05 فروری 2020 2020-02-05

4فروری کو منصورہ لاہورمیں واقع جماعت اسلامی کے جامعہ المحصنات جانے کا اتفاق ہوا تو پتہ چلا کہ جامعہ میں کشمیر کی لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں سے تعلق رکھنے والی 17 طالبات بھی زیر تعلیم ہیں۔ گفتگو کو موقع ملا تو احساس ہوا کہ یوں تو یہ طالبات یہاں زیر تعلیم ہیں مگر انکے شب و روز اپنے گھر والوں اور بارڈر پار رہنے والے رشتہ داروں کے بارے میں فکر مند رہتے ہوئے ہی گزرتے ہیں۔ جامعہ میں درس نظامی کی طالبہ تسنیم سہیل اور انکی دوستوں نے بتایا کہ اگست میں موسم گرما کی چھٹیوں کے بعد کشمیر سے واپس آنا تھا تو مگر لائن آف کنٹرول کے سامنے سے گزرنے کے لئے ڈیڑھ ماہ کا وقت لگ گیا۔ انھوں نے بتایا کہ رات کے 3 بجے گھر سے نکلے تو یہ یقین نہیں تھا کہ زندہ واپس پہنچیں گے بھی یا نہیں۔ طالبات کی سرپرستی کرنے والی استاد شازیہ عبدالقادر نے بتایا کہ کشمیر سے واپسی پر ان طالبات کو نارمل کرنے میں کافی وقت لگا۔ ابھی بھی کوئی خبر انھیں بے چین کر دیتی ہے۔ لاہور میں مقیم طالبات کے علاوہ ہم نے کشمیر مظفرآباد میں مہاجرین کیمپ بھی بنائے ہیں مگر بارڈر کے اطراف میں رہنے والے کشمیری نہ اپنی جگہ چھوڑنے کو تیار ہوتے ہیں اور نہ ہی لائن آف کنڑول کے دوسری طرف موجود اپنے رشتہ داروں کے ساتھ واسطہ ختم کرنے کے لئے رضامند ہوتے ہیں ، کشمیری طالبہ تسنیم سہیل سے کشمیر کی موجود صورتحال پوچھی تو انھوں نے کچھ کہنے کے بجائے نم آنکھوں کے ساتھ چند اشعار پڑھ دئیے :

کشمیر کربلا میں غیرت پکارتی ہے

ڈوبی ہوئی لہو میں جنت پکارتی ہے

بکھری ہوئی ہیں لاشیں کشمیر کی زمین پر

اک داغ بے حسی ہے ایمان کی جبیں پر

امت کو جڑنا ہو گا اک مرکز یقین پر

بہتے ہوئے لہو کی قیمت پکارتی ہے

ڈوبی ہوئی لہو میں جنت پکارتی ہے

کشمیریوں پر ظلم و ستم کا یہ سلسلہ کل کی بات نہیں ہے بلکہ یہ گھناؤنا جال اس وقت ہی بچھا دیا گیا تھا جب انگریزوں نے کشمیر کو محض 75 لاکھ کے عوض مہاراجہ گلاب سنگھ کو فروخت کر دیا۔ برصغیر کی تقسیم ہوئی تو

