مہنگائی کے ذمہ دار کون؟
05 فروری 2020 2020-02-05

ایک خاتون اپنے شوہر کی دل کی بیماری سے بہت پریشان تھیں۔ ڈاکٹر نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنے شوہر کا دل تبدیل کرالیں۔ خاتون راضی ہوگئیں اور پھر کچھ دنوں ہی میں دل بدل دیا گیا۔ چند ماہ بعد خاتون ڈاکٹر کے پاس آئیں اور شکایت کی۔

”غضب ہوگیا ڈاکٹر صاحب ! میرے شوہر مکمل بدل گئے ہیں، پہلے جو وعدہ کرتے تھے پورا کرتے اب خوبصورت وعدے تو پہلے سے بھی زیادہ کرتے ہیں مگر کوئی ایک وعدہ بھی پورا نہیں کرتے۔ “

ڈاکٹر خاتون کی شکایت سن کر مسکرایا اور بولا:” محترمہ، سوری، آپریشن کے وقت میرے پاس کسی عام آدمی کا دل ”اسٹاک“ میں نہیں تھا۔ میں نے ان کا دل ایک سیاستدان (لیڈر) کے دل سے بدل دیا تھا۔“

یہ ایک عام سا اور قدرے گھسا پٹا لطیفہ ہے مگر ہمارے ہاں کے سیاسی رہنماﺅں پر پورا اترتا ہے۔ الیکشن آتے ہی عوام، ایک عام امیدوار سے لے کر پارٹی لیڈر تک کے ”وعدے“ سننے لگتے ہیں اور پھر الیکشن جیتنے کے بعد بھی سیاستدان وعدے ہی کرتے رہتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی تبدیلی کا وعدہ تو پارٹی کا ”ماٹو“ بن چکا مگر حرام ہے جو ابھی تک کوئی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہوہاں اتنا ضرور ہے، غریبوں کے لیے اب سانس لینا بھی دشوار ہوچکا ہے۔ عام آدمی مہنگائی ، بے روزگاری اور ناانصافی پر ”موت القریب“ ہے۔ کوئی پُرسان حال نہیں۔ آٹا اور چینی کی ملوں کے مالکان عموماً حکومتوں میں شامل رہتے ہیں، بلکہ اسمبلی کے بیشتر اراکین کسی نہ کسی کاروبار اور تجارت سے منسلک ہیں۔ جہاں سڑک نکلتی ہو، ایئرپورٹ یا کسی اہم منصوبہ پراجیکٹ کی منظوری دی جاتی ہے، تو ظاہر ہے سب سے پہلے پارلیمنٹ کے ممبران ہی کے علم میں آتا ہے سو یہ ایسی زمینوں کو جہاں یہ پراجیکٹ بنتا ہو، سستے داموں خرید لیتے ہیں۔ اور پھر مال بناتے ہیں۔ یہی نہیں چینی آٹے کو چند روز سٹاک کرکے مصنوعی قلت پیدا کرکے کئی گنا دام بڑھا کرکروڑوں روپے کما لیتے ہیں۔

وزیراعظم کرپشن کیا ختم کریں گے؟ وہ خود اپنی تقاریر میں انہی خیالات کا اظہارکرتے تھے کہ کس طرح پیٹرول، چینی، آٹا مہنگا کیا جاتا ہے؟ کیسے زمینیں مہنگی ہوتی ہیں۔ اب بھی وہی کچھ ہورہا ہے۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ آپ کے قریبی ساتھی ہی اس مہنگائی کا موجب ہیں ۔غریب آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کھانا کمانا مشکل ہوگیا ہے۔ لگتا ہے غریبوں کو ختم کرکے ہی پاکستان سے غربت ختم کی جارہی ہے۔ صدر ایوب کے دور میں ایک بار چینی مارکیٹ سے غائب ہوئی تھی اگلے روز حکومت کی طرف سے سخت اعلان کیا گیا کہ صبح تک چینی مارکیٹ میں نہ آئی تو ذخیرہ کرنے والوں کو الٹا لٹکا دیا جائے گا۔ اگلے دن ہی مارکیٹ میں چینی موجود تھی۔

حکومتیں اپنے عملی اقدامات سے پہچانی جاتی ہیں۔ محض بیانات سے کچھ نہیں ہوتا۔ بیانات پر سختی سے عملدرآمد کرانے والی شخصیت کا ”رعب داب“ بھی اہمیت رکھتا ہے، اب ہمارے پنجاب کے وزیراعلیٰ جتنے مرضی سخت بیانات بڑی بڑی شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کراتے رہیں۔ ان کے بیانات کو سنجیدگی سے کون لیتا ہے؟ عمران خان نے تو انہیں باقاعدہ اشتہارات میں اپنی تصاویر چھپوانے کا مشورہ بھی دیا ہے مگر مافیا پر بزدار صاحب کی شرافت اور دیانت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جب وہ خود کہتے ہیں کہ میں ابھی سیکھ رہا ہوں تو عملی اقدامات کرنے والی مشینری ان کی باتوں کا کیا اثر لے گی؟۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس ملک کے عوام بھی ڈنڈے کے ہیں، ہم بطور قوم بھی کرپٹ ہیں۔ حکومت مہنگائی کا اعلان نہ بھی کرے تو ذرا سی قلت پر تاجر حضرات قیمتیں کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ آٹا مہنگا ہوا ہے تو اس کی وجہ دھندبارش بھی تھی، سپلائی ذرا سی متاثر ہوئی تو ذخیرہ اندوزوں نے دام بڑھا دیئے۔ آج یہ خبر چلے کہ پیٹرول دو روپے لٹرمہنگا کیا جائے گا بس خبر کے ساتھ ہی پیٹرول مہنگا فروخت ہونے لگتا ہے۔ بجلی گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ عمران خان نظام بدلنے کی کوششوں میں ہیں جبکہ اس کے لیے پہلے ان کی کابینہ اور اسمبلی کے اراکین کو بدلنا ہوگا۔ اراکین اسمبلی تو صرف اپنی تنخواہوں کے بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ سنیٹر کروڑوں رقم سے نشست حاصل کرتے ہیں۔ اب وہ بھی تنخواہ بڑھانے کا بل لے آئے وہ تو کچھ نہ کچھ شرم آگئی چند اراکین کو تو بل مسترد ہوگیا ورنہ ان کی تنخواہیں بڑھ جاتیں۔ عمران خان اپنے مشیروں کی تعداد کم کریں، دوست نوازی کے بجائے عوام کو نوازیں۔ لنگر شیلٹر ہوم ضرور کھولیں۔ گداگروں کو بھی وہاں پناہ دیں۔ لیکن فی الفور اشیائے خوردنی اور دوائیں سستی کرنے کی پالیسی پر عمل کریں۔ ورنہ ”ٹڈی دل“ کا موسم ہے اور اتحادی بھی ہلچل میں ہیں یہی حال رہا تو :

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں


ای پیپر