05 فروری 2020 2020-02-05

چین میں کر ونا وائرس کی آفت ایک ایسے وقت پہ اٹھی ہے جب چین اور امر یکہ کے درمیان تجارتی جنگ اپنے نقطہ عروج پر تھی اور کہا جا رہا تھا کے چین آنے والے وقت میں اور امر یکہ سے اس کا سپر پاور اعزاز چھین لے گا۔ چین کو اس بیماری سے اتنا نقصان نہیں ہوا جتنا اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بو کھلاہٹ نے چین کی قومی معیشت میں تباہی مچادی ہے۔ چین کے شہر ووہان سے اٹھنے والی اس مصیبت سے اطلاعات کے مطابق 370افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ 17ہزار متاثر ہیں اور یہ وائرس اب تک 20ممالک تک پہنچ چکاہے جس سے بین الاقومی منڈیوں میں بھی سٹاک کی قیمتیں گر رہی ہیں چینی سٹاک ایکسچینج میں حصص کی قیمتیں 9فیصد گری ہیں جو 2015کی سطح پر آگئی ہیں جس سے 2600 کمپنیوں کے اربوں ڈالر ڈوب گئے ہیں اور مر کزی بنک نے 120ارب مارکیٹ میں دینے کئے ہیں تاکہ خسارے کو روکا جا سکے۔

چین کے امیر اور خوشحال لوگ ہر سا ل چین کے نئے سال کے موقع پر بیرون ملک جا تے ہیں اس سال یہ وائرس عین نئے سال کے موقع پر سامنے آیاجس کے بعد چین میں کرفیو کا سماں ہے لوگ کمروں میں محصورہیں سکول یونیورسٹیاں اور کاروباری ادارے بند ہیں۔ترکی کے ایک بڑے ہوٹل میں جو استنبول میں واقع ہے جہا ں ہر سال چینی شہریوں نے نئے سال کی تقریبات کیلئے پہلے سے بکنگ کی ہوتی ہے مگر اس سال صورت حال یہ ہے کہ کمرہ جہا ں 1000پاؤنڈیومیہ پر دیا جاتا تھا وہ اس سال گاہک نہ ہونے کی وجہ 250پاؤنڈ میں دیا جا رہا ہے اس لحاظ سے دیکھیں تو وائرس کا اثر پوری دینا کے کاروبار پر پڑرہاہے جبکہ اس کے متاثرین میں سب سے زیادہ امریکہ کو نقصان ہو گا کیونکہ چین کے ساتھ سب سے زیادہ تجارتی لین دین امریکہ کا ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کے تجارتی سکیٹر کی صورتحال یہ ہے کہ یہاں پر مینوفیکچرنگ سکیٹر زوال کا شکار ہے جبکہ ٹریڈنگ سکیٹر عروج پر ہے اگر مینوفیکچرنگ ہو رہی تو چیزیں سستی ہوتی ہیں لیکن یہاں مڈل مین کا راج ہے مڈل مین کے بڑھتے ہوئے منافع کو دیکھ کر مینو فیکچرنگ کمپنیوں نے اپنی مضوعات تیا رکرنے کی بجائے

اپناسرمایہ ٹریڈنگ میں جھونک دیا۔ جس کا حتمی نتیجہ یہ ہوا کے پاکستان میں مقامی پروڈکشن کی بجائے چین سے ہر قسم کا مال امپورٹ کر کے اسے منافع پر بیچنے کا کاروبار فروغ پانے لگا۔ ماہرین معیشت اب بھی کہتے ہیں کے پاکستان میں مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جائے اور ٹریڈنگ کی حوصلہ شکنی کی جائے مگر ٹیکسوں کی بھر مار اور بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ مینوفیکچرنگ گھاٹے کا کاروبار ہے۔ ٹریڈنگ سیکٹر بڑابے رحم ہے یہ خام مال کا 100کلو گرام کا ایک بیگ چین سے ایک ہزار یا1200روپے میں امپورٹ کر کے پاکستانی فیکٹریوں کو دوہزار سے لے 2500روپے میں فروخت کرتے ہیں جس سے پیدا واری لاگت کو کم کرنا پروڈیوسر کیلئے ممکن نہیں رہتاچین سے امپورٹ کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ٹریڈرز نے جیسے ہی یہ دیکھا کہ چین کے ساتھ رابطے منقطع ہوئے ہیں۔ انہوں نے راتوں رات اپنے خام مال کی قیمت میں ہوشربااضافہ کر دیا مثال کے طور پر کپڑے کی صنعت میں استعمال ہونے والے ،ایک آئیٹم سوڈیم فلیکس کا ایک بیگ جو 2200روپے میں ملتا تھا اب 2900میں فروخت میں ہو رہا ہے اور یومیہ اضافے کی وجہ سے اس کی قیمت اگلے ایک ہفتے میں 4000روپے ہو جا ئے گی اب پیداواری لاگت بڑھنے سے مقامی مارکیٹ مہنگی ہونے کا خطرہ ہے۔ البتہ پاکستانی معیشت کیلئے کروناوائرس میں مثبت پہلو یہ ہے کہ چین پر انحصار کر نے کی بجائے ہمیں مقامی پیداواری سیکٹر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔جب تک ٹریڈر اور مڈل مین مضبوط ہے مقامی صنعت ترقی نہیں کر سکتی۔