کشمیریوں کی قسمت کا فیصلہ مہاراجہ ہری سنگھ کے ہاتھ میں آ گیا جس نے کشمیریوں کی مرضی کے خلاف جا کر بھارت سے الحاق کا معاہدہ سائن کر لیا۔ اسی جعلی معاہدے کی بنیاد پر بھارت آ ج تک کشمیر پر اپنا حق جتاتا رہا ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ اکتوبر 1947 سے دسمبر 1948تک جاری رہی۔ کشمیر ہاتھ سے نکلتا ہوا نظرآیا تو جواہر لعل نہرووں کو حق خود ارادیت دینے کی قراردادیں منظور کر لیں۔ خود اقوام متحدہ کے پاس جانے اور قراردادوں کی شرط پر جنگ بندی کے باوجود بھارت اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گیا اورآج تک کشمیریوں پر مسلط ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بعد 1987 تک کشمیرمیں کچھ حد تک امن رہا ہے مگر 1987کے الیکشنز میں مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں نے جب الیکشن میں حصہ لینے کی کوشش کی بھارتی سرکار کی دھاندلی نے کشمیریوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ کشمیریوں کو احساس ہوا کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اس طرح تحریک آزادی نے ایک مرتبہ پھر زور پکڑا۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں نے آزادی کی تحریک چلائی تو بھارت سرکار نے فوج مسلط کر دی ،کرفیو، موبائل فون سروس کی بندش، نہتے کشمیری مسلمانوں پر پیلٹ گنز کا استعمال اور ظلم کے جتنے پہاڑ توڑے جا سکتے تھے وہ کشمیریوں پر توڑے گئے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے اکٹھے کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق کشمیری جنوری 1989سے دسمبر2019 کے درمیان 95ہزار 475 شہدا، 50 لاکھ سے زائد زخمی ، 10ہزار سے زائد لاپتہ افراد ، 7ہزار سے زائد حراستی قتل ، ڈیڑھ لاکھ سے زائدگرفتارشدگان، 11ہزار سے زائد خواتین کی اجتماعی بے حرمتی کے واقعات ، 22 ہزار سے زائد خواتین کو بیوہ اور 1 لاکھ سے زائد بچوں کو یتیم ہوتے دیکھ چکے ہیں۔ بھارتی فوج کی بے حسی نے جہاں40 ہزار سے زائد کشمیریوں کو ہجرت پر مجبور کیا وہاں ہی 1لاکھ سے زائد مکانات بھی تباہ کر دئیے۔ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد72سال سے جاری تو ہے ہی لیکن لائن آف کنڑول کے دونوں اطراف میں موجو د کشمیری جو قربانیاں دے رہے ہیں انکا ازالہ شائد اگلے سو سالوں میں بھی ممکن نہ ہو۔کشمیر کے دونوں فریق بھارت اور پاکستان کو اب کسی فیصلہ کن نتیجے پر پہنچنا ہو گا اور عالمی طاقتوں کو صرف قراردادوں اور ثالثی کی پیشکش سے آگے پیش قدمی کرنا ہوگی۔تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو بھارت کی ہٹ دھرمی نے تو کشمیر کو خون میں نہلایا ہی لیکن پاکستان بھی دنیا کو کشمیر کی مد د کے لئے قائل نہیں کر سکا۔ لیکن اس مرتبہ کشمیر کا کیس پاکستانی حکومت کی جانب سے قدرے مظبوط بھی ہے اور سفارتی صورتحال کے پیش نظر دنیا کے بڑے ممالک پاکستان کی اگر حمایت نہیں کر رہے تو مخالفت بھی نہیں کر رہے۔بھارت کو ایک بڑی تجارتی منڈی ہونے کی وجہ سے پاکستان کی نسبت معاشی لحاظ سے اہمیت ضرور حاصل ہے مگر پاکستان کی جغرافیائی اہمیت عالمی طاقتوں کو پاکستان کی مرہون منت بھی رکھتی ہے۔چین ، امریکہ ، روس ، سعودی عرب اور دیگر ممالک اپنی معاشی ضروریات کو اہم ضرور سمجھتے ہیں لیکن کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے مخالف فریق نہیں بن سکتے۔اس لیے پاکستان کو کسی ملک سے مدد کی امید رکھے بغیر مداخلت نہ کرنے کو غنیمت جانتے ہوئے اپنا کیس خود لڑنا ہو گا کہ کشمیریوں کا یقین پاکستان پرہے وہ کسی عالمی طاقت کی طرف نہیں دیکھ رہے بلکہ انکا ایمان یہی گواہی دیتا ہے۔۔کشمیر بنے گا پاکستان


ای پیپر