05 فروری 2020 2020-02-05

چند دن قبل بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سرکاری افسران کے گھپلوں ،سہ ماہی وظیفہ وصول کرنے کا انکشاف ہوا 5.2 ملین خواتین بی آئی ایس پی سے مستفید ہورہی تھیں جن میں سے بتایا گیا کہ آٹھ لاکھ بیس ہزار کا اندراج غلط ہوا جنہیں اسی پروگرام سے فارغ کرکے سولہ ارب روپے کی بچت کی گئی ،بی آئی ایس پی میں 2037 ایک گریڈ سے سولہ اور سترہ گریڈ سے بائیس گریڈ تک کے ایسے سرکاری افسران کا نام سامنے آیا جن کی بیگمات ماہانہ سولہ سوروپے وظیفہ وصول کرتی رہیں ،صدقات ،زکواۃ ،بیرونی امداد کے اس وظیفہ کو مالی مفت دل بے رحم کی طرح گزشتہ کئی سالوں سے لوٹا جاتارہا ،2037 سرکاری افسران میں سے سب سے زیادہ سرکاری افسران ان کی بیگمات 938 کا تعلق کرپٹ ترین صوبائی حکومت سندھ سے ہے ،خیبر پختونخوا سے 343 ،پنجاب سے 101 ،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 12 افسران اور 40 کی بیگمات جبکہ گلگت سے 40 افسران اور ان کی بیگمات غریبوں کے مال پر ہاتھ صاف کرتی رہیں ،بی آئی ایس پی میں کوئی بھی ایسا سرکاری ملازم جس کی گاڑی ہو ،بیرون ملک سفر کیا ہوا ،بجلی کا بل چھ ہزار روپے سے زائد آتا ہو اور شناخی کار بنوانے میں ایگزیکٹو کی سہولت حاصل کرنے والے یہ ماہانہ یا سہ ماہی وظیفہ وصول نہیں کرسکتے لیکن ہمارے ملک میں کرپشن کی عجب کہانیاں ،واقعات ،مشاہدے میں آنا روز کا معمول ہے ۔سرکاری افسران جن میں بہت کم ایسے ہیں جو اپنی تنخواہ پر گزارا کرتے ہیں جبکہ ان کی تنخواہوں میں بھی بے پناہ اضافہ کیاگیا ہے ، کرپشن کرنا ،رشوت لینا اب تقریباًافسران کا معمول ہے طریقہ سب کا الگ الگ ہے ۔اس کے باوجود غریبوں کے مال پر ہاتھ صاف کرنا انتہائی شرم اور ڈوب مرنے کا مقام ہے ،عمران خان نے سرکاری افسران کے نام سامنے لانے اور ان کے خلاف سخت سے سخت اقدامات کرنے کا اعلان تو کردیا لیکن ایک ماہ گزرنے کے بعد نہ تو نام سامنے آئے اور نہ ہی ان افسران کو ملازمت سے فارغ کیاگیا ،مصدقہ اطلاعات کے مطابق پہلے مرحلے میں نوٹسز جاری کرکے ان سے جواب طلب کیاگیا

،تازہ ترین میڈیارپورٹس کے مطابق ایف آئی اے نے ڈیرہ اسماعیل خان سمیت صوبے بھر میں تعینات 343 افسران اور ملازمین کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے رقوم وصول کرنے پر نوٹسز جاری کرتے ہوئے طلب کرلیا ہے ،خیبر پختونخوا کے گریڈ بیس کے دو ،گریڈ انیس کے بارہ ،گریڈ اٹھارہ کے پچیس اور گریڈ چار سے سترہ تک کے 303 افسران شامل ہیں ،صوبے کے 343 افسران کی تفصیلات جاری کردی ہیں جن میں سولہ افسران نے خود جبکہ 327 افسران نے اپنی بیویوں کے نام پر رقوم وصول کی ہیں ،ان کی تفصیلات ایف آئی اے کے حوالے کردی گئی ہیں ،محکمہ صحت ،زراعت ،تعلیم ،جنگلات ،نادرا ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ،محکمہ بلدیات ،لوکل گورنمنٹ سمیت مختلف صوبائی محکموں سے تعلق رکھنے والے گریڈ سات سے گریڈ سولہ تک اور گریڈ سترہ سے گریڈ اٹھارہ تک کے افسران شامل ہیں ،گریڈ انیس سے گریڈ بائیس تک افسران شامل ہیں جن سولہ افسران نے خود بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے رقوم حاصل کی ہیں ان میں زیادہ ترگریڈ سولہ تک کے افسران شامل ہیں جبکہ 327 افسران جنہوںنے اپنی بیویوں کے نام پر رقوم حاصل کی ہیں ۔ جب تک ان کرپشن کے ناسوروں کو عبرت کا نشان نہیں بنایا جاتا یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے ۔حکومت اور ایف آئی اے کی گیڈر بھبتیوں سے کرپشن کا افسر شاہی کا سانڈھ منڈھیر پر چڑھنے والا نہیں ، ہماری افسر شاہی اب ویسے بھی بے لگا م گھوڑا بن چکی ہے ۔پی ٹی آئی کے ابتدائی ڈیڑھ سالوں میں کرپشن کی سطح بہت بڑھ گئی صرف زبانی جمع خرچ اور لیپا پوتی ،یعنی فوٹو سیشن سے کام چلایا جارہا ہے ،کوئی چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں ہے ، کرپٹ افسر شاہی کو بڑے بڑے عہدوں پر تعینات کرنا چہ معنی دارد ،خیر بات ہورہی تھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کرپشن اور کرپٹ سرکاری افسران واہلکاروں کے خلاف کاروائی کی ،ایک رپورٹ کے مطابق 08 لاکھ 20 ہزارایک سو 65 جو لوگ مرد وخواتین خارج کیے گئے ہیں ان میں ایک لاکھ سے زائد افسران ،اہلکار شامل ہیں جن میں ابتدائی طور پر تین ہزار کے خلاف کاروائی کا آغاز ہوچکا ہے جس کے نتائج کا انتظار ہے کرپٹ سرکاری افسران کے خلاف گھیرا تنگ کیا جارہاہے ضرورت اس بات کی ہے کہ جو بھی کرپشن ہمارے بیت المالوں ،زکواۃ فنڈ اور بی آئی ایس پی جو کہ اب تبدیل ہوکر احساس پروگرام بن گیا ہے کی جاتی ہے کہ خلاف ٹھوس بنیاد پر مخلصانہ کاروائی کی جائے ،پی ٹی آئی حکومت نے اب بی آئی ایس پی پروگرام کو احساس پروگرام میں تبدیل کردیا ہے اور اب اس سے مستفید ہونے والی خواتین کی تعداد کو 5.2 ملین سے بڑھا کر 7 ملین کردیاگیا ہے جبکہ اب ماہانہ سولہ سوکی بجائے دوہزار روپے ملا کریں گے جو کہ بینک میں اکائونٹ اور بائیو میڑک سسٹم کے تحت ہر ماہ ملیں گے ۔اچھی بات یہ ہے کہ جتنی بھی کوشش شفافیت کے لئے کی جائے وہ قابل تعریف ہے۔ آخر میں ایمنسٹی انٹر نیشنل کی پاکستان کے بارے میں سال 2019 میں کرپشن کے حوالے سے بات ہوجائے ،عمران خان کا واحد ایجنڈا الیکشن سے پہلے احتساب ، کرپشن کا خاتمہ تھا ،گزشتہ ڈیڑھ سال میں حکومت کا کوئی میگا سیکنڈل کرپشن کا سامنے نہیں آیا لیکن اب گندم ،چینی ،گیس ،بجلی کے بحرانوں نے سوالیہ نشان کھڑے کردیئے ہیں ،بی آر ٹی کامنصوبہ بھی ناقص منصوبہ بندی اور بدانتظامی کی آخری حدوں کو چھورہا ہے ۔ایمسنٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا اب کرپشن میں 117 سے نمبر 120 اور سکور 33 سے کم ہوکر 32 جبکہ پانچ ایجنسیوں نے منفی رپورٹ دی ہے ۔ایسی صورتحال میں پی ٹی آئی کی حکومت کے پاس کچھ کرنے اور دکھانے کے لئے بہت کم وقت رہ گیا ہے، پنجاب میں حکومت ڈاواں ڈول ہے کسی بھی وقت بزدار کا نام بزدلوں میں شامل ہوسکتا ہے ۔خیبر پختونخوا میں بھی حالات ناگفتہ بہ اور کرپشن عروج پر ہے ،حکومتی وزرا ،اراکین کرپٹ اور کمیشن مافیا کے آلہ کار جبکہ نوالہ ہم پیالہ ہیں تو ایسی صورتحال میں جب مہنگائی ، بے روزگاری عروج پر ، کرپشن کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہو ،حکومتی کشتی سمند ر کی لہروں کے تھپیڑوں کی زد میں ہے۔

عوام الناس کا مطالبہ ہے کہ کرپشن کے ناسور کو ختم کرنے کے لئے جمہوری اداروں اور قانون کی بالا دستی کو یقینی بنایا جائے ،سیاسی اداروں کو سیاست سے پاک کیا جائے اور پی آئی ایس پی میں نہ صرف کرپٹ افسر شاہی کے افسران جبکہ ان سیاسی گماشتوں اور جماعتوں کے اراکین ،بڑوں کو بے نقاب کیا جائے جو بی آئی ایس پی اور دیگر اداروں کے فنڈز سے مستفید ہورہے ہیں ۔


ای پیپر