بات چین کے کروناوائرس سے شروع ہوئی تھی۔ چین کی حالیہ پر تاریخ نظر دوڑائیں تو چین کی جی ڈی پی گروتھ یا سالانہ شرح نمو 2010ء میں10 فیصد سے زیادہ تھی جو کم ہوتے ہوئے اب 6فیصد رہ گئی ہے چین کو اس پر بڑی تشویش ہے چین کا ون بلیٹ ون روڈ کا سی پیک منصوبہ اصل میں اپنی سالانہ شرح نمو کو اوپر لانے کیلئے شروح کیاگیا تھا کے اگر دنیاچین تک نہیں پہنچ سکتی تو چین خود دنیا تک پہنچ جائے گی۔ پاکستان تو محض ایک گزر گاہ ہے سی پیک نے یہاں سے گزر کر 60سے زیادہ ممالک تک پہنچنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔

امریکی کامرس سیکرٹری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس وائرس کے بعد روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں امریکہ کو فائدہ ہو گا لیکن انہیں یہ نہیں پتہ کے امریکی کمپنیوں نے اربوں ڈالر کی لا گت سے جو چین میں اپنے کمپنیوں کے پلانٹ لگا رکھے ہیں وہ بند پڑے ہوئے ہیں اور اس کا خسارہ امریکی کمپنیوں کوہو رہا ہے۔ چین سے اٹھنے والی اس نئی آفت نے پوری دنیا کی معیشت کا سانس بند کر دیا ہے اور پوری دنیا کی کاروباری مارکیٹیں لرز رہی ہیں۔ کاروبار پر خوف کے سائے منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ بے یقینی عروج پر ہے۔ ٹریڈ اور سپلائی چین کا نظام درہم برہم ہو چلا ہے۔ چینی شہروں میں لاک ڈاؤن کی کیفیت ہے مگر چینی حکومت کہتی ہے کہ یہ سب عارضی اور شارٹ ٹرم ہے حالات جلد بہتر ہوں گے سفری پابندیاں 9فروری تک ہیں مگر اس میں توسیع کے امکانات زیادہ ہیں۔ چین کے سٹیٹ بینک نے 1.2 ٹریلین یو ان کی رقم جاری کرتے ہوئے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ خسارہ اٹھانے والی کمپنیوں کو کیش فراہم کیا جائے تا کہ وہ بند نہ ہوں۔

کرونا وائرس نے دنیا بھر کی سیاست اور معیشت کو تہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔ اس سے پہلے 2003ء میںافریقہ سے شروع ہونے والے SARS وائرس نے دنیا بھر کے کاروبار پر حملہ کیا تھا مگر اب کے بار اس کا اثر زیادہ خطرناک ہے کیونکہ 2003میں چین کی جی ڈی پی 1.6 ٹریلین ڈالر تھی جو اس وقت 13 ٹریلین ہے۔ جتنا بڑا حصہ ہو گی نقصان بھی اتنا ہی زیادہ ہو گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چین سے ملحقہ ملک مکاؤ میں ایک بہت بڑی امریکی کمپنی لاس ویگاس سینڈز نے اپنا آؤٹ لٹ وہاں بنا رکھا ہے یہ کمپنی جوئے کے اڈے چلانے میں مشہور ہے ان کا کہنا ہے کہ مکاؤ میں ان کا کاروبار 20 فیصد رہ گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کمپنی کے ملازمین نے ماسک پہنے ہوتے ہیں اور آنے والے گاہکوں کو سکریننگ کے لیے ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ ان حالات میں کاروبار کیسے چل سکتا ہے بہرحال کرونا وائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں سوچنے کی بات یہ ہے کہ اپنے سب سے بڑے حریف امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ میں مصروف چین نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک نادیدہ دشمن کے ہاتھوں اسے امریکہ سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔


ای پیپر