”نواز لیگ معافی مانگ لے ۔۔ “
05 جنوری 2020 2020-01-05

جہاں مجھے نواز لیگ کو مبارکباد پیش کرنی ہے کہ اس نے آرمی ایکٹ کی حمایت کا فیصلہ کر کے اپنی اصل کی طرف لوٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے وہاں چودھری نثار علی خان کا اپنی قیادت کے لئے خلوص یاد آ گیا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ نواز لیگ سو جوتے نہ کھائے جو اس نے خشوع وخضوع سے مکمل کئے ہیں۔ اس اہم موڑ پرمیرا خیال ہے کہ نواز لیگ کو مقتدر حلقوں سے 1993سے لے کر اب تک کی گئی تمام غلطیوں کی معافی مانگ لینی چاہئے اور جناب شہباز شریف کی حکمت عملی کو باقاعدہ پارٹی پالیسی ڈیکلئیر کرتے ہوئے چودھری نثار علی خان کو واپس لے لینا چاہئے کہ غلطی نواز لیگ کی تھی، وہ اپنے اسی کی دہائی کے راستے سے بھٹک گئی تھی جبکہ چودھری صاحب اسی بنیاد کے ساتھ کھڑے تھے، وہ جگہہ جہاںنواز شریف کو جونیجو مرحوم سے پارٹی چھین کر دی گئی ، جہاں جناب حمید گل کی طرف سے عین قومی مفاد میں آئی جے آئی بناتے ہوئے جماعت اسلامی جیسی نیک اور پارسا جماعت شریک سفر کی گئی۔

نواز شریف تسلیم کر لیں کہ انہوں نے مطلق العنان اقتدار کے لالچ میں اچھے خاصے محب وطن لیگیوں کو غدار بنانے کی کوشش کی۔ یہ بھی تسلیم کرلینا چاہئے کہ” ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ گمراہ کن تھا، جذباتی تھا،محض حکومت چھن جانے کا ردعمل تھا۔ اب پارٹی کو صرف ” خدمت کو ووٹ دو“ کا نعرہ لگانا چاہئے اور شہباز شریف کو متبادل کے طور پر پیش کرنا چاہئے جو عوام اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کے سامنے ایک ’رول ماڈل‘ کے طور پر پیش کئے جا سکتے ہیں۔ وہ کسی بھی ڈی ایم جی افسر سے زیادہ بہترانتظامی امور چلا سکتے ہیں، وہ کسی بھی دوسرے انجینئرسے زیادہ ترقیاتی کاموں کے ماہر ہیں، وہ عمران خان سمیت کسی بھی دوسرے سے زیادہ مقتدر حلقوں سے بہترتعاون کرنے والے ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حالیہ فیصلہ صرف شہباز شریف کا ہے اور نواز شریف اس سے باہر ہیں وہ کیوں نہیں سمجھتے کہ شہباز شریف کو پارٹی کا صدر نواز شریف نے ہی بنایا ہے۔ وہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جب شریف فیملی کی بہو اپنے سسر کی تصویر گیم چینجر کے طور پر ٹوئیٹ کر رہی تھی تو وہ کھیل یہی تبدیل ہوا تھا کہ نواز شریف جیل سے لندن پہنچ گئے تھے۔

