05 فروری 2020 2020-02-05

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف نے برطانوی اخبار ’’ ڈیلی میل ‘‘ اورصحافی ڈیوڈ روز کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ لندن ہائی کورٹ کی کوئز ڈویژن بنچ میں دائر کر دیا۔ برطانیہ کے ہائی کورٹ نے ڈیوڈ روز اور ڈیلی میل کو نوٹس بھی جاری کر دیئے ہیں۔محمد شہباز شریف نے برطانوی اخبار ڈیلی میل کو پہلا قانونی نوٹس 26جولائی 2019ء کو جاری کیا تھا ۔محمد شہباز شریف کو سیاسی طور پر بدنام کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے دیئے گئے شواہد کی بنیاد پر شائع ہونے والی رپورٹ میں محمد شہباز شریف اور ان کے خاندان پر سیلاب زدگان کے لیے برطانوی حکومت کے لاکھوں پائونڈز خرد برد کرنے کی سٹوری شائع کی تھی ۔ ڈیلی میل کی سٹوری کے بعد برطانیہ کے ترقیاتی ادارے (ڈی ایف آئی ڈی) نے محمد شہباز شریف کی طرف سے زلزلہ زدگان کی امدادی رقم خرد برد کرنے سے متعلق ڈیلی میل کی سٹوری کی تردید کی اور کہا کہ ڈیلی میل نے اپنی سٹوری کو سچ ثابت کرنے کے لیے بہت کم ٹھوس ثبوت دیئے ہیں ہم نے دی جانے والی رقوم اور تعمیرات کا آڈٹ کروایا تھا برطانوی ٹیکس دہندگان کا پیسہ بالکل ٹھیک جگہ پر خرچ ہوا اور رقم سے زلزلہ متاثرین کی مدد ہوئی۔واضح رہے ڈیلی میل اخبار برطانوی حکومت کی جانب سے ترقی پذیر ممالک کو دی جانے والی امداد کی مخالفت کے حوالے سے مشہور ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر تحریک انصاف میں شمولیت سے قبل برطانیہ کے (ڈی ایف آئی ڈی)کے سربراہ تھے جس نے (پی ایس ڈی ایف) کو 2019ء سے لے کر 2012ء کے درمیان پنجاب حکومت کو فنڈ دیا تھا ۔ریکارڈ کے مطابق تحریک انصاف حکومت کے

موجودہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اُس وقت پنجاب میں شہباز شریف کے دورہ حکومت میں 2007ء تا 2012ء تک ڈی ایف آئی ڈی پروگرام کے مرکزی مشیر تھے۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق جب محمد شہباز شریف وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے (ڈی ایف آئی ڈی)کے حکام سے ملاقاتوں کے لیے برطانیہ جاتے تھے تو اُس وقت شفقت محمود بھی ان کے ہمراہ ہوتے تھے اور (ڈی ایف آئی ڈی)حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں شریک ہوتے تھے ۔

تحریک انصاف کے برسر اقتدار آنے کے بعد سیاسی حکمت عملی یہی رہی کہ سیاسی مخالفین کو کرپٹ کہا جائے، ملک کی خراب معیشت کا الزام بھی اپوزیشن پر لگایا جائے لیکن گزشتہ 18ماہ میں تحریک انصاف کے ووٹر بھی یہ جان چکے ہیں کہ موجودہ حکومت کے پاس معیشت کی بہتری کے لیے کوئی ایجنڈا نہیں ،عمران خان وزیر اعظم بننے سے پہلے اپنی تقاریر میں کہتے تھے کہ میرے پاس 200لوگوں کی بہترین ٹیم ہے ۔کرپشن کا خاتمہ کرونگا لیکن دعوے اس کے برعکس نکلے ۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل رپورٹ کے مطابق ملک میں کرپشن میں اضافہ ہو چکا ہے اور دو بندوں کی بھی بہترین ٹیم نظر نہیں آتی جبکہ آئی ایم ایف مصر کے کنٹری ڈائریکٹر کو سٹیٹ بینک کا گورنر اور آئی ایم ایف کے دوسرے عہدیدار کو سٹیٹ بینک کا ڈپٹی ڈائریکٹر لگا دیا گیا۔تحریک انصاف کی حکومت نے ماضی میں لیے گئے قرضوں کے ریکارڈ توڑ دیئے ۔15ماہ کے دوران 116کھرب روپے سے زائد کا قرضہ لیا جا چکا ہے۔جس کے بعد ستمبر 2019ء تک قرضوں کا مجموعی بوجھ 410کھرب روپے ہو گیا ہے ۔جبکہ بیرونی قرضے 106ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ سنگل پالیسی اسٹیٹمنٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020-2019میں ایک سال میں اسٹیٹ بینک میں منافع میں 95فیصد کمی ہوئی ہے منافع میں کمی کی سب سے بڑی وجہ روپے کی قدر میں کمی ہے جس سے اسٹیٹ بینک کو بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں میں بھاری نقصان برداشت کرانا پڑا۔ جبکہ مالی سال 2018-2019میں اسٹیٹ بینک کا منافع 12ارب 50کروڑ روپے رہا جبکہ اسی سال کے لیے اسٹیٹ بینک کے منافع کا ہدف 280ارب روپے کا ۔واضح رہے 2017-2018میں اسٹیٹ بینک کا منافع 233ارب روپے تھا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں جنوبی ایشیا کے ممالک میں شرح نمو سے متعلق اعداد و شمار جاری کئے گئے ۔رواں مالی سال میںسب سے زیادہ معاشی ترقی بنگلہ دیش یعنی 8.1فیصد تک جبکہ آئندہ برس یہ کم ہو کر 7.8تک رہ سکتی ۔بھارتی ترقی 5.7تک آئندہ برس 6.6فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔اسی طرح رواں مالی سال پاکستان کی معاشی ترقی 3.3فیصد تک جو آئندہ برس کم ہو کر 2.1فیصد رہنے کی توقع ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق ملک میں مہنگائی کو کم کرنے اور روزگار کے مواقع پید اکرنے کے لیے پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار 5فیصد سے زائد ہونی چاہیے لیکن آئندہ برس بھی معاشی ترقی کم ہونے کی وجہ سے مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔حکمرانوں سے معیشت کی بہتری کی توقع خام خیالی ہے۔شریف خاندان اور مسلم لیگ (ن) کو ٹارگٹ کرنے کے لیے حکومتی مشینری کا استعمال کیا جارہا ہے۔حکومت کی ناکام ترین معاشی پالیسیوں کی وجہ سے تحریک انصاف کے ووٹر ز بھی حکومت سے بیزار ہو چکے ہیں۔عوام مسلم لیگ (ن) کے دورے حکومت کی بہترین معاشی پالیسیوں کو یاد کر رہے ہیں۔پنجاب میں عوام محمد شہباز شریف کی ترقی و خوشحالی کے لیے انقلابی اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔


ای پیپر