” سوری ! مسٹر علی گیلانی ۔۔ “
05 فروری 2020 2020-02-05

ہم آج پہلے کے مقابلے میں بہت مختلف یوم یکجہتی کشمیر منا رہے ہیں کہ گذشتہ برس پانچ اگست تک پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت کے آئین کے مطابق بھی جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ تھا اور کشمیریوں نے دونوں ممالک میں سے کسی بھی ایک کے ساتھ رہنے کا فیصلہ اس استصواب رائے کے تحت کرنا تھا جسے بھارت نے خود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تسلیم کیا تھا مگر اب کم از کم بھارت کی طرف یہ صورتحال نہیں ہے۔ وہ مقبوضہ کشمیر کو اپنے آئین میں دی گئی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے اپنا اٹوٹ انگ بنا نے کا اعلان کرچکا۔ اسی خصوصی حیثیت کی وجہ سے ہندوستانیوں کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ ریاست جموں و کشمیر میں کسی قسم کی اراضی خرید سکیں، کاروباریاملازمت کر سکیں مگر اب ارب اور کھرب پتی ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں کاروبار کر سکتے ہیں، عام ہندوستانی وہاں ملازمتیں حاصل کر سکتے ہیں، آباد ہوسکتے ہیں اوراس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ خود کشمیری اپنی ہی زمین پرغلام اور اقلیت بن کے رہ جائیں گے۔

میں نہیں جانتا کہ بااثر طبقہ اس تبدیلی کو کس طرح دیکھتا ہے کہ میں نے بھارت کے اس اقدام کی عجیب و غریب تشریح ہوتے دیکھی ہے کہ ہم نے تو کبھی بھارتی آئین کے ان آرٹیکلز کو تسلیم ہی نہیں کیا۔ اگر ہم نے بھارتی آئین کے ان آرٹیکلز کو تسلیم ہی نہیں کیا تھا تو پھر ہم کشمیر پر اپنا حق کس طرح جتاتے تھے اور مذاکرات کس طرح کرتے تھے۔ یہ یقینی طور پرایک غلط تشریح تھی جسے کسی بھی جگہ پاکستان کے قومی موقف کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خارجہ امور اتنے نازک ہوتے ہیں کہ وہاں کسی بھی معاملے پر ردعمل میں درست الفاظ کا چناو¿ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اشرافیہ کو چھوڑ دیجئے، مجھے تحریک انصاف کے کارکنوں سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، ان سے پوچھا ، وہ برس ، ڈیڑھ برس میں اپنی پارٹی کی کوئی پانچ کامیابیاں گنوا سکتے ہیں، پہلا جواب یہ تھا کہ عمران خان نے عالمی سطح پر پاکستانی قرضے کم کر دیے ہیں ( اور اگلے ہی روز آفیشل سٹیٹمنٹ جاری ہو گئی کہ پاکستان کے قرضوں میں چالیس فیصد اضافہ ہو چکا ہے)، دوسرا جواب اس سے بھی دلچسپ تھا کہ عمران خان نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اتنا اجاگر کیا ہے جتنا ماضی میں کسی دوسری حکومت نے نہیں کیا۔مجھے بغیر کسی معذرت کے کہنے دیجئے کہ اگر آپ بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے اور اسے بھارت کا اٹوٹ انگ بننے کو عالمی سطح پر اجاگر ہونا کہتے ہیں توپھر اس کا کریڈٹ عمران خان اور پی ٹی آئی کے بجائے نریندر مودی اور بی جے پی کو دیجئے، کہہ دیجئے ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام، اگر ہم مقبوضہ کشمیر کے مزید فاصلے پر چلے جانے کو کامیابی سمجھتے ہیں توپھر سقوط کشمیر کسے کہیں گے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی ہمارے گھر پر قبضہ کرلے ، ہم اس پر شور مچائیںکر کہیں کہ ہم نے اپنے گھر کا مسئلہ ہائی لائیٹ کر لیا ہے۔ کیا اس سے پہلے یہ سوال اہم نہیں ہے کہ ہمیں کمزور سمجھتے ہوئے ہمارے مخالف کی جعلی رجسٹری اور قبضے کی جرا¿ت ہی کیسے ہوئی۔ عزت لٹنے کے بعدواویلا عزت کی حفاظت نہیں ہے، یہ محض واویلا ہے جسے شائد کوئی سن کر مدد کو آجائے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے حکمران کھلے اور دبے لفظوں میں ہمیں بتا رہے ہیں کہ ہمیں مقبوضہ کشمیر کی نہیں، آزاد کشمیر کی فکرپڑ گئی ہے اور اسی طرح وہ بھارت کو کھلے اور دبے لفظوںمیں بتا رہے ہیں اس نے مقبوضہ کشمیر میں جو کرنا تھا کر لیا مگر اب وہ آزاد کشمیر کی طرف ہرگز نہ دیکھے مگر ہندوستانیوں پر ہمارے الفاظ کاکچھ اثر ہی نہیں ہور ہا۔ بھارت میں نیا مقرر ہونے والا آرمی چیف پہلے ہی دن بڑھک لگا دیتا ہے کہ وہ آزاد کشمیر پر حملے کے لئے حکومتی فیصلے اور اعلان کا منتظر ہے ۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ ہم جہاں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے قتل پر عالمی برادری کی توجہ حاصل نہیںکر سکے وہاں چھ ماہ سے جاری کرفیو اور انسانی حقوق کی خلا ف ورزیوں پر بھی کوئی قابل ذکرمہم نہیں چلا سکے جسے بھارت خاطر میں لاتا۔