میرے کچھ دوست خیال کرتے ہیں کہ مسلم لیگ نون جمہوریت کے راستے سے ہٹ گئی ہے اور مولانا فضل الرحمان ہی جمہوریت کے محافظ کے طور پر لانگ مارچ کرنے نکلے تھے۔ میں اپنے ان دوستوں کا دل سے احترام کرتا ہوں اوریہی وجہ ہے کہ قہقہہ لگاتے ہوئے لوٹ پوٹ نہیں ہوتا۔ پارٹی کو وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تسلیم کرلینا چاہئے کہ نواز شریف نے بطور وزیراعظم جو کچھ کیا وہ ان کی ذاتی ہٹ دھرمی اور انا پرستی کے سواکچھ نہیں تھا، ہاں، اس پارٹی کے کارکنوں کی تسکین کے لئے یہ کہہ سکتاہوں کہ نواز شریف بنیادی طور پر ایک اچھے آدمی ہیں، بدنیت نہیں ہیں مگر وہ اقتدار میں آنے کے بعد حالات کو سمجھنے میں ہمیشہ غلطی کر جاتے ہیں جیسے وہ پرویز مشرف کو ہٹاتے وقت غلطی کر گئے اور پھر انہیں اسی پرویز مشرف سے معاہد ہ کر کے جلاوطنی کی سزا بھگتنی پڑی۔ پھر کہوں گاکہ نواز شریف کو ایک اچھا آدمی اور راستے نکالنے میں ماہر سیاستدان تو سمجھا جا سکتا ہے مگر وہ کوئی نظریہ وزریہ نہیں ہیں ۔ میں سوچتا ہوں کہ نواز شریف نے اس عقلمندی کا مظاہرہ جنرل پرویز مشرف اور راحیل شریف کے ساتھ کیوں نہیں کیا۔ میرا یقین ہے کہ اگر وہ بیس برس پہلے فوج کے کہنے پر مستعفی ہونے اور اسمبلہاں توڑنے کا فیصلہ کر لیتے تو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اور مارشل لا کا اضافہ نہ ہوتا بلکہ انتخابات ہوجاتے۔ ہو جنرل راحیل شریف کو ایکسٹیشن دے دیتے تو واقفان حال کا کہنا ہے کہ حالات بہت مختلف ہوتے ۔

میں نے بسوں میں سفر کرتے ہوئے اکثر دیکھا ہے کہ ڈرائیور ” لیٹ“ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں جب وہ دوسروں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ مان لینا چاہئے کہ نواز لیگ بھی کچھ حماقتوں کی وجہ سے پی ٹی آئی سے بہت پیچھے رہ گئی ہے اور اب لیٹ نکالنے کے لئے کچھ اوور سپیڈنگ ضروری ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ یہاں اس کا مقابلہ پیپلزپارٹی سے بھی ہے جس کے سربراہ ایک زرداری سب پر بھاری کہلاتے ہیں۔ بہرحال نواز لیگ کی طرف واپس آتے ہیں کہ اسے و ہ کرنا ہے جسے سفارتکاری اور سیاستکاری کی زبان میں’ سی بی ایمز‘ کہتے ہیں۔ نواز لیگ کو محض آرمی ایکٹ کی حمایت کرنے تک محدود رہنے کی بجائے ایک جامع آئینی ترمیم پارلیمنٹ میںپیش کرنی چاہئے کہ جمہوریت کا مغربی تصور ہمارے آئین کے ابتدائیے میں دی گئی نظریاتی راہ اور پہچان سے متصادم ہے اور یوں بھی حکیم الامت فرما گئے تھے کہ ’خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی‘ تو اس کا نظام حکومت بھی کچھ خاص ہی ہونا چاہئے، دلیل ہے کہ ریاستی نظام میں بٹی ہوئی مسلم امہ میں سے بہت کم جمہوریت کے مغربی ڈھانچے کو اپنائے ہوئے ہیں۔ ہمیں بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ ہماری سیاسی تاریخ، ہماری نظریاتی بنیادوں اور جغرافیائی صورتحال میں ہماری محب وطن مسلح افواج کا ایک مخصوص کردار ہے جس کی مخالفت مغربی جمہو ریت کے چند دیوانوں کے سوا کوئی نہیں کرتا۔ یہ مخالفت کرنے والے وہ گمراہ لوگ ہیں جو لال، لال کے نعرے لگاتے ہوئے لاہور کی سڑکوں پرجلوس بھی نکالتے ہوئے پائے گئے ہیں۔ مسلم لیگ ہمیشہ سبز رہی ہے اور یہ جب بھی لال ہونے کی کوشش کرتی ہے اس کا منہ تھپڑوں سے لال ہوجاتا ہے لہذا مناسب ترین یہی ہے کہ مسلم لیگ اپنے روایتی اور تاریخی کردار کی طرف مکمل طور پر لوٹ جائے ۔ کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ پارٹی حال ہی میں ساتھ آنے والے ترقی پسند ووٹ سے محروم ہوجائے گی مگرچودھری پرویز الہی جیسے کہنہ مشق سیاستدان کے ساتھ ساتھ روایتی ووٹ بھی واپس آجائے گا۔

