05 فروری 2020 2020-02-05

ایسے حالات میں جب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں پیشہ ور صحافیوں کے ساتھ ساتھ تجارتی اداروں نے بھی اپنے اپنے میڈیا ہاوٗسز بنا لیے ہیں توصحافت میں کچھ ایسے مثبت تبدیلوں کے ساتھ ساتھ ایسے رجحانات بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے صحافت کی بنیادی اقدار کو گہنا کر رکھ دیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل پاکستان ٹیلی ویژن کی معروف نیوز کاسٹر مہ پارہ صفدر کے یوٹیوب چینل پر پاکستان ٹیلی ویژن کے سابق جنرل منیجر اورکنٹرولر پی ٹی وی اکیڈمی اظہر لودھی اور سابق ڈائریکٹر نیوز عبدالشکور طاہر کی گفتگو سننے کو ملی۔

صحافت اور خاص کر الیکٹر انک میڈیا میں ماضی اور آج کے رجحانات کا تقابلی جائزہ شکور طاہر صاحب نے خوب کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ زندگی کے ہر شعبے میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ۔ ایک وقت تھا کہ ملک میں پاکستان ٹیلی ویژن ہی واحد چنیل تھا جس پر سب سے بڑا اعتراض ہی یہ تھا کہ اس پر صرف برسرِ اقتدار جماعت ہی کی کوریج کی جاتی ہے اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو قابلِ ذکر کوریج نہیں دی جاتی تھی۔ نئے ٹی وی چینلز کے آنے سے الیکٹرانک میڈیا نے میں تنوع کے رنگ ہیں ۔ ان چینلز سے یہ ہوا کہ ناظرین کو اپنی پسند کے پروگرام دیکھنے کی آزادی حاصل ہے ورنہ پہلے تو طوعاََ کرہاََ ایک ہی چینل پر نشر ہونے والے موادکو ہی برداشت کرنا پڑتا تھا۔ نئے چینلز کے آنے سے یہ مسئلہ تو حل ہو گیا ہے لیکن جہاں ٹیکنا لوجی نے ترقی حاصل کی ہے ، آزادی رائے کووسعت ملی ہے وہاں کچھ ایسے مسائل بھی آئے ہیں جن کا مشاہدہ عام فرد نے نہ کیا ہو لیکن وہ افراد جو اس پیشے سے منسلک رہے ہیں ان کے لیے یہ پیشہ وارانہ کمزوریا ں کسی پہاڑ سی غلطی سے کم نہیں ہوتی ہیں۔ خاص کر زبان و بیان کی غلطیاں بہت عام ہیں۔ لیکن پاکستان ٹیلی ویژن میں زبان و بیان کا خاص خیا ل رکھا جاتا تھا اور یہ تاثر عام تھا کہ اس زمانے کے خبر پڑھنے والوں کو سن کر لوگ اپنا تلفظ درست کیا کرتے تھے۔ تلفظ کی ادائیگی سے یاد آیا کہ لاہور میںشاعر اور ادیب فخر زمان نے پنجابی کانفرنس میں ایک واقعہ سنایاکہ جس روز سقوط ڈھاکہ کا المانک سانحہ ہوا اس رات پی ٹی وی کو کراچی سے ایک ٹیلی فون کا ل موصول

ہوئی او ر کال کرنے والے فردنے اس بات کی نشاندہی کی کہ نیوز کاسٹر نے لفظ سقوط کا قاف حلق سے ادا نہیں کیا ۔ خدا جانے یہ واقعہ ہوا بھی تھا یا نہیں یا پھر پنجابی کانفرنس میں رنگ بھرنے کو یہ واقعہ سنایا گیا۔بات ہورہی تھی تلفظ کی جس کا نئے چینلز نے کوئی خاص خیال نہیں رکھا۔ آج کے خبریں پڑھنے والوں میںسے کتنے ہوں گے جنہوں نے پروفیسر سید وحید الدین سلیم کی وضع اصطلاحات، احسان دانش کی تذکیرو تانیث، آسی ضیائی ، طاہر شادانی اور حفیظ احسن کی تحسین اردو اور رشید حسن خان کی انشا اور تلفظ، اردو اِملا، عبارت کیسے لکھیں یا پھر شمس الرحمٰن فاروقی کی لفظ و معنی سے فیض اُٹھایا ہو۔ دورِ حاضر کے خبر پڑھنے والوں میں سے ایک خاتون کی ویڈیو پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی جس میں خاتون نے خسرے کی بیماری کی خبر پڑھتے ہوئے اپنے ’’ادبی ذوق‘‘ کی وجہ سے اسے خواجہ سرا پڑھنا زیاہ مناسب سمجھا دیا۔ محترمہ اس سے بے خبر تھیں کہ خسرہ ایک بیماری ہے اور کُھسرا یا خواجہ سرا ایک شناخت۔

