو ایس بی(USB) سے سابقہ کئی پیپر بھی برآمد ہو گئے۔اب اس مسئلے کا حل تو یہ ہے کہ کم از کم گزشتہ ایک ماہ میں ہونے والے تمام پیپر کالعدم قرار دیے جائیں‘ تمام نتائج منسوخ کیے جائیں اور دوبارہ سے ٹیسٹ کا نیا شیڈول جاری کیا جائے تاکہ اس کرپشن کہانی کا ازالہ کیا جا سکے۔ کیونکہ 

ہزاروں امیدوار ناصرف عدالت میں رٹ کرنے جا رہے ہیں بلکہ بہت بڑی سطح کا احتجاج بھی ہونے جا رہا ہے جس کا بنیادی مقصد گزشتہ تمام پیپرز کالعدم قرار دلوانا ہے۔ 

میرے کئی دوست اس وقت پی پی ایس سی اور دیگر پوسٹوں کے امتحانات کی تیاری میں مصروف تھے‘اس واقعے کے بعد درجنوں سٹوڈنٹس کو روتے ہوئے بھی دیکھا جن کا کہا تھا کہ’’ بھائی اگر میرے پاس پانچ یا دس لاکھ نہیں ہے تو کیا میں قابل نہیں؟اگر میں ایک غریب طالب علم ہوں تو کیا میں اس ملک کا شہری نہیں؟میرا باپ اگر محنت مزدوری کرتا ہے تو کیا پی پی ایس سی مجھے نوکری نہیں دے گا؟‘‘یہ وہ سوالات ہیں جو اگرچہ مجھ سے کیے گئے مگر سچ یہ ہے کہ یہ تمام سوالات حاکم ِ وقت سے ہوئے‘یہ تمام سوالات نوکری دینے والے سب سے اہم اور بڑے اداروں سے کیے گئے۔اس ملک کے نوجوانوں کو ایف پی ایس سی اور پی پی ایس سی پر اعتماد تھا کہ یہ ہمارا حق کبھی غصب نہیں ہونے دیں گے مگر آج پاکستان کا غریب پڑھا لکھا نوجوان خالی ہاتھ حیرت کی تصویر بنا کھڑا ہے۔قارئین میرے پاس ان سوالوں کا اور نوجوانوں کی حیرت کا خاموشی اور افسوس کے سوا کوئی جواب نہیںکیونکہ آج صرف چار لوگ پکڑے گئے لیکن کیا صرف یہی چار لوگ یہ کام کر رہے تھے؟یا یہ گینگ کہاں کہاں تک پھیلا ہوا ہے‘اس گینگ کے پیچھے کون کون لو گ ہیں اور کون سے بڑے لوگ اس کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ان تمام لوگوں کو کٹہرے میں لانا ہوگا کیونکہ یہ معاملہ اگر اب بھی دبا دیا گیا تو کم از کم ہم اپنی آنے والی نسلوں کو یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ’’بیٹا پڑھائی کرو تاکہ تمہیں اچھی نوکری مل سکے اور تم شعور حاصل کر سکو‘‘۔شعور تو شاید اسے آ جائے گا مگر نوکری کیسے ملے گی جب نوکری دینے والے اداروں میں یہ شور مچ جائے کہ ’’نوکری برائے فروخت‘‘ہے۔لہٰذا خدا را اس ملک کے نوجوانوں پہ رحم کیا جائے اور ایف پی ایس سی اور پی پی ایس سی جیسے اہم ترین اور شفاف اداروں کی ساخت کو بچایا جائے۔


ای پیپر