05 فروری 2020 2020-02-05

کشمیر کے لاک ڈاؤن کو 6 ماہ گزر گئے۔ مودی کی فاشسٹ حکومت نے 6 ماہ قبل بھارتی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے وہاں پر فوجی حصار قائم کیا تھا۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام گزشتہ 6 ماہ سے مسلسل کرفیو، پابندیوں، فوجی چیک پوسٹوں اور سنگینوں کے سائے میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ بھارت نے باقاعدہ منصوبے کے تحت کشمیر کی معیشت کو تباہی سے دوچار کیا۔ پھلوں اور سبزیوں کا سیزن ختم ہو گیا۔ فصلیں تباہ ہو گئیں۔ سیب جو کہ کشمیر کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اس کی فصل کھڑے کھڑے تباہ ہو گئی سیاحت کا خاتمہ ہوگیا۔ روزگار کے مواقع کم سے کم ہوتے گئے۔

ہزاروں نوجوان گرفتار ہیں۔ جیلوں ا ور عقوبت خانوں میں بدترین تشدد اور تذلیل برداشت کر رہے ہیں۔ جنسی تشدد اور اور زندگی کو خواتین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کشمیری عوام کو مسلسل تشدد، ظلم و جبر اور پابندیوں کا سامنا ہے۔ مگر کشمیریوں کے حوصلے ٹوٹے نہیں ہیں۔ ان کی جرأت اور لگن میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ وہ روز نکلتے ہیں۔ نعرے لگاتے ہیں۔ بھارتی قابض افواج کی طرف پتھراچھالتے ہیں۔ اپنی نفرت اور غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ جواب میں انہیں پیلٹ گن کے چھرے، آنسو گیس اور گولیاں ملتی ہیں۔ یہ انسانی جذبے، جرأت اور حوصلے کا فوجی طاقت کے ساتھ مقابلہ ہے۔ ایک طرف نہتے نوجوان اور بچے ہیں جو آنکھوں میں آزادی کے خواب سجائے دیوانہ وار بھارتی فوجی طاقت سے ٹکراتے ہیں۔ ہزاروں کشمیری جام شہادت نوش کر چکے ہیں مگر ان کا آزادی کا خواب ٹوٹا نہیں ہے۔ ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ ان پر کونسا ایسا جبر اور ظلم ہے جو آزمایا نہیں گیا۔ اجتماعی آبرو ریزی سے لے کر پیلٹ گنوں تک اور گولیوں سے لے کر عقوبت خانوں کے غیر انسانی تشدد تک سب کچھ آزمایا گیا مگر ان کا عزم اور لگن ٹوٹ نہ سکے۔ ایک طرف قربانیوں اور جدوجہد کی بے مثال تاریخ، دوسری طرف ظلم اور بربریت کی طویل داستان اور تیسری طرف ہماری اجتماعی ذمہ داری۔ 72 سالوں میں نہ تو کشمیریوں کی جدوجہد اور قربانیوں میں کمی آئی ہے۔ آج بھی کشمیری اپنے خون سے اپنی آزادی کی تحریک کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف بھارتی حکمرانوں کا جبر اور بربریت

