کرپشن سزا کے ڈبل سٹینڈرڈز
05 جنوری 2021 2021-01-05

وزیراعظم براہ راست کرپشن پر یقین نہیں رکھتے البتہ ان کے حواری دیرینہ دوست اور ہمدم خاص ایسا کام کر بیٹھیں تو بھی ان کا شمار میاں نواز شریف وغیرہ میں نہیں ہوتا کیونکہ وزیراعظم کے نزدیک چوری چوری میں بھی فرق ہوتا ہے وزیراعظم کرے تو چورڈاکو ویسے کوئی بڑاانڈسٹریل اونر کرے تو معاملہ اتنا خطرناک نہیں تمام تر انتخابی مہم میں اور بعدازاں حکمران بننے کے ایسے تمام سبسڈی ہولڈر شوگر مافیہ کے حوالے سے نہایت شستہ الفاظ اور نرم لہجہ اور پھر بھی مسٹر کلین کا دعویٰ؟

بلوچستان کے سابقہ وزیراعلیٰ یاد آگئے کرپشن تو کرپشن ہوتی ہے وزیراعظم کرے یا وزیراعلیٰ بننے کا امیدوار بات تو ایک ہی ہے البتہ جمہوریت کے تقاضے اور ہیں۔ ماں کو اپنا نکما، کوجھا بچہ آسمان کا چاند لگتا ہے جبکہ یہی کرتوت ہمسائے کے بچے کے ہوں تو کھٹکتے ہیں۔ 

میں بطورخاص وزیراعظم کا چہرہ اس وقت غورسے دیکھتی ہوں جب وہ علیم خاں اور جہانگیر ترین کی کرپشن پر دائیں بائیں سرمارتے ہوئے یورپ کی عدالتوں کے قصے سنانے لگتے ہیں، جب انہیں بزدار کی کارکردگی کو ڈیفنڈDefendکرنا پڑتا ہے جب وزیرہوابازی کی ”بونگی“کوسچ کی جہالت پر تولناپڑتا شاید انہیں پتہ نہیں کہ جتنا بڑا دعویٰ وہ کرچکے ہیں اُس کی سولی پر پل پل لٹکنا پڑتا ہے کرپشن سے بھرپور معاشرے کا وزیراعظم ہونا اور خود کو کیچڑ سے الگ سمجھنا ویسے ہی غیرمنطقی بات ہے موصوف کو پاکستان کاسب سے زیادہ ایماندار آدمی کہلانے کا شوق ہے اور وزیراعظم بننے چلے کرپٹ ترین ملک کے (بقول ان کے) ہم تو اتنا دیانت دار شخص دیکھ کرویسے ہی گھبرا گئے ہیں اس دنیاکو بھارتی دھرم شکشامیں، کل یگ، کہتے ہیں جہاں بڑے بڑے رشی منیوں اور ماتاﺅں کو اگنی پرکشا سے گزرنا پڑا سب پر الزام لگے اور سب نے خود کو جلتی آگ کی بھٹی سے گزارا.... دنیائے عرب کے صحرا گواہ ہیں کیسے کیسے پیغمبران دین اور اولیاءکو کیسی کیسی آزمائشوں سے گزرنا پڑاسچ کو ثابت کرنا کیا ایسا ہی آسان ہے؟

آج کیوں نہ سچ اور ایمان داری کی تعریف ، پر ہی کچھ بات ہوجائے سچ اوردیانت داری کی تعریف ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں میں الگ ہے۔

ترقی یافتہ ملک (جن کا موصوف ذکرکرتے ہیں) دفتر میں دیر سے آنے سرکاری مالی وملازم کو بڑے افسران کی بیگمات کی تحویل میں دینے کو بھی کرپشن سمجھتے ہیں ان کے ہاں کرپشن کی محض ایک صورت ”کرنسی“ ہی نہیں ہوتی وقت کی چوری کام کی چوری عہد توڑنا پیمان کی بے عزتی یوٹرن ،لاعلمی (نالائقی) کم فہمی سمیت ”سرجن“ کی سیٹ پر بیٹھ جانا اور استراپکڑنا نہ آنا بھی شامل ہے۔

ایسا شخص جو اپنی جوانی نبی اکرم کی پاکیزگی کی روشن راہ پر چلانا ہے اس کے کردار کی گواہی دروبام دیتے ہیں اقبال نے جاوید اقبال کو دُعا دی تھی 

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی

خدا کرے جوانی تری رہے بے باک 

اڑسٹھ سال کی عمر میں سب تسبیح پکڑ لیتے ہیں .... بقول بابا بلھے شاہ 

تسبیح پھری پر دل نہ پھریا 

لینا کی تسبیح ہتھ پھڑ کے 

ذاتی کردار وجوانی کا حساب تو چلوبندے اور خداکے بیچ ہے مگر بندہ ¿ خدا خلق خدا کا حساب بھی بندے اور خدا کے بیچ ہی ہونا ہے کیا بزدار ، کو لائق آدمی ثابت کرنا بددیانتی نہیں کیا ایسے شخص کو انتہائی بڑے اور ذہین ترین صوبے کا سربراہ بنانا بددیانتی نہیں اور کیا بددیانتی کو ” کرپشن“ نہیں کہتے؟ آپ انتہائی اہم سیٹوں کی بندربانٹ اپنی ضد کو نبھانے پر لگادیں یہ کرپشن کی انتہائی صورت ہے یہ سیٹیں ہماری ذاتی نہیں ہوتیں انہی پر اصل حساب ہونا ہے یہاں بھی اور ”وہاں“ بھی....

