Dr. Ibrahim Mughal columns,urdu columns,epaper
05 فروری 2021 (10:08) 2021-02-05

قا رئین کرام، آج کا اخبا ر جب آ پ کے ہا تھو ں میں ہو گا تو ہم میں سے نہ جا نے کتنے ہم وطن چھٹی کا لطف اٹھا ر ہے ہوں گے، یہ غو ر کیئے بغیر کہ یہ چھٹی در اصل یو مِ سو گ ہے ان مظا لم کی یاد میں جو انڈین آ رمی مقبو ضہ کشمیر کے نہتے شہریوں پہ 1947سے مسلسل ڈھا تی چلی آ رہی ہے۔ اور اب جبکہ ایک لمبے عر صے سے مقبوضہ کشمیر میں 8 لاکھ بھارتی فوج نے 80 لاکھ کشمیریوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے، وہاں قتل عام کا خدشہ موجود ہے ۔ آج کشمیری عوام کو مشکلات کا سامنا ہے ۔قر یباً ڈ یڑھ بر س پہلے 5 اگست کو بھارتی حکومت نے اپنے ظالمانہ اقدامات کا سلسلہ دراز کرتے ہوئے باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی بھارتی آئین میں موجود خصوصی حیثیت کو ختم کر ڈالا جس کے بعد وہاں قابض بھارتی افواج کو کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے کے لیے اپنے ظالمانہ اور غاصبانہ اقدامات میں کھل کھیلنے کا موقع مل گیااور اس نے کشمیریوں کے خلاف اپنے ظلم و ستم اور جبر کا شکنجہ مزید کسنا شروع کردیا مگر آفرین ہے کشمیریوں پر کہ انہوں نے ظلم و جبر کی اس آہنی دیوار کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کرتے ہوئے قربانیوں کے سلسلے میں کمی نہ آنے دی۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے جہاں قابض بھارتی فوج کشمیریوں سے زندگی کی ہر خوشی چھیننے میں مصروف عمل ہے۔ بھارتی افواج نے کشمیریوں کے گھر میں گھس کر نوجوانوں کو اغوا کرکے انہیں قتل کرنے، خواتین کی بے حرمتی اور احتجاج کرنے والوں پر پیلٹ گن جیسے ظالمانہ ہتھیار آزمانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی لیکن کشمیریوں کا جذبہ حریت ماند پڑنے کے بجائے روز بروز بڑھتا ہی چلا جارہا ہے جس پر غاصب قوتیں بھی کشمیریوں کے اس غیرمتزلزل عزم کے سامنے انگشت بدنداں ہیں۔ غلامی اور جبر کے خلاف نہتے کشمیریوں کی بے مثال قربانیاں دنیا بھر کی امن قوتوں کو انصاف اور آزادی کے لیے اپنی طرف بار بار متوجہ کر رہی ہیں لیکن اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی قوتیں اس ظلم و ستم کو دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہیں۔

درحقیقت کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے یہ عصر حاضر کے چند اہم ترین سیاسی اور انسانی مسائل میں سے ایک نہایت تکلیف دہ مسئلہ بھی ہے جو تاحال کسی پائیدار حل کا منتظر ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان کی سفارتی سطح پر کوششوں کے نتیجے میں او آئی سی نے مسئلہ کشمیر کے حق میں بیان جاری کیا ہے۔ لیکن دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق، بھارئی چارے کی فضا اور عالمی امن کو جس قدر تباہ و برباد کردیا گیا ہے، شاید اس سے پہلے اس کی ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہر طرف دہشت، بربریت اور مسلمہ انسانی حقوق کی پامالی کا دور دورہ ہے۔ کیا ہم اس حقیقت سے انکار کرسکتے ہیں کہ جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے کے منصوبے سے دیگر ریاستوں کے ہندو شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش کا حق حاصل ہوگیا ہے، 

