پولیس کے ’ ’ بابائے بدی“ بددعائے گئے !
05 جنوری 2021 2021-01-05

پولیس کے حال ہی میں تبدیل ہونے والے ” بابائے بدی“ نے تخت لاہور کا وارث بننے سے ایک روز پہلے مجھ سے تقریباً پون گھنٹہ طویل گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا وہ ایک آدھ روز میں تخت لاہور کے وارث بننے والے ہیں۔ مجھے ان کی بات سن کر بڑی حیرانی ہوئی کہ جس پولیس افسر کی ترقی اس کی بددیانتیوں اور بداخلاقیوں کی بنیاد پر خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ پر رد ہو گئی ہو، پہلے پروموشن بورڈ نے رد کی ہو، پھر وزیر اعظم نے بھی پروموشن بورڈ کے فیصلے سے اتفاق کیا ہو، اس پولیس افسر کو تخت لاہور کا والی وارث کیسے بنایا جا سکتا ہے؟۔ لوگوں کو ہر وقت ایمانداری کا درس دینے والے کرپشن کے خلاف جذبہ جہاد رکھنے والے وزیر اعظم ایک بددیانت و بداخلاق پولیس افسر کو تخت لاہور کا وارث کیسے بنا سکتے ہیں؟۔ مجھے تب تک اس کا یقین نہیں آیا جب تک اس تقرری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن نہیں ہو گیا۔ اس نوٹیفکیشن پر میرے اس تاثر کو مزید تقویت ملی وزیر اعظم کو بے وقوف بنانا بڑا آسان ہے۔ پھر یہ خبریں آئیں یہ تقرری اصل میں وزیر اعظم نے اپنے ایک مشیر خاص کی خاص سفارش پر کی ہے۔ اس تقرری کے لئے وزیر اعظم کو بتایا گیا تھا ”لاہور میں اب تک جیتنے افسران کو بطور سی سی پی او لگایا گیا ان سب کا کسی نہ کسی حوالے سے سابق شریف حکمرانوں کے ساتھ خصوصی تعلق ہے۔ ان افسران کی سروس بھی ابھی مزید کئی سال باقی ہے۔ سو وہ اس توقع کے تحت موجودہ حکومت کا کھل کر ساتھ نہیں دے رہے کہ شریف برادران پھر سے اقتدار میں آئیں گے۔ پولیس کےبابائے بدی“ کی ریٹائرمنٹ میں چونکہ صرف ایک سال باقی رہ گیا ہے، اور وہ اس فکر سے آزاد ہے کہ موجودہ حکومت کا کھل کر ساتھ دینے سے شریف برادران دوبارہ اقتدار میں آ کر اس کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی کر سکتے ہیں ،سو یہ پولیس افسر کھل کر پی ٹی آئی کا ساتھ دے گا۔ لاہور سے نون لیگ کا صفایا کر دے گا.... یہ حکمرانوں کی خام خیالی تھی۔ جنرل ضیاءالحق مرحوم ایڑی چوٹی کا پورا زور لگا کر پیپلز پارٹی ختم نہ کر سکا۔ جنرل مشرف اپنی اندھی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کر کے نون لیگ ختم نہ کر سکا۔ ایک بددیانت و بداخلاق پولیس افسر سے کیسے یہ توقع کی جا سکتی تھی وہ لاہور سے نون لیگ کا صفایا کر دے گا؟؟؟ حکمران اگر واقعی اس یقین میں مبتلا تھے ان کی عقل پر باقاعدہ ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے.... اسے تعینات کرنے کی ایک وجہ کا اظہار وزیر اعظم نے بھی اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کر دیا۔ مجھے وزیر اعظم کے اس ”انکشاف“ پر بڑی حیرت ہوئی کہ ” بابائے بدی“ کو تخت لاہور کا وارث اس لئے بنایا گیا تھا اس کے بہنوئی کے پلاٹ قبضہ ہوا تھا جسے لاہور کا کوئی پولیس افسر چھڑوا نہیں رہا تھا۔ سچ پوچھیں وزیر اعظم کی اس بات پر مجھے سخت تشویش ہوئی۔ میں نے سوچا جو شخص اپنے ذاتی رازوں کی حفاظت نہیں کر پا رہا ، اللہ اسے قومی رازوں کی حفاظت کی توقیق عطاءفرمائے.... وزیر اعظم کا خیال شاید یہ تھا ” بابائے بدی“ تخت لاہور کا وارث بننے کے بعد جرائم کا مکمل طور پر خاتمہ کر دے گا۔ نہ صرف یہ کہ ان کے بہنوئی کے پلاٹ کا قبضہ انہیں واپس دلوا دے گا، بلکہ ہو سکتا ہے اس پلاٹ پر ایک شاندار گھر بھی انہیں بنوا کر دے دے۔ اس کے علاوہ دیگر جن لوگوں کے پلاٹوں، زمینوں اور جائیدادوں پر ناجائز قبضے ہوئے ہوئے ہیں” بابائے بدی“ وہ سارے چند دنوں میں ہی ختم کروا کر، علاوہ ازیں سارے بدمعاش غنڈے وغیرہ ختم کروا کر لاہور کو امن کا ایسا گہوارا بنا دے گا جس سے موجودہ حکمرانوں کوآئندہ الیکشن میں کم از کم لاہور سے کلین سویپ کرنے کا موقع مل جائے گا.... افسوس پولیس کا یہ ” بابائے بدی“ سوائے باتیں کرنے کے ، سوائے اپنے کمزور ماتحتوں کے خلاف گھٹیا انتقامی کارروائیاں کرنے کے ،سوائے انہیں تکلیفیں اور اذیتیں پہنچانے کے ،سوائے بدتمیزیوں ، بداخلاقیوں اور بد زبانیوں کے ،سوائے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے حق میں خود ساختہ اور بناوٹی مہم چلوانے کے اور سوائے چند اینکرز اور کالم نویسوں کو راضی کر کے ان سے اپنے حق میں بلوانے اور لکھوانے کے کچھ نہیں کر سکا.... وہ لاہور پولیس میں ”تبدیلی“ کا بڑا دعویدار تھا۔ لاہور پولیس میں ”تبدیلی“ یہ آئی خرابی مزید بڑھ گئی۔ جرائم میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی لاہور میں کچھ انتہائی اہل اور کام کرنے والے انسپکٹر پر یہ الزام لگا کر کہ وہ سابقہ شریف حکمرانوں کے چہیتے ہیں انہیں ”بلیک لسٹ“ کر کے ان کی جگہ کچھ نکمے ، نکھٹو، ناتجربہ کار سب انسپکٹرز کو بے شمار تھانوں میں بطور ایس ایچ او تعینات کر دیا گیا۔ ان کے علاوہ ڈیڑھ سو سے زائد دیگر اہل کاروں کو بھی ناجائز طور پر ان کے افسروں سے ان کی کارکردگی پوچھے بغیر صرف ماتحتوں پر اپنی دھاک بٹھانے کے لئے ادھر ادھر کر دیا گیا۔ اس بدعملی کے نتیجے میں لاہور میں جرائم یکدم بڑھ گئے ،جرائم پیشہ افراد کے چاکے مزید کھل گئے، بدمعاش خود کو مزید محفوظ تصور کرنے لگے۔ چوریاں ، ڈکیتیاں مزید بڑھ گئیں ، قبضے بھی ختم نہ کروائے جا سکے.... اوپر سے بددیانتی کی ساری حدیں کراس کرتے ہوئے، بجائے اس کے اپنی حکمت عملی تبدیل کی جاتی ، اس کا سارا ملبہ عدالتوں پر ڈالنے کی مذموم کوششیں شروع کر دی گئیں.... کوئی ایسا قابل ذکر کارنامہ وہ نہیں کر سکا جس کی بنیاد پر اب اس کے جانے کے بعد اس کا کوئی ماتحت اسے یاد کرے، اسے دعا دے ، یا شہریوں کی اکثریت اس کے گن گائے.... کوئی بھی افسر کسی اہم عہدے پر تعینات ہوتا ہے اس کی ترجیحات کا اندازہ اس کی ٹیم سے لگایا جا تا ہے۔ پولیس کےبابائے بدی“ نے آتے ہی دو ایسے ایس پیز (بی بی بدی اور بابو بدی) کی تقرریاں لاہور پولیس کے شعبہ انویسٹی گیشن میں کروائیں جن کی بداخلاقیوں اور بددیانتیوں کے قصے زباں زد عام تھے۔ ان دو تقرریوں سے ہی ہمیں اندازہ ہو گیا تھا ” بابائے بدی“ کے عزائم کیا ہیں؟ اس سے پہلے ایک اچھی شہرت کے حامل ایس پی کینٹ کا بھی صرف اس لئے اس نے تبادلہ کروا دیا اس نے لاہور کینٹ میں واقع ایک جائیداد پر ناجائز قبضہ کروانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس تبادلے کے بعد اس سیٹ کا اضافی چارج بھی ” بابائے بدی“ نے اپنی خاص الخاص ”بی بی بدی“ کو دے دیا۔ ”بی بی بدی“ نے ایس پی کینٹ آپریشن کا اضافی چارج سنبھالتے ہی اس دفتر پر بھی قبضہ جما لیا۔ اس دفتر کو اس نے ”سائیڈ بزنس“ کے لئے رکھ لیا.... بابائے بدی کا بس چلتا جب تک تخت لاہور کا وہ وارث رہتا ایس پی کینٹ آپریشن کے عہدے کا اضافی چارج بی بی بدی کے پاس ہی رہنے دیتا۔ ”چوپڑیاں نالے دو دو“ کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے....پر ہوا یہ کہ آئی جی پنجاب انعام غنی نے اس کی امیدوں اور کوششوں پر پانی پھیرتے ہوئے ایس پی کینٹ آپریشن کی باقاعدہ تقرری کر دی۔ سو ”بی بی بدی“ نے ایس پی کینٹ آپریشن کا اضافی چارج طویل عرصے کے لئے اپنے پاس رکھنے کا جو خواب دیکھ رکھا تھا دیر تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا.... انسان کے اپنے منصوبے ہوتے ہیں ، اللہ کے اپنے ہوتے ہیں ۔ بلکہ انسان کے منصوبے ہوتے ہیں اللہ کے فیصلے ہوتے ہیں.... پھر ہوا یہ ” بابائے بدی “ کا ریٹائرمنٹ تک تخت لاہور کا وارث رہنے کا خواب بھی ادھورا ہی رہ گیا۔


ای پیپر