K.C. Singh,ambassador,iran,uae,india,modi,Communal,Glass House
05 جنوری 2021 (08:45) 2021-01-05

ممبئی : انڈیا کے ایران اور یو اے ای میں سابقہ سفیر  کے سی سنگھ نے کہا ہے کہ خود مودی کے بنائے ہوئے فرقہ وارانہ شیشے کے گھر میں رہتے والے پاکستان پر پتھر پھینکنا بے وقوفی ہے ٗ پاکستان نے مندر کی دوبارہ تعمیر کا اعلان کیا اور ملزموں کو گرفتار کیا لیکن جب انڈیا میں کوئی مسجد شہید ہوتی ہے تو کوئی دوسرا ملک کیوں انڈیا کی خود مختاری کو چیلنج نہیں کرتا ؟۔

تفصیلات کے مطابق دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت کی طرف سے ان د نوں پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ کا سلسلہ جاری ہے اور خیبر پختونخواہ میں مندر کی تباہی والے واقعہ کو لے کر پاکستان پر تنقید کروائی جا رہی ہے لیکن ایسے موقع پر خود انڈیا کے رہنے والے معزز شہری انڈیا کو لعن طعن کرنے میں مصروف ہیں کہ پہلے وہ اپنے ملک کو تو بہتر کر لے۔

ایران اور یو اے ای میں انڈیا کے سابقہ سفیر کے سی سنگھ نے انڈیا میں اقلیتوں کی حالت کے بارے میں ایک مضمون لکھا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا جس میں کے سی سنگھ نے انڈیا کو اصل چہرہ دکھایا ہے۔ کے سی سنگھ نے کہا کہ یہ بے وقوفی ہے کہ پاکستان پر پتھر پھینکے جائیں جبکہ مودی کا انڈیا خود فرقہ وارانہ فسادات کا شیشے کا گھر بنا ہوا ہے۔اگر انڈیا پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتا ہےتو انڈیا میں رہنے والی اقلیتیں ٗ خاص ًطور پر مسلمان اپنے ساتھ ہونے والے برے سلوک کے بارے میں آواز بلند نہیں کرتے۔

کے سی سنگھ نے مزید لکھا کہ ایسی خبریں ہیں کہ انڈیا پاکستان کو ایک احتجاج خط لکھ رہا ہے کیونکہ پاکستان میں خیبر پختونخواہ میں ایک مندر تباہ کیا گیا ہے۔ لیکن اس موقع پر میری یہ ٹویٹ کیوں وائرل ہوئی جس میں میں نے لکھا تھا کہ ’’یہ کس طرح کا یکطرفہ پن ہے ؟ ٗانڈیا پاکستان میں مندروں کی تباہی پر سوال اٹھا رہا ہےجبکہ پاکستانی حکومت نے اس واقعہ کے ملزمان کو گرفتار کر کے اس کو برا فعل قرار دیا ہے لیکن جبکہ کوئی جتھہ انڈیا میں مسجد کو بے حرمتی کرتا ہے تو کوئی دوسرا ملک انڈیا کی خود مختاری پر سوال نہیں اٹھاتا۔

کے سی سنگھ کا یہ آرٹیکل انٹرنیٹ پر وائرل ہو چکا ہے اور اس کے اب تک ہزاروں شیئر ہو چکے ہیں اور انڈیا بھر میں اس موقف کو بہت پسند کیا جا رہا ہے۔


ای پیپر