کبھی کبھی بہت ڈرلگتا ہے کہ ہم سے زندگی میں نہ جانے کبھی کسی کا دل دکھ گیا تو اپنی بھی ایسی دل آزاریاں ہوئیں مگر سن رسیدہ اہم ترین سیٹ پر بیٹھے انسان کو چورڈاکو چورڈاکو کی گردان کرتے خوف نہیں آتا یہ انصاف کا ترازو بہت مشکل پسند ہے۔

جب انسان خود”کڑکی“ میں آتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے منصبی دنیا کا سب سے مشکل کام ہے اللہ سے رحم مانگنا چاہیے انصاف نہیں کہ انسان خود اس کی زد میں آجاتا ہے۔ 

بڑے سے بڑے عبادت گزاروں نے اپنی توصیف کے موقع پر کہا کہ ”من آنم کہ من دانم“ یہ پارسائی کا دعویٰ بہت مشکل مقام ہے صاحب اس سے گریز فرمائیے قدرت ہروقت چانٹا ہاتھ میں تھامے حملہ آور ہونے کو تیار رہتی ہے یہ درست ہے کہ میاں نواز شریف نے خود کو پارسا اور زرداری کو کرپٹ ترین ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مسٹر ٹین پرسنٹ کرپٹ ترین اور نہ جانے کیا کیا بعدازاں اتنی ”پھٹکری“ زرداری کی نہیں لگی جونوازشریف کا حال ہوا اگر اسے آپ اپنی کامیاب پروپیگنڈہ مہم سمجھتے ہیں تو ذرا خودکریں اس کے علاوہ بھی آپ کو دست قدرت میں وہ ان دیکھا ”چھانٹا “ نظر آئے گا جس کے لیے الزام تراش کو تیار رہناچاہیے ہم نے تو ہمیشہ مطلقہ بیویوں کو گالیوں کا تحفہ دیتے ہی دیکھا ہے خیر آپ کا تین سو کنال کا گھر بھی ٹھیک آپ کا دیگر آپ کے کولیگیز کی نسبت کم دولت مند ہونا بھی درست مگر چورڈاکو کی گردان کی بجائے ان کے انجام کی خبر دیجئے اور اگر آپ ان کا انجام نہیں کرسکتے تو ہماری طرح خاموش رہے کہ ”تبدیلی “ لانا آپ کے بس کی بات نہیں یہ کام بڑے بڑے بزرگان دین ہی کرتے ہیں ہم آپ ایسے دنیا دار نہیں خود کو پارسا سمجھنا بند کردیں آپ نہایت کرپٹ ملک کے سربراہ ہیں اور بڑے شوق سے بنے ہیں لہٰذا آپ بھی اسی کیچڑ کا حصہ ہیں۔ہم آپ کے پرستاروں سے جب بھی پوچھتے ہیں کہ وہ آپ کے دورحکومت کے کوئی ایک یا دو کام بتائیں تو وہ کبھی بے نظیر انکم سپورٹ کو احساس پروگرام کا نام دینا کہتے ہیں اور کبھی عارضی پناہ گاہیں بنانے کا سہرا باندھتے ہیں آپ کے رموز حکمت سے لاعلمی پر بغلیں جھانکتے ہیں چاک وچوبند اور تیز طراز میڈیا پر سنز اینکر صحافیوں کے آگے بے چارے نوآموز ورکر کارکردگی ومہنگائی کے ذکر پر ہکلانے لگتے ہیں کہ ان پر ترس آنا شروع ہوجاتا ہے اب زیتون کے درخت لگانے کا آپ نے سوچا ہے ان کے بڑے ہونے تک تو ایک غالب ہی جواب دے سکتا ہے 

 خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

ابھی تو انڈوں سے چوزے نہیں نکلے ابھی تو بکی ہوئی بھینسوں سے نواز شریف کی دولت کا ذرا بھی واپس نہیں ہوا مرادسعید کے اربوں ڈالر واپسی کی راہ دیکھ رہے ہیں ابھی تو ہم نے قرضے بھی اغیار کے منہ پر مارنے ہیں (اغیار سے میاں شہباز شریف یاد آگئے) ابھی تو شمالی علاقہ جات سے سیاحت کی کمائی بھی نہیں آئی ابھی تو KPکے درختوں کا اعدادوشمار بھی سیدھا کرنا ہے کہ قوم اب زیتون کے باغ لگائے گی .... آخرمیں ہمیشہ شعر ہوتا مگر آج لطیفہ بنتا....

ایک شخص کو قرض لینے کی اور بعدازاں واپسی کے تقاضے پر لمبی لمبی چھوڑنے کی عادت تھی اس کا ایک قرض خواہ بھی ایسا ڈھیٹ نکلا کہ ہروعدے پر تقاضا کرنے پہنچا اور بالآخر حتمی تاریخ لینے پر قائل کرلیا جوکہ مقروض نے کچھ اس طرح دی .... کہا وہ درختوں کی خشک ٹہنیوں کو دیکھو.... جی دیکھا.... ان پر بہار میں ہریالی پھوٹے گی.... جی ....بھرپور گرمی آئے گی .... جی آئے گی برساتوں کا پانی بھی برسے گا.... پھر جب تم چڑھے سال ادھر سے گزروگے تو ”انبیوں پہ بور“ آئے گا (آم اُگنے سے پہلے کا مرحلہ) تب میں تمہیں قرض واپس کروں گا .... تقاضا کرنے والا بے ساختہ ہنس پڑا.... مقروض بولا.... دیکھا رقماں تردیاں نظر آئیاں ہاسے تے آنے نیں۔


ای پیپر