ہے جس میں بھی کمی نہیں آئی۔ مودی نے تو اس حوالے سے تمام حدیں ہی پار کر دی ہیں۔ اب رہ جاتے ہیں ہم اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں۔ اس حوالے سے چند سوالات ضرور کھڑے ہیں۔ اب تک ہم نے جنگیں بھی لڑی ہیں۔ مسلح جدوجہد کے ذریعے بھی کشمیریوں کو آزادی دلانے کی کوشش کی ہے مگر نتائج ہماری توقعات کے مطابق نہیں نکل سکے۔ کچھ لوگ اب بھی جنگ کی بات کرتے ہیں۔ کچھ کے نزدیک جہاد ہی آزادی کا واحد راستہ ہے۔ ہم نے ماضی میں دونوں کو آزمایا ہے مگر مسئلہ حل ہونے کی بجائے الجھتا ہی گیا ہے۔ پیچیدگیاں بڑھتی گئی ہیں۔ گزشتہ6ماہ کے حالات و واقعات کیا ہمیں یہ دعوت نہیں دیتے کہ ہم ٹھنڈے دل و دماغ سے سر جوڑ کر بیٹھیں اور کشمیر کی صورت حال کا گہرائی سے تجزیہ کر کے ایک ٹھوس لائحہ عمل اختیار کریں۔ کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ ہم اپنے سیاسی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک حقیقی قومی کشمیر پالیسی کی تشکیل دیں۔ ایک ہمہ جہت اور مؤثر قومی کشمیر پالیسی۔ جس میں تمام سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹ، دانشوروں، انسانی حقوق کے کارکنوں، مزدور رہنماؤں اور دیگر شعبوں کو شامل کیا جائے۔ ہمیں بحیثیت قوم اب نعروں، بیانات اور تقریروں سے آگے بڑھ کر مختصر اور طویل المدتی حکمت عملی اور لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں یہ ماننا چاہیے کہ ہماری گزشتہ 6 ماہ کی کوششوں کے باوجود ہم کشمیریوں کو کسی بھی قسم کا ریلیف فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ عالمی سطح پر اس وقت بڑی طاقتوں کی سربراہی جس قسم کی شخصیات کے پاس ہے ان سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی جا سکتیں۔ صدر ٹرمپ سے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن تک کوئی بھی بھارت کی ناراضگی مول لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کے نزدیک بھارت کی منڈی اور معیشت کشمیریوں کے خون اور ان پر ہونے والے مظالم سے زیادہ اہم ہے۔ ان کے معاشی مفادات کشمیریوں کے انسانی و جمہوری حقوق سے زیادہ اہم ہیں۔

ہمیں بڑے ممالک میں حکومت کے علاوہ بھی ایسی قوتوں کو تلاش کرنے اور ان کے ساتھ مل کر کام کی ضرورت ہے جن کی طرف ہمیں کشمیریوں پر ظلم و جبر اور بربریت کے خلاف حمایت مل سکتی ہے۔

اس وقت عالمی حالات اور ہمارے اپنے خطے کے حالات اس طرح کے ہیں کہ نہ تو اکیلی حکومت اور نہ ہی کوئی اکیلا ادارہ اس صورت حال سے نبرد آزما ہو سکتا ہے۔ ہمیں ایک کثیر الجہتی پالیسی اور حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

ہمیں سفارتی محاذ پر جارحانہ حکمت عملی اور پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس بلانی چاہیے جس میں تقریروں کا مقابلہ نہ ہو بلکہ سنجیدگی سے صورت حال کا جائزہ لیا جائے اور پھر ایک ٹھوس حکمت عملی اختیار کی جائے۔ اسی طرح پاکستان کے نامور صحافی، دانشور اور انسانی حقوق کے نمایاں کارکن جن کی دنیا معترف ہے۔ ان کے نظریات اور خیالات کو بالائے طاق رکھ کر ان کے ساتھ بات چیت کی جائے۔ انہیں کشمیر کے حوالے سے متحرک کردار کرنے کا کہا جائے۔ ہم اس بات پر آپس میں بحث و مباحثہ جاری رکھ سکتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ کیسے حل ہو گا مگر اس وقت کس قدر اذیت، تکلیف اور درد میں کشمیری عوام مبتلا ہیں۔ ان کو اس سے ریلیف دلانے کے لیے جو اقدامات ہم مل جل کر لے سکتے ہیں وہ تمام تر نظریاتی اور سیاسی اختلافات رکھنے کے باوجود ہمیں لینے چاہئیں۔ ہمیں ایک دوسرے سے ڈرنے اور خوفزدہ ہونے کی بجائے مل کر کشمیریوں کے لیے ایکتا کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر