05 فروری 2020 2020-02-05

ریاست جموں و کشمیر کو مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے قدرتی اور جغرافیائی طورپر اور برصغیر کی تقسیم کے تمام اصولوں کے پیش نظر پاکستان کا ہی حصہ ہونا چاہیے تھا۔ مسلم اکثریتی ریاست پر ہری سنگھ کاناجائز قبضہ اور حکمرانی تھی اِسی وجہ سے یہ تنازع پیدا کیاگیا اور پورے خِطہ کو تباہی و بربادی کی طرف دھکیل دیاگیا۔ پاکستان کے قیام کو ہندو برہمن اور شکست خوردہ برطانوی سامراج نے بادلِ نخواستہ قبول تو کرلیا لیکن یہ ریکارڈ کا حصہ ہے کہ نہرواور پٹیل نے پیش گوئی کی کہ پاکستان چند برسو ں کے اندرہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گا، آغاز سے ہی بھارتی ہندو پالیسی سازوں اور حکمرانوںنے پاکستان کو کمزور اور معدوم کرنے کے لیے روڈ میپ بنایا اور مسلسل اِس پر عمل کرتے چلے جارہے ہیں۔ اپنے اِس مذموم منصوبہ پرعملدرآمدکے لیے انہوں نے ماؤنٹ بیٹن اور برطانوی پالیسی سازوں سے بھرپور مدد لی، ہندو اور انگریز کی اِسی گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہی مسئلہ کشمیر کی بنیاد ڈالی دی گئی، ایک اور بڑی سازش یہ ہوئی کہ بھارت سے کشمیر کے زمینی راستہ پٹھانکوٹ ضلع گورداسپور جومسلم اکثریتی علاقہ تھا اِسے بھارت کے حوالے کردیاگیا کیونکہ اِس علاقہ کے بغیر بھارت کو کوئی زمینی رابطہ حاصل نہ تھا۔

برہمن اور انگریز کے اِن سازشی منصوبوں اور مکروہ عزائم کو بھانپتے ہوئے مجاہدین کشمیر نے علمِ جہاد بلند کیا اور مرحلہ وار کا میابیوں کے ساتھ سرینگر تک پہنچ گئے، اِسی اثناء میں بھارت نے ہوائی جہازوں کے ذریعے اپنی فوج کشمیر میں اتار دی۔ دو معاملات بہت ہی غور طلب ہیں کہ مسئلہ کشمیر پر اول دن سے ہی اندرونی محاذ پر کمزوریاں موجودتھیں کہ قائد اعظم نے فوج کو حکم دیا کہ مجاہدین کی مدد کے لیے کردار ادا کیا جائے لیکن انگریز کمانڈر انچیف جنرل گریسی نے مختلف حیلوں بہانوں سے قائدؒ کے حکم کو سبوتاژ کردیا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اُس وقت کی مسلم لیگی قیادت کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ بھارت کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اِس کا زمینی راستہ کاٹ دیاجائے جو ریاست جموں و کشمیر کو گورداسپور سے ملاتا ہے لیکن اِس اہم تر تجویز کا بھی وہی حشر کیا گیا جو قائدؒ کے حکم کا انگریز کمانڈر انچیف نے کیا تھا۔ یہ امر بہت واضح ہے کہ قائد اعظم کے وژن اورسید مودودیؒ کی تجویز کے مطابق مجاہدین کی بھرپور کھلی مدد کی جاتی تو وہ سارا کشمیر فتح کر سکتے تھے۔ مولانا مودودیؒ نے قائد اعظمؒ کے ہم آہنگ یہ موقف بھی اختیار کیا کہ ریاست جموں وکشمیر پر بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کو بھارت کے ساتھ تمام معاہدات مسترد کرکے مجاہدین کو چوری چھپے مدد کی بجائے علی الاعلان مدد کرنی چاہیے۔ لیکن آغاز میں ہی بروقت اقدامات نہ ہونے ، اندرونی کمزوریوں ، مصلحتوںاور سازشوں کی وجہ سے آج کشمیر میں خوفناک صورتحال کا سامناہے۔

کشمیر کی آزادی کے لیے کشمیری عوام نے مسلسل جدوجہد جاری رکھی ہے، مجاہدین کی کامیابیوں سے خائف ہو کر ہی جواہر لال نہرو بھارت کا موقف خود لے کر اقوام متحدہ گئے اور یہ اصول طے پایا کہ یہ متنازع علاقہ ہے، پاکستان یا بھارت کے ساتھ، مستقبل کا فیصلہ حق خود ارادیت کے ذریعے کشمیری خود کریں گے۔ لیکن بھارتی قیادت نے روایتی سازشی ذہنیت کے ساتھ آج تک اِس اتفاق رائے پر عملدرآمد نہ ہونے دیا۔اقوام متحدہ کی 17سے زائد قراردادوں ، عالمی قوانین اور عالمی سطح پر منظور شدہ حق خودارادیت کے باوجود کشمیری گذشتہ 72سالوں سے زائد عرصے سے جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں، ناقابلِ بیان مسائل اور مشکلات کا شکار ہیں۔ 182دن سے 80لاکھ سے زائد کشمیریوں کو کرفیو اور لاک ڈاؤن کے ذریعے عملاً ایک جیل میں بندکردیا ہے۔ کشمیر کی آزادی کی تحریک کوختم کرنے کے لیے بھارت نے سیاسی ہتھکنڈے بھی استعمال کئے اور جبر کے ہتھیار بھی آزما لئے لیکن وہ اِس تحریک کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا، جیسے آزادی کی ہرتحریک میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ تاریخ کے اِس سفر میں کبھی یہ تحریک آہستہ رفتار ہوگئی او رکبھی یہ بھڑک اُٹھتی ہے اور تیز رفتاری سے چلنے لگتی ہے ۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ یہ بالکل بجھ گئی ہو یا اسے ختم کردیاگیا ہو، آزادی کی تمنا جتنی گہری ہوتی ہے اُسی قدراِس کی شدت برقرار رہتی ہے۔ اِن دِنوں

بھی تحریک آزادی کشمیر اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزررہی ہے۔

مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو، عصمت دری،انسانی حقوق کی پامالی ، کاروباری نقصان ، ناجائز قتل وغارت اور حراستیں، بھارتی حکومت کا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے۔ لیکن کشمیریوں کی ایک لاکھ سے زائد شہادتوں نے آزادی کی جنگ کو زندہ رکھا ہوا ہے اور اس میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ 5اگست 2019ء کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370اور35 اے کو منسوخ کرتے ہوئے بھارت نے کشمیر ہڑپ کرنے کی کوشش کرڈالی اور کشمیر کی خصوصی حیثیت اورآئین کے اختیار کابھی خاتمہ کردیاگیا۔

مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین پر عالمِ اسلام ہی حل کا اہم ترین ذریعہ ہیں، لیکن عملاً پوری امت کا شیرازہ بکھرا ہواہے، نفسا نفسی اور انتشار کا عالم ہے، باہم دست و گریبان ہیں، اپنے وسائل اپنی تباہی پر لٹائے جارہے ہیں۔ امریکہ ، بھارت، اسرائیل تینوں اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ملتِ اسلامیہ میں انتشار، افتراق پھیلانے کے لیے آگ پر پٹرول چھڑکتے رہتے ہیں۔ مسئلہ کشمیرپرتمام مسلم ممالک اصولی طور پر متفق ہیں کہ بھارت نے کشمیر پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداوں کے مطابق دنیا بھر کے ممالک پابند ہیں کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دلائیں، بھارت کی چیرہ دستیوں کو روکا جائے لیکن یہ امