awais ghauri columns,urdu columns,epaper,awais ghauri
05 فروری 2021 (09:58) 2021-02-05

پاک سرزمین کی خاک سے منسوب بہت سے تاج ہمارے سروں پر مسلط کئے گئے اور اسرار کے پردوں میں لپٹے ہوئے بے شمار بندے معلوم نہیں سائنس کے کن مقامات پر فائز بنی نوع انسان کی بہتری کیلئے اپنی زندگیاں نچھاور کر رہے ہیں۔بھید پانا مشکل ہے کہ جدید تراش خراش اور میک اپ کی دبیز تہوں کے پیچھے کیسے کیسے سائنسدان چھپے ہوئے ہیں۔ان اجلی صورتوں کو دیکھتے ہوئے کوئی کیسے جان سکتا ہے کہ ان پر سائنس کے کیسے عمیق در  وا ہو چکے ہیں۔لوگ تمسخر اڑانے میں مصروف ہیں ٗ سوشل میڈیا پر نت نئی میمز بن رہی ہیں ٗ لطیفے گھڑے جا رہے ہیں کہ وزیر موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل گائے کے گوبر سے انرجی پیدا کر کے بسیں چلانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اب ان عام پاکستانیوں کو کیا معلوم کہ سائنس کی معرفت کے بھی درجات ہوا کرتے ہیں ٗیہ بھی ایک ’’رحونیت‘‘ والی دنیا ہے اور یہ رتبہ بلند جس کو ملا وہ ہماری حکومتی وزیر ہیں۔ اب ان مذاق اڑانے والوں کو کون بتائے کہ آئن سٹائن کو بھی لوگ کند ذہن اور نالائق کہا کرتے تھے ٗ اور جب ایک دن اس کی والدہ نے گھر میں یہ دعویٰ کیا کہ ’’ایک دن میرا بیٹا پروفیسر بنے گا‘‘ تو آئن سٹائن کے چچا نے قہقہہ لگایا ’’آئن سٹائن اور پروفیسر ٗ ہاہاہاہاہا‘‘۔آئن سٹائن بھی زرتاج گل کی طرح سرکاری ادارے میں ایک کلرک ہی تھا۔ پیٹنٹ آفس میں کلرکی کے دوران جب اس کا نظریہ اضافیت کے بارے میں پہلا مقالہ چھپا اور پورے یورپ میں دھوم مچ گئی تو ہر طرف سے سوال اٹھنے لگے کہ آخر یہ آئن سٹائن کس یونیورسٹی کا پروفیسر ہے؟ مگر پھر معلوم ہوا کہ وہ تو ایک کلرک ہے۔

ویسے تو راجر بیکن ٗ کاپر نیکس اور برونو کی زندگی کی کہانیاں بھی زرتاج گل سے ملتی جلتی ہیں لیکن گلیلیو تو ایسا لگتا ہے ہماری وزیر موسمیات کا مردانہ ورژن رہا ہو گا۔ جب گلیلیو نے زمین کی حرکت کے بارے میں اپنی تھیوری پیش کی تو معاشرے کا ایک طبقہ اس کیخلاف ہو گیا جس کے بعد اسے چرچ اور موت کے خوف سے اپنے خیالات سے دستبرداری کا اعلان کرنا پڑا۔  زرتاج گل کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے ٗ ان کے سائنسی فہم پر لوگ تنقید کے ڈونگرے برسا رہے ہیں۔ جب انہوں نے کہا کہ ’’ہم بی آر ٹی کراچی بنانے جا رہے ہیں ٗ کراچی میں بھینس کالونی میں موجود گائے 

کے گوبر سے ہم آپ کو بسیں چلا کر دکھائیں گے  اور یہ پاکستان کی پہلی بس سروس ہم کراچی کو دیںگے جس میں آلو دگی نہیں ہو گی ٗ‘۔

اس بیان میں زرتاج گل سے ذرا سی چوک ہو گئی مگر یہ غلطی اس لئے معاف کی جا سکتی ہے کیونکہ سائنس میں نت نئے نظریات سامنے آتے رہتے ہیں۔ زرتاج گل نے کراچی کی بھینس کالونی کی مثال دی تو ایسا لگا جیسے وہ سمجھتی ہیں کو بھینس کالونی میں بھینسیں بندھی ہوں گی اور ان گنت گوبر حاصل ہو سکے گا جسے بسوں میں ڈال کر بسیں چلائی جائیں گی لیکن ان کی اطلاع کیلئے عرض ہے بھینس کالونی کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں پر بھینسیں ہوں گی۔ اس علاقے کا نام بھینس کالونی اس لئے ہے کیونکہ وہ کسی دور میں کراچی کی مضافات ہوا کرتا تھا۔اس دور میں وہاں پر لوگ بھینسیں پالتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ زرتاج گل کیونکہ اپنے سائنسی تجربات میں مصروف رہتی ہوں گی اس لئے ان کے گوش گزار کرتے چلیں گے ناگن چورنگی کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں ناگنیں رہتی ہیں ٗ لالو کھیت کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں اب بھی لال نام کے کسی بندے کے کھیت یا جائیدادیں ہوں گی ٗ گوالمنڈی کا یہ مطلب نہیں کہ یہاں ہر طرف گوالے دودھ بیچتے نظر آئیں گے ٗ رنگ محل کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں پر رنگوں کا بازار ہے۔ بانسوں والے بازار میں ضرور بانس ہوتے ہیں لیکن وہاں دوسری دکانیں بھی ہو سکتی ہیں مگر صفاں والے چوک میں آج کوئی صفیں نہیں ملتی اور نہ کوئی صفیں ڈال کر بیٹھا ہوتا ہے ٗ راجہ بازار کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں پر سب راجے ہوں گے ٗ مچھر کالونی کی وجہ تسمیہ زرتاج گل یہ ہرگز نہ سمجھیں کہ وہاں ڈینگی سمیت مچھروں کی مختلف برادریاں رہائش رکھتی ہیں ٗ بھونڈ پورا کوئی اوباشوں کا علاقہ نہیں اور اگر وزیر موسمیات کہیں سے سنیں کہ مجاں والے اڈے پر جانا ہے تو یہ تصور نہ کرتی رہیں کہ وہاں پر گائے ٗ بھینسیں بندھی ہوئی نظر آئیں گی۔ 

گائے کے گوبر سے کراچی بس سروس چلانے پر تنقید ہو رہی ہے لیکن ہمیں زرتاج گل کے سائنسدان ہونے پر کوئی شک نہیں کیونکہ وہ اس سے قبل بھی اپنی کچھ سائنسی تھیوریز پیش کر کے سکہ بند سائنسدان ہونے کا ثبوت دے چکی ہیں۔انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’اتنی زیادہ تعداد میں بارشیں اور برف باری پاکستان میں اس سے قبل کبھی نہیں ہوئی جو اس دفعہ ہوئی ہے ٗ اس کا کریڈٹ میں اپنے آپ کو نہیں دے رہی ٗ وہ کریڈٹ میں وزیر اعظم عمران خان کو دے رہی ہو۔ میں سمجھتی ہوں کہ جب آپ کے نیک حکمران ملک پر حکومت کرتے ہیں اور وہ آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہی کے صدقے کی وجہ سے ملک میں رحمتیں اور بارشیں شروع کر دیتا ہے‘‘۔ 

انہوں نے ایک اور موقع پر فرمایا کہ ’’پچھلی بار سموگ بہت کم تھا ٗ ہم اس بار بھی کوشش کر رہے ہیں کہ سموگ کم ہو ٗ لیکن ڈرائی سیزن جب آتا ہے جو گاڑیاں سیاسی جلسوں کی وجہ سے لاہور میں داخل ہو رہی ہیںجن کی وجہ سے ٹریفک زیادہ ہوتی ہے اور بہت زیادہ آلودگی پھیل جاتی ہے‘‘۔

عوام کا خیال ہے کہ زرتاج گل بھینس کالونی کی طرح گائے کے گوبر سے توانائی پیدا کرنے کی حقیقت سے بھی نابلد ہیں اور ان کی ساری خبریت کا ذریعہ وہ خبر ہے جس میں ٹویوٹا کمپنی کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ 2021 میں دنیا کی پہلی ایسی گاڑی تیار کر لیں گے جو گائے کے گوبر سے میتھین گیس حاصل کر کے اسے توانائی میں تبدیل کر کے چلائی جائے گی۔مگر ہمارا خیال یہ ہے کہ زرتاج گل جانتی ہیں کہ دنیا بھر کے سائنس اس کوشش میں ہیں کہ توانائی پیدا کرنے کیلئے روایتی طریقہ کے بجائے ایسے ذرائع استعمال کئے جائیں جن کی مدد سے ماحول آلودہ نہ ہو۔ انہیں یہ بھی معلوم ہو گا کہ پاکستان سے باہر ان کے پیٹی بھائی سائنسدانوں کو اب تک توانائی کے جو متبادل ذرائع پیدا کرنے میں کامیابی حاصل چکی ہے ان میں شمسی ٗ ہوا ٗ پانی اور جیو تھرمل شامل ہیں۔

ہماری خوش گمانی ہے کہ زرتاج گل ان سب فضولیات میں اس لئے وقت ضائع نہیں کرتیں کیونکہ وہ آئن سٹائن کی طرح ایک سرکاری نوکری کرتے ہوئے اپنی تھیوری لکھنے میں مصروف ہیں۔ کوئی وقت دور نہیں کہ ہم کسی سائنسی جریدے میں ان کی تھیوری چھپی ہوئی دیکھیں اور کراچی کی سڑکوں پر گائے کے گوبر سے حاصل کی جانیوالی توانائی سے بغیر آلودگی پیدا کئے بسیں چلتے بھی دیکھیں۔ بس زرتاج گل کو چاہیے کہ وہ پوری توجہ اپنی سائنسی تحقیق پر مرکوز رکھیں ٗ سازشیوں کی سوشل میڈیا وار سے پریشان نہ ہوں اور پاکستانیوں کیلئے کوئی عظیم کارنامہ کر جائیں۔


ای پیپر