ایک وقت تھا کہ نوابزادہ نصراللہ خان کشمیر کمیٹی کے سربراہ ہوا کرتے تھے۔ بزرگ اورسیاسی شخصیت تھے، ادبی اور منطقی گفتگو کرتے تھے اور پھربارہ برس پہلے پارلیمنٹ سے ایک نئی خصوصی کمیٹی کی تشکیل کے بعد مولانا فضل الرحمان اس کے متفقہ سربراہ بنے۔ ان کے بارے بار بارسوال کیا جاتا رہا کہ انہوں نے کشمیر کاز کے لئے کیا خدمات سرانجام دی ہیں مگر کیا آج کوئی بتا سکتا ہے کہ ہماری کشمیر کمیٹی کا سربراہ کون ہے اور امور کشمیر کا وزیر کون سی نادر شخصیت ہے تو جان لیجئے کہ اس وقت کشمیر کمیٹی کے سربراہ سینئر سیاستدان فخر امام ہیں ، گُوگل کیا تو علم ہوا کہ انہیں گذشتہ برس یکم مارچ کو اس کمیٹی کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا مگر اس کے بعد کچھ علم نہیں کہ انہوں نے کشمیر کاز کے لئے کیا خدمات سرانجام دی ہیں۔ امور کشمیرکے وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور ہیں جن کے گنڈا پوری شہداور کل بھوشن کو چھوڑ دینے کے دعوے سمیت عجیب و غریب قصے مشہور ہیں اور اگر کچھ مشہور نہیں ہے تو کشمیر کے لئے کارکردگی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم بھارت کی طرف سے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی پر بھی روایتی دوست ممالک کو ساتھ نہیں رکھ سکے، ہم عملی طور پر اس اقوام متحدہ کی اس جنرل کونسل میں اپنا مقدمہ بھی ہار گئے ہیں جس کی قراردادوں کی بنیاد پر ہم کشمیر پر اپنا حق جتاتے ہیں۔

میں سو فیصد پاکستانی ہوں اور چاہتاہوں کہ کشمیر پاکستان کا حصہ بنے مگر جب میں خود سے بھی یہ سوال کرتا ہوں کہ یہ کیسے ہو گا تو مجھے کوئی جواب نہیںملتا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ موجودہ قیادت کے ذریعے کشمیر کے معاملے پر کوئی پیش رفت ہوسکتی ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔حقیقی سیاسی قیادت کی عدم موجودگی کا یہی نقصان ہوتا ہے کہ مخالف کامیاب ہوجاتا ہے۔ بھارت کی سیاسی قیادت نے بغیر کوئی جنگ لڑے مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کا آئینی حصہ بنا لیا ہے مگر ہمارے حکمران محض تقریریں کر رہے ہیں، عوام کو اپنے دفتروں اور گھروں کے سامنے آدھا ، آدھا گھنٹہ کھڑا ہونے اور سڑکوں پر کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگا نے کا کہہ رہے ہیں ۔ہمارے کچھ بقراطوں کا خیال ہے کہ ہمیں آزاد جموں و کشمیر کو پاکستان کا اسی طرح آئینی حصہ ڈیکلیئر کر دینا چاہئے جس طرح بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو کیا اور اس کے بعد کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کی نظر میں مکمل طور پر حل ہوجائے مگر سوال تویہ ہے کہ اگر لائن آف کنٹرول اور سیز فائر لائن کو ہی بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنا تھا تو ستر برس اصولی موقف رکھتے ہوئے تین جنگیں لڑنے اورمقبوضہ وادی میں کشمیریوں کو مروانے کیا ضرورت تھی، وہ کشمیری جو اس وقت مجبور اور بے یارومددگا ر سمجھ کر دبا لئے گئے ہیں، وہ کشمیری جن کی قیادت نوے برس کا بوڑھا سید علی گیلانی کر رہا ہے ، وہ کشمیری جو اپنے شہیدوں کوآج بھی پاکستان کے جھنڈے میں لپیٹ کر دفن کر رہے ہیںمگر ہم آج بھی محض گونگلواو¿ں سے مٹی جھاڑ رہے ہیں۔ سوری مسٹر علی گیلانی ! ہم آپ کی بوڑھی آنکھوں کے خواب پورے کرنے کے اہل نہیں ہیں۔


ای پیپر