جس سے کشمیری مسلمانوں میں تشویش شدت اختیار کرگئی ہے اور جدوجہد آزادی کشمیر میں شدت آئی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو 2 حصوں میں تبدیل کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ یہ بھارتی اقدام کشمیریوں کے بھروسے کے ساتھ دھوکا ہے، کشمیریوں کے حق پر ڈاکہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں غیرمسلموں اور غیرکشمیریوں کو بسا کر یہاں کشمیری مسلمانوں کی تعداد کم کرنے کی سازش ہے۔ مودی سرکار کا یہ فیصلہ 1947ء میں مقبوضہ کشمیر کی لیڈرشپ کی جانب سے بھارت سے الحاق نہ کرنے کے فیصلے سے متصادم ہے، یکطرفہ بھارتی فیصلہ سراسر غیرقانونی، غیر آئینی ہے جس کے خطرناک نتائج ہوں گے۔ اس سے مسئلہ کشمیر مزید پیچیدہ ہوگا اور خطے کا امن تباہ ہوکر رہ جائے گا۔ مقبوضہ جموں اور کشمیر پر غیرقانونی قبضہ کرکے بھارت نے اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے 2 لاکھ گھر بنانے کا جو منصوبہ بنایاتھا ،اس کے تحت ان دو لاکھ گھروںمیں بھارت کی ریاست سے ہندوئوں کو لاکر بسایا جانا شروع کردیاگیا ہے تاکہ بھارت کے ناپاک عزائم کامیاب ہوسکیں وہ کشمیر کو ہڑپ کرلے۔مگربھارت ناجانے یہ بات کیوں بھول جاتا ہے کہ روزِ اوّل سے ہی کشمیر پاکستان کے نام کا حصہ ہے او رکشمیر کی آزادی اور حق خود ارادیت کا حصول ہی پاکستان کے لفظ کی معنویت کو بحال کرسکتاہے۔ تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو تحریک پاکستان کے دوران بھی اور قیام پاکستان کے بعد بھی قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ ایسی صورت میں کشمیر کی عوام کی آزادی اور حق خود اردیت کی بحالی کے حوالے سے پاکستان اور پاکستانی عوام کا مطالبہ ایک اصولی مطالبہ ہے۔ 7؍ اکتوبر 1947ء کو بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیاتھا جبکہ 5؍ اگست 2019ء کو ظلم کی نئی داستان شروع ہوئی۔ بھارت نے 80 لاکھ کشمیریوں پر 9 لاکھ فوج تعینات کی، ان کے بنیادی انسانی حقوق معطل کردیئے۔ اہلِ کشمیر ایک کھلی جیل میں رہ رہے ہیں جب کہ ایک لاکھ کشمیریوں کی شہادت کے بعد بھی بھارتی فوج انتہائی ڈھٹائی سے بربریت کی نئی داستانیں رقم کررہی ہے اور مظالم روکنے کی بجائے مقبوضہ وادی کشمیر میں مزید تازہ دم فوجی دستے بھیج دیئے ہیں۔ اس وقت کرفیو کے باوجود پوری وادی سراپا احتجاج ہے اور ’’آزادی آزادی‘‘ کی صدائوں سے گونج رہی ہے اور تحریک آزادی کے دوران بھارتی بربریت سے شہید ہونے والے نوجوانوں کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر بڑے بڑے جلوسوں کی صورت میں آخری منزل تک پہنچایا جارہا ہے۔ اس سے بھارتی حکمرانوں کے دہشت گردی کے پراپیگنڈے کی دھجیاں بکھیر گئی ہیں۔ دنیا بھر میں انسانیت کی اعلیٰ اقدار سے محبت کرنے والے لوگ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے ان بچوں، جوانوں او ربوڑھوں کو سلام پیش کررہے ہیں جنہوں نے ہر قسم کے مظالم کا سامنا کرنے اور ہر روز اپنے پیاروں کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے باوجود آزادی و حریت کا پرچم نہ صرف سربلند رکھا بلکہ ان کی جدوجہد ہرگزرتے دن کے ساتھ زیادہ ولولہ انگیز نظر آرہی ہے۔ مظلوم کشمیری عوام نے بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہر ظلم کے باوجود آزادی آزادی کے نعرے لگا کر اور جابجا پاکستانی پرچم لہرا کر اقوام عالم کے سامنے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ اپنی مرضی سے کرنے کے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ یہ بات درست ہے کہ یہ کشمیریوں کے لیے مشکل ترین وقت ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں میں کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کر رکھا ہے جس کے لیے وہ مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں پاکستان کا مؤقف واضح اور دو ٹوک ہے کہ جب تک کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت نہیں ملتا تنازع کشمیر کو بین الاقوامی سطح سمیت ہر فورم پر اٹھایا جائے گا۔ دنیا کو بتائیں گے کہ کشمیر میں کتنے مظالم ہورہے ہیں، بھارت ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں، کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جارہاہے، میڈیا پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ بھارت پاکستان میں ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ لہذا ہم اہلیانِ پاکستان کا فر ض ہے کہ ہم آج پا نچ فر وری کو عہد کر یں کہ ہم بھارتی اقدامات کو دنیا کے سامنے بے نقاب کریں گے۔


ای پیپر