Naveed Chaudhry columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
05 فروری 2021 (10:07) 2021-02-05

تیسری دنیا میں حکومتیں بنانا اور گرانا صرف ایک آدھ مقصد کے لیے نہیں ہوتا بلکہ ایجنڈے کا پورا ایک پیکیج ہوتا ہے ۔ بظاہر جو کچھ نظر آرہا ہوتا ہے۔ اس کے پہلو میں ایسی کئی پوشیدہ منصوبہ بندیاں بھی ساتھ چل رہی ہوتی ہیں جنہیں مناسب وقت پر آشکار کیا جاتا ہے۔ یہ ہرگز ضروری نہیں کہ تمام ٹارگٹ سو فیصد کامیابی کے ساتھ حاصل کرلیے جائیں۔ اتنا ضرور ہوتا ہے ایسے کسی عمل کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے۔ یہاں ماضی قریب کی دو مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ۔ جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت کو گرانے کے لیے جو جواز پیش کیا معاملہ وہیں تک محدود نہ تھا ۔ فوجی آمر نے اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کے بعد اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لیے عملی کاوشیں شروع کیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایل او سی پر بھارت کو باڑ لگانے کا موقع فراہم کیا۔ مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے درمیان 12  فٹ اونچی یہ باڑ دراصل دنیا کے لیے ایک پیغام تھی کہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے فارمولے کا تعین ہو رہا ہے۔ جنرل مشرف کے اپنے دور میں یہ دونوں کام مکمل نہ ہوسکے۔ لیکن اتنا ضرور ہوا کہ مستقبل کے نقشے کابڑی حد تک تعین کرلیا گیا۔ نواز شریف کی تیسری حکومت گرانے کے لیے عملی کوششیں 2014ء کے دھرنوں سے شروع ہوئیں۔ واضح طور پر سب بڑا ہدف سی پیک تھا ۔ عمران خان اور طاہر القادری کے ساتھ ق لیگ اور بعض گروپ بھی ملائے گئے۔ میڈیا کو مینج کیا گیا ۔ سابق آرمی چیف جنرل (ر) اسلم بیگ نے یہ بتا کر بھانڈا پھوڑ دیا کہ اس احتجاجی تحریک کو چار ممالک کی مدد حاصل ہے ۔ ایک دوست ہمسائیہ ملک کے حمایتی اس کارروائی میں ہراول دستہ بنے ہوئے تھے۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ کس طرح کے ممالک اور گروہ مرکزی ہدف کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے الگ مقاصد حاصل کرنے کے لیے بھی برسر پیکار تھے ۔ حکومت ہٹانے کا یہ مرحلہ 2018ء کے عام انتخابات میں فْول پروف بندوبست کے باعث ہی مکمل ہوسکا۔ اب تحریک انصاف کی حکومت بھی اپنی نصف سے زیادہ مدت گزار چکی۔ اس دوران بڑے بڑے واقعات رونما ہوگئے۔ حکومت کے مخالفین کا الزام ہے کہ یہ سیٹ اپ ایک گرینڈ ایجنڈے کے تحت مسلط کیا گیا ہے ۔ ملک کی معیشت کو عالمی مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھنا ، مسئلہ کشمیر سے فراغت ، سی پیک کو لپیٹنا ، پاکستان کو حقیقی دوست ممالک سے دور کرنا اور انجام کار سکیورٹی معاملات پر سمجھوتہ کرنا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن اور احسن اقبال تو کھل کر کہہ رہے ہیں یہ سلسلہ ایٹمی اثاثوں تک جائے گا ۔ ایک سنجیدہ معاملہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بھی ہے ۔  چند ماہ قبل جب متحدہ عرب امارت نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کیے تو ہمارے ہاں بھی یہ بحث شروع کرائی گئی۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے اس حوالے سے پہلی ضرب پی ٹی آئی حکومت کے بنتے ہی عسکری خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک قدرے غیر معروف خاتون رکن اسمبلی عاصمہ حدید نے پارلیمنٹ کے فلور پر لگائی تھی۔ اس وقت زیادہ پذیرائی نہ ملنے کے سبب بات وہیں پر رک گئی تھی۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ نے نوبل پرائز حاصل کرنے کے لیے اسرائیل اور عرب ممالک کو تمام تنازعات بھول کر صلح کرنے کا مشورہ دیا تو اسے قبول کرلیا گیا۔ ترکی اور مصر جیسے بڑے ممالک تو پہلے ہی پالیسی اپنا چکے تھے ۔ اومان کا موقف بھی یہی تھا ۔ امارات کے فیصلے کے بعد تو لائن لگ گئی۔ اطلاعات یہ بھی ملی ہیں کہ اسرائیلی وزیر اعظم سعودی عرب کے جدید ترین شہر نیوم کا خفیہ دورہ کرکے سعودی قیادت سے ملاقات کرچکے ہیں۔ سعودی حکام کی اسرائیل سے متعلق پالیسی اب کوئی راز نہیں۔ پڑوسی ملک بحرین جو درحقیقت سعودی عرب کی ہی طفیلی ریاست کا درجہ رکھتا ہے ، اسرائیل کو تسلیم کر چکا ۔ سعودی عرب کی جانب سے رسمی کارروائی ہی باقی رہ گئی اور اس کے لئے موزوں موقع کا انتظار کیا جارہا ہے۔ مسلم دنیا خصوصاً عرب ممالک کی اسرائیل سے متعلق پالیسی میں تبدیلی سے پہلے ہی پاکستان میں اس حوالے سے بحث شروع کرادی گئی۔ آئی ایس پی آر سے سرٹیفائیڈ تجزیہ کار جنرل ر امجد شعیب اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فضائل بیان کرتے پائے گئے۔ چند مخصوص اینکروں کو بھی یہی ٹاسک دیا گیا ۔ ایک تو اس حد تک آگے بڑھا کہ سیدھا اسرائیلی ٹیلی وژن پر ہی موقف دینے لگا ۔ ویسے یہ کام کسی پروفیشنل صحافی نے از خود کیا ہوتا تو سرکاری ادارے نہ صرف ہاہاکار مچا دیتے بلکہ غداری کا مقدمہ بھی ہو جانا تھا ۔ حالیہ دنوں میں ریاستی دعویٰ یہی ہے کہ اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نہ کیا جائے۔ وزیر اعظم عمران خان قوم کو یہ بتا رہے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے باہر سے دبائو ڈالا جارہا ہے۔ یعنی بڑے اور اہم ممالک بشمول دوست ممالک ایسا کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ اگر ایسا ہے تو یہ دباو کتنی دیر تک برداشت کیا جاسکتا ہے ۔ اگر سعودی عرب نے اس معاملے میں سبقت لے لی تو پھر ہمارے پاس کونسا 

راستہ باقی رہ جائے گا ۔ خصوصاً جب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک کو ٹھنڈا کرنے کے لیے دو دوست ممالک نے کردار ادا کیا ہے۔ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کو دو مختلف ممالک نے پیغام دیا ہے کہ فی الحال حکومت کی راہ میں زیادہ رکاوٹیں نہ ڈالیں ۔ ان جماعتوں نے پیغام کا اثر لیتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کو بھی منانے کی کوشش کی ہے۔ یار لوگ اس پیش رفت کا تعلق بعض دیگر معاملات کے ساتھ اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے ممکنہ قیام سے بھی جوڑتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہماری حکمران اشرافیہ نے اس سلسلے میں دوست ممالک کے سامنے چند مجبوریاں اور کچھ شرائط رکھی ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ اگر سب کچھ مان بھی لیا گیا تو عام آدمی کو اس سے کوئی فائدہ یا سہولت نہیں ملے گی ۔ جہاں تک وزیر اعظم عمران خان کے اس دو ٹوک اعلان کا تعلق ہے کہ اسرائیل کو کسی صورت میں تسلیم نہیں کیا جائے گا تو ریکارڈ سے ثابت ہے کہ اب تک لیے جانے والے بے شمار یو ٹرنز میں سے سو کے قریب بہت بنیادی اور بڑے اعلانات پرلئے گئے ہیں ۔ سو اس دعوی کی سرے سے کوئی اہمیت نہیں ۔تجزیہ تو اس بات کا ہونا چاہئے کہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم ہونے کی صورت میں فائدے اور نقصانات کیا ہوسکتے ہیں ۔ مکرر عرض کہ جب یہ طے کرلیا گیا کہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا موقع آگیا ہے تو دفاعی تجزیہ کار اور اینکر سماں باندھ دیں گے کہ اس سے بہتر کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی۔ اصل امتحان مگر اس کے بعد شروع ہوگا ۔ اسرا ئیل کے امریکہ ، روس ، برطانیہ ، فرانس اور چین کے ساتھ گہرے مراسم ہیں ۔ عرب بلاک اس کے بہت قریب آتا جارہا ہے۔ بھارت سے دوستی کی نئی منازل طے ہو رہی ہے۔ جاپان اور جرمنی جیسے امیر ممالک سے تجارتی تعلقات ہیں۔ اگر ہم صرف اپنے خطے کے حوالے سے دیکھیں تو اسرائیل بیک وقت چین اور بھارت کا تجارتی پارٹنر ہے اور دونوں کو ٹیکنالوجی اور اسلحہ بھی فروخت کرتا ہے۔ اسرائیل کی اس وقت علانیہ دشمنی صرف ایران کے ساتھ ہے۔ پاکستان سے غیر علانیہ مخاصمت کی سب سے بڑی وجہ ہمارا ایٹمی قوت ہونا ہے ۔موجودہ عالمی منظر نامے میں ہمارے اسرائیل سے تعلقات قائم ہو بھی گئے تو بھارت اسرائیل پارٹنر شپ پر زیادہ اثر انداز نہیں ہو سکیں گے - اسرائیل اپنے عالمی اثر رسوخ اور بے پناہ دولت کے ساتھ ساتھ جنگی ٹیکنالوجی میں بھی بہت آگے نکل چکا ہے۔ چند ہفتے قبل تہران کے قریب ایرانی ایٹمی پروگرام کے روح رواں محسن فخری زادہ کو جس انداز میں موت کے گھاٹ اتارا گیا اس نے پوری دنیا کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ ایران کے ایٹمی پروگرام سے منسلک اہم شخصیات کو نشانہ بنا چکا ہے ۔ ایک موقع پر اسرائیلی کمانڈوز نے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر چھاپہ مار کر اہم دستاویزات بھی اٹھا لی تھیں ۔ اسرائیل کے جنگی طیارے اس وقت بھی شام اور لبنان میں ایرانی اڈوں کا دھڑا دھڑ نشانہ بنا رہے ہیں ۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک طرف تو امریکہ نے ایران کو دنیا کے لیے خطرہ قرار دے رکھا ہے اور دوسری جانب اسرائیل کو حملوں کی محدود اجازت دے رکھی ہے ۔ یہ اسرائیل ہی ہے جس نے صدر صدام حسین کے دور میں عراق کی ایٹمی تنصیبات کو حملہ کرکے تباہ کر دیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اسرائیل خود کو ہر لحاظ سے مضبوط کرنے کے ساتھ دنیا کے بیشتر ممالک کے لیے قابل قبول بھی بناتا چلا گیا ۔ ایرانی اہداف پر مسلسل حملوں سے واضح ہے کہ اسرائیل جنگی حوالے سے بے حد حساس ہے اور کسی دشمن کو سامنے دیکھنا نہیں چاہتا ۔ پاکستان کو ایک عرصے سے شکایت ہے کہ موساد دیگر دشمن خفیہ ایجنسیوں سے مل کر ہماری سالمیت کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ اب تک تو جو کچھ بھی ہو رہا ہے بڑی حد تک بالواسطہ ہی ہورہا ہے۔ سفارتخانہ کھل گیا تو اور طرح کی انٹری مل جائے گی۔ لگتا یہی ہے کہ اسرائیل کے حوالے سے حتمی فیصلہ ہونے میں زیادہ دیر نہیں رہ گئی۔ لیکن یہ طے ہے مستند دفاعی تجزیہ کاروں اور محب وطن اینکروں کی رائے کے برعکس ہمیں پہلے سے بھی زیادہ محتاط رہنا ہوگا۔


ای پیپر