نئے چینلز کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پی ٹی وی کے مقابلے میں مواد پر زیادہ توجہ دی ہے لیکن یہاں شکور طاہر صاحب نے یہ سوال اٹھایا کہ مواد کا بھی تو کوئی معیارہوگا یا اسے بے لگام چھوڑ دیا جائے گا۔ انہوں نے اس بنیادی اصول کی بھی وضاحت کی کہ ریڈیو اور ٹی وی چینلز فقط رائے کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ سننے اور دیکھنے والوں کی ذہنی اور اخلاقی تربیت بھی کرتے ہیں۔ لیکن آج جب ہم مختلف چینلز پر نشر ہونے والے پروگرام دیکھتے ہیں تو افسوس کے اس بنیادی اصول کی پاسداری خال خال ہی دکھائی دیتی ہے۔ پی ٹی وی پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا تھا اور ہے کہ اس پر پہلی خبر یا تو صدر مملکت یا پھر وزیر اعظم کی نشر ہوتی تھی لیکن یہاں ایک دلچسپ بات شکور طاہر صاحب کے ذریعے یہ بھی معلوم ہوئی کہ رات پی ٹی وی پر نشر ہونے والی ہیڈ لائنز اگلے دن کے انگریزی اردو کے اخبارات کی بھی شہ سرخیاں ہوتی تھیں یعنی یہ درست ہے کہ پی ٹی وی پر پہلی خبر صدر یا وزیر اعظم کی ہوتی تھی لیکن اس میں خبریت کا عنصر بھی اسی حد تک شامل تھا۔ رہا سوال کہ پی ٹی وی نے ایوان اقتدار کے مکینوں کو تحفظ دیا اور ان پر تنقید سے گریز کیا بلکہ ان کے خلاف بھی خبروں کو نشر نہیں کیا۔ وضاحت شکور صاحب نے یوں دی کہ آج جتنے بھی نجی چینلز ہیںکیا وہ ان مسائل پر بھی بات کرتے ہیں جو ان چینلز کے مالکان کے دیگر کاروباروںسے پیدا ہورہے ہیں؟ ۔ یہاں بنیادی مسئلہ تربیت اور کلچر کا ہے۔

ہم میں سے ہر فرد اور ادارہ کسی نہ کسی درجے پر ضرور مصلحت یا پھر مجبوریوں کا شکا ر ہوجاتا ہے۔ بی بی سی کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ ایک مستند اور معتبر ادارہ ہونے کے باوجود وہ برطانیہ کی رائل فیملی کو اس طرح موضوع بحث نہیں بناتا جس طرح وہ سیاستدانوں یا دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کو زیرِ بحث لاتا ہے۔

خبریں پڑھنے کے دوران جذباتیت کے پہلو پر بات کی جائے تو اس حوالے سے تربیت کا بنیادی اصول تو یہ ہے کہ خبر پڑھنے والے کو غیر جانبداری سے خبریں پڑھنی ہیں لیکن یہاں اظہر لودھی بتاتے ہیں کہ یہ ایک مشکل مرحلہ ہے کہ ایک بہرحال خبر پڑھنے والا بھی ایک وجود رکھتا ہے کہ کسی غیر معمولی واقعے اور حادثے میں کس طرح اپنی غیر جانبداری کو قائم رکھ سکتا ہے ؟۔ اظہر لودھی پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ انہوں نے جس جذباتی انداز میں جنرل ضیاء کے جنازے کی رپورٹنگ کی اس میں وہ جانبداری کی آخری حد پر نظر آئے۔ شکور طاہر کہتے ہیں خبر پڑھنے والے کو خبر اس طرح پڑھنی چاہیے کہ خبر کی حساسیت اس کی آواز کے اتار چڑھائو سے محسوس ہو۔لیکن آج جب ہم تمام چینلز پر خبر یں سنتے ہیں تو ایک مصنوعی جوش و خروش اور ہنگامہ آرائی سننے کو ملتی ہے اور گنے چنے الفاظ اس تواتر سے دہرائے جاتے ہیں کہ سننے والا اکتاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے اور پھر اس پر ریٹنگ کا خبط سونے پہ سہاگہ۔ ہر چینل ہر خبر کو یہ ہی بتا کر پیش کرتا ہے کہ یہ خبر سب سے پہلے اس کے چینل سے ہی نشر کی جارہی ہے۔ چینل پر پگڑی اچھالنا اس کے علاوہ ہے جس کا چلن نئے ٹی چینلز کی آمد کے بعد ہی شروع ہوا ہے۔

ذرائع ابلاغ کی وسعت اور اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ لیکن ابلاغ کو پیشہ وارانہ اور سماجی تقاضوں سے مارواء نہیں ہونا چاہیے۔ ورنہ آج کل ہمارے ٹی وی چینلز پر آزادی رائے کے نام پر اور سلیکٹڈ عناصر کے لیے جس طرح ماحول سازی کی جاتی اور رائے عامہ ہموار کی جاتی ہے اس پر تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ:

ہوتا ہے شب و روز تماشہ مرے آگے


ای پیپر