05 فروری 2020 2020-02-05

آج کے بدلے پاکستان میں مہنگائی, بھوک اور غربت ایک سماجی بے چینی کا باعث بن چکی ہے۔ گندگی کے ڈھیروں, فائیو سٹار ہوٹلوں اور شادی ہالوں کے باہر رزق تلاش کرنے والوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ صنعتیں بند پڑی ہیں۔ زراعت زبوں حالی کا شکار ہے اور کاروباری طبقہ اپنا سرمایہ لگانے کو تیار نہیں ہے۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگاہی جرائم میں اضافے کا سبب بن رہی ہے جس سے بدعنوانی پھیل رہی ہے۔ انسانی اور معاشرتی کردار کا تاریک پہلو روز کسی نہ کسی صورت میں میڈیا پر نظر آرہا ہے۔ دوسری طرف ہماری جمہوریت طرز حکمرانی بہتر بنانے کی بجاے بھوکی اور بیروزگار عوام سے صبر, سچائی شرافت اور ایمانداری کی توقع کر رہی ہے جبکہ غریب آدمی اپنے اور بیوی بچوں کے لئے دو وقت کا کھانا اور دوائی تک نہیں لا پا رہا ہے اور آج کے پاکستان میں اپنے بچوں کی پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے غریب آدمی اپنے اعضاء تک بیچنے کو تیار ہے۔

حالات کی ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت کے پاس غربت کے خاتمے کے لیے مرغبانی, انڈا فروشی اور کٹا پروری جیسی سکیمیں ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت ہفتہ وار ایک حماقت ضرور کرتی ہے۔ عمران خان کے اردگرد جو لوگ بیٹھے ہیں وہ غربت کے خاتمے کے لیے انوکھے مشورے دیتے رہتے ہیں۔

حکومت سمجھ نہیں پا رہی کہ پاکستان وہ ملک ہے جس میں معیشت کے اپنے پاؤں نہیں ہیں۔ یہ معیشت سامراجی گاڑی میں سوار ہے۔ اس لئے اگر امریکی صدر ٹرمپ یا سعودی شہنشاہ ناراض ہوں تو عمران خان بھی دائمی کمزوری محسوس کرتے ہیں۔ حکومت کی سب سے بڑی ناکامی اور نااہلی مہنگائی اور بے روزگاری ہے جس سے معاشرتی خرابی پیدا ہو رہی ہے اور ساتھ ساتھ سیاسی بے چینی کے جذبات بھی ابھر رہے ہیں۔ اگر یہ بے چینی خطرناک حد تک پہنچ گئی تو حکومتی تبدیلی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

حکومت یہ بھی سمجھ نہیں پا رہی یا سمجھنا نہیں چاہتی کہ غریب عوام کا سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ مہنگائی ہے جس نے سب سے زیادہ مزدور اور غریب طبقے کو متاثر کیا ہے۔ آج کا غریب مزدور روزانہ اپنی نعش اپنے ہی کندھوں پر اٹھا کر مزدوری کی تلاش میں پھرتا نظر آتا ہے مگر اسے خود کو دفن کرنے کی جگہ نہیں ملتی۔ آٹا,چاول, دال, سبزی اور دوسری بنیادی چیزوں کی قیمتوں میں

تاریخی اضافہ ہوچکا ہے جس نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

حکومت ہے کہ ہر دو ماہ بعد بجٹ خسارہ, گردشی قرضہ, شرح کٹوتی, کلیاتی معاشیات میں غیر توازن اور ڈالر سے برابری جیسے بیشمار الفاظ استعمال کرکے شماریات کا ایک گورکھ دھندہ عوام کے سامنے پیش کر دیتی ہے۔ اشیا کی قیمتیں بڑھنے سے ایک معاشی, معاشرتی اور سیاسی ہنگامہ پیدا ہوتا ہے جس کے بعد معاشی پالیسی کے بنیادی ستونوں کو سامنے رکھ کر حکومتی ڈرائنگ رومز اور میڈیا ہاؤسز میں ایک بحث ہوتی ہے جبکہ عام اور غریب آدمی مہنگائی کی چکی میں پستا خط غربت سے اور نیچے چلا جاتا ہے۔

غربت اور مہنگائی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ 2019 میں غربت کی شرح میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ لاکھوں لوگ خط غربت سے نیچے آگئے ہیں۔ حکومت کی غریب نواز پالیسیاں غیر موثر رہی ہیں۔ غربت پر قابو پانے کے لئے احساس اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ غریب اور ایماندار آج کے پاکستان میں سب سے زیادہ پریشان ہیں۔ انکا معیار زندگی بلند نہیں ہوا مگر شعور ضرور بیدار ہو چکا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ ہر دفعہ پارلیمنٹ پر اٹھنے والے اربوں کے غیرمعمولی اخراجات کے باوجود عوام کو کیا فائدہ ہورہا ہے؟ اس جمہوریت میں پارلیمنٹ اور کابینہ کے فاضل ممبران براہ راست چینی, آٹے, چاول اور گھی جیسے بحرانوں کا سبب بن رہے ہیں۔

ہر شہری کو بنیادی ضروریات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان میں سرمایہ داری نظام کا خاتمہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ اس نظام کی بنیادی خاصیت یہ ہے کہ اس میں اکثریت غریب ہوتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں ہو پاتی۔ اس وقت ملک کے وسائل اور پیداوار پر ایک مخصوص طبقے کا قبضہ ہے۔ چونکہ پاکستان نے ایک طبقاتی معاشرہ ہے اس لیے غربت اور طبقاتی تقسیم پاکستان کا بنیادی مسئلہ بن گے ہیں جس کے لئے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

اگر غربت کا خاتمہ ہوتا ہے تو موجودہ معاشی اور سیاسی نظام بھی یکسر تبدیل ہو جائیں گے۔ جمہوریت بھی اپنی صحیح ترین شکل میں سامنے آجائے گی جس میں بنیادی فیصلے عوام خود کریں گے۔ معیشت, معاشرت, تعلیم, صحت کے اداروں کی بہتری, کرپشن, لوٹ مار, طبقاتی تقسیم اور مذہبی منافقت جیسے بنیادی مسائل کو ختم کرنے کے لیے قانون سازی بھی عملی طور پر تبھی کامیاب ہو گی جب غریب عوام کی بنیادی حالت میں بہتری آے گی۔

مان لیا کہ حکومت کی آمدنی اور اخراجات میں توازن آگیا ہے مگر اس سے غریب آدمی کو کیا فرق پڑا ہے؟ غریب آدمی کو تو اس سے بھی غرض نہیں کہ ہم نے اگلے پانچ سال میں 37 بلین ڈالر کا قرضہ دینا ہے۔ غریب عوام نہ ہی ووٹ کو عزت دینے میں دلچسپی رکھتی ہے اور نہ بوٹوں کے معاملات کو سمجھتی ہے۔ غریب آدمی چاہتا ہے کہ اگر عمران خان آمدن سے زائد اثاثہ جات کا نوٹس لے رہے ہیں تو آمدن سے زائد مہنگائی کے بوجھ کا نوٹس بھی لیں۔

جناب عمران خان صاحب بنی گالہ سے باہر نکل کر کسی کریانہ کی دکان پر جائیں اور غریب کے ادھار کی لمبی تفصیل دیکھیں۔ غریب عوام آپ سے ہمدردی اور ہم گزاری کی توقع رکھتی ہے۔ خدارا غریب عوام کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ انہیں لگے کہ آپ ان کے بارے میں فکر مند ہیں۔


ای پیپر