عطاء اللہ خان کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے میں قباحت کیا؟
05 جنوری 2021 (11:49) 2021-01-05

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک آدمی سمندر سے ایک مچھلی پکڑ کے لایا اور اسے اپنے گھر میں موجود کنویں میں ڈال دیا۔

اس کنویں میں مینڈکوں کی حکومت تھی۔ مینڈکوں نے جب ایک نئی چیز دیکھی تو پہلے تو وہ ڈرے گھبرائے دور دور گھومنے لگے۔ آخر ایک بڑے مینڈک نے ہمت دکھائی اور مچھلی کے تھوڑا قریب گیا اور پوچھا: تم کون ہو ؟

میں مچھلی ہوں ! مچھلی نے جواب دیا۔ مینڈک : تم کہاں سے آئی ہو؟مچھلی : سمندر سے۔مینڈک : وہ کیا ہوتا ہے؟…مچھلی : وہ بہت بڑا ہوتا ہے۔ اور اس میں پانی ہوتا ہے۔مینڈک نے کہا : کتنا بڑا ؟مچھلی : بہت بڑا۔یہ سن کر مینڈک نے اپنے گرد چھوٹا سا گول چکر کاٹا اور پھر مچھلی سے پوچھا : کیا اتنا بڑا ہوتا ہے ؟مچھلی مسکرائی اور بولی نہیں بڑا ہوتا ہے۔ مینڈک نے تھوڑا بڑا چکر لگایا اور کہا اتنا بڑا ؟مچھلی ہنسی اور کہا نہیں بڑا ہوتا ہے۔  مینڈک اب جوش میں آ گیا اور اس نے آدھے کنویں کا چکر لگا کر مچھلی کی طرف دیکھا، جیسے پوچھ رہا ہو کہ اب ؟مچھلی نے پھر نفی میں سر ہلایا۔اب تو مینڈک نے پوری رفتار سے پورے کنویں کا چکر لگایا اور مچھلی سے کہا کہ اب اس سے بڑی تو کوئی چیز نہیں ہے۔مچھلی مسکرائی اور مینڈک سے کہا : تمہارا قصور نہیں ہے کہ تمہاری سوچ ہی اس کنویں تک ہے۔

اسی طرح ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ بھی ایسے ہوتے ہیں جن کی سوچ اس کنویں کے مینڈک کے برابر ہوتی ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ وہی اپنے عقائد اور نظریات میں سچے اور کھرے ہیں۔ ایسے لوگوں سے لڑائی یا بحث کرنے کے بجائے ان کو ان کے حال پر چھوڑیں اور ان کی سوچ پر مسکرا کر آگے نکل جائیں۔خان صاحب! عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی اس قدر بھی ایسے شخص نہیں ہیں کہ جن کے بارے میں بدگمانی یا دوسری کوئی رائے قائم کی جائے۔ پھولوں کے ساتھ کانٹوں کا ہونا ایک فطری عمل ہے ۔ایسے عیسیٰ خیلوی کے در پے بھی کوئی مفاد پرست ٹولہ ہو گا جو یہ قطعاً نہیں چاہتا 

ہو گاکہ عیسیٰ خیلوی سیاست کے میدان میں آگے آئیں اور اپنی فہم و فراست کے بل بوتے پر غریب عوام کے لیے کچھ کر گزریں۔سیاست میں موروثیت کو قطعاً عمل دخل نہیں ہے۔یہ تو وہ میدان ہے کہ جو مرضی سیاسی پہلوان آئے اور اپنی فہم و فراست اور فکر و عقل کے جوہر دکھائے جب کہ خان صاحب عیسیٰ خیلوی کو عرصہ دراز سے جانتے ہیں اور گاہے گاہے ان کی سیاسی کوششوں کا دم بھی بھرتے رہتے ہیںجبکہ کسی بھی عہدے کے سلسلے میں خان صاحب نے عیسیٰ خیلوی کے ساتھ بقول شاعر

گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

کچھ تو اے خانہ بر اندازِ چمن ادھر بھی

جناب عالی! دنیا میں بہت کم ممالک،شہر یا بستیاں ایسی ہوں گی جن کی وجہ شہرت صرف ایک ہی شخص بنا ہوگاپھر وہ شہر،وہ بستی، وہ گاؤں اُسی ایک ہی شخص سے شہرت عام بقائے دوام کی تمام سرحدیں پار کر گیا۔ عیسیٰ خیل جیسی گمنام، ہر لحاظ پسماندہ اور دور افتادہ بستی اگر فجی کے جزائر سے لیکر بحرِ اوقیانوس اور پوری دنیا میں پہچانی جاتی ہے تو اس پہچان کا سہرا فرزندِ میانوالی پرائیڈ آف پرفارمنس، ستارہ امتیاز ’’عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے سر جا تاہے۔ واضح رہے کہ عیسیٰ خیلوی دنیا کا وہ واحد گلوکار ہے جو اپنے فن کا خود ہی موجد ہے اور خود ہی خاتم ہے۔ یہ وہ فنکار ہے جس نے اپنے قبیلے، اپنی ذات اور خودی سے بغاوت کرکے ملک و قوم کا نام روشن کیا اور ایسا روشن کیا کہ رہتی دنیا تک دنیا اس کے گیت گائے گی اور لوک موسیقی کو ایسا دوام اور پائیداری بخشی کہ سرائیکی اور پنجابی زبان خود اس پر فخر کرنے لگی…جب بات آئی شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لئے چندہ اکٹھا کرنے کی… تو اس شخص نے اندرون اور بیرون ملک میں اپنی خدمات عمران خان کے سپرد کر دیں۔یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ شوکت خانم کینسر ہسپتال کی بنیادوں میں عطاء اللہ عیسیٰ خیل خیلوی کی شب و روز کی محنت شامل ہے۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال کی چندہ اگاہنے کی تاریخ میں عیسیٰ خیلوی بلا کم و کاست سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔اب آتے ہیں سیاست کی طرف اور خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی مہم کی طرف عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی وہ سیاسی کارکن تھا جس نے ’’جناب‘‘ کے شانہ بشانہ دن رات ایک کر دیا۔بغیر کسی صلے اور ستائش کے لالا نے آپ کے ہر جلسے کو کامیاب بنانے کی حتی المقدور کوشش کی حتیٰ کہ کئی کمپین کیمپوں کی خود سر پرستی کی۔ آپ نے دامے ،درمے، سخنے پاکستان تحریک انصاف کی بھرپور خدمت کی پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ عیسیٰ خیلوی کے ایک ترانے نے عوام کے دلوں کو گرما دیا اور ثابت کر دیا کہ واقعی ہی ’’عمران‘‘آئے گا اور ’’عمران‘‘آگیا۔ پاکستان تحریک انصاف کو کامیابی ملی اور عمران خان صاحب کی حکومت بن گئی۔ عمران خان صاحب کی کامیابی میں یہاں پوری تحریک کا 50فیصد رہا وہاں اکیلے اور تن تنہا ’’عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی‘‘کا پچاس فیصد حصہ ہے اس امر سے بالکل انکار ممکن نہیں مگر یہ درویش صفت اور عقاب جیسی خوبیوں کا مالک شخص خوداری کی شال اوڑھ کر اپنی کٹیا میں آگیااور’’سب مایا ہے سب مایا ہے‘‘ کا راگ الاپنے لگا۔ پنجابی کا ایک اکھان ہے کہ ’’ جہنوں بیٹھا نئیں دسدا اوہنوں کھلوتا وی نئیں دسدا…’’شاید عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے ذہن میں بھی یہ بات آگئی ہو۔یہ بات محض میری قیاس آرائی پر مبنی تھی مگر وقت نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ بات سچ ہی تھی۔جناب وزیراعظم صاحب آپ سے گزارش کہ فرزند میانوالی، دور اندیش سیاستدان،اس درد دل رکھنے والے انسان جنہیں دنیا عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے نام سے جانتی ہے، انہیں ’’سینیٹ‘‘ کے الیکشن کاٹکٹ عطا کیا جائے اور اس کی سیاسی بصیرت سے بھر پور فائدہ اٹھا یا جائے کیونکہ عیسیٰ خیلوی صاحب ایک جہاندیدہ انسان ہیں۔ انہوں نے دنیا دیکھ رکھی ہے۔ ان کی سوچ سمندر کی وسعتوں کو جانتی ہے۔ وہ کنوئیں جیسی محدود سوچ کے مالک نہیں ہیںلہٰذا ان کوسینیٹ کا ٹکٹ دینے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔


ای پیپر