مجھے یاد آگیا کہ سابق آرمی چیف جناب جہانگیر کرامت سے نیشنل سیکورٹی کونسل بنانے کی تجویز پیش کی تھی جسے اطلاعات کے مطابق تما م محب وطن حلقوں کی مکمل حمایت حاصل تھی مگر نواز شریف اس وقت بھی ایک آئینی ترمیم کرکے امیر المومنین بننے کے چکروں میں تھے۔ اب بھی موقع ہے کہ کم از کم ایسی نیشنل سیکورٹی کونسل ضرور تشکیل دی جائے بلکہ اس سے آگے بڑھتے ہوئے جو بھی آرمی چیف ہو اسے صدر مملکت کا عہدہ دے دیا جائے۔ یہ تجویز بھی میری نہیں بلکہ پہلے سے موجود ہے۔ صدر مملکت کے عہدے پر تیس، تیس بر س سے قومی سلامتی کے لئے کام کرنے والی کسی شخصیت سے زیادہ موزوں کوئی رفیق تارڑ، کوئی ممنون حسین ، کوئی آصف زرداری اور کوئی عارف علوی نہیں ہو سکتا۔ ہم میں سے کون ایسا ہے جو فوج کے بطور ادارہ پروفیشنل ازم اورمیرٹ پر انگلی اٹھائے اور اگر صدر مملکت کا عہدہ آرمی چیف کو دے دیا جائے جو واقعی ملک کے سپریم کمانڈر ہوں ،ان کا چناو کسی وزیراعظم کی بجائے کور کمانڈرز خود کریں اور اس تقرری کی پارلیمنٹ سے توثیق کروا لی جائے تو ہم ایک مثالی قومی اور آئینی نظام کی طرف پیش رفت کر سکتے ہیں ۔اسی طرح صوبو ں میںہر وقت فارغ رہنے والے اول جلول گورنروں کو فارغ کرتے ہوئے ان کی جگہ کور کمانڈرز کو صوبوں کے معاملات میں مشاورتی ذمہ داریاں دی جا سکتی ہیں۔نواز لیگ کو جلدی کرنی چاہئے کہ کہیں اس سے پہلے یہ بل پی ٹی آئی نہ پیش کر دے یوں وہ ایک سنہری موقع ضائع کر دے گی۔

میں دست بستہ عرض کروں گا کہ میری ماضی کی تحریروں وغیرہ کو دیکھتے ہوئے بخدا اسے کوئی طنزیہ تحریر نہ سمجھا جائے بلکہ اپنے کچھ سیاستدانوں کے ہاتھوں مکمل طور پر گمراہ ہونے کے بعد یہ ایک مکمل طور پر محب وطن اور سو فیصد جمہوری ردعمل ہے جو میری نظر میں ہمیں تعمیر، ترقی اور استحکام کی نئی منزلوں کی طرف لے جا سکتا ہے۔میں اپنے ان دوستوں سے اتفاق کرنے پر مجبور ہو گیا ہوں جو چین سمیت بہت سارے ملکوں کی کامیابی میں مغربی جمہوری نظام کا کوئی عمل دخل نہیں دیکھتے ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے مغالطوں، منافقتوں اور دوعملیوں کو ختم کر دیں اور یوں بھی ہمارے ہاں یہ نظام اس لئے جمہوری قرار پائے گا جب جماعت اسلامی جیسی چند ایک مسترد شدہ جماعتوں کے علاوہ تمام بڑی پارلیمانی قوتیںآرمی ایکٹ کی طر ح اس کی حمایت کریں گی۔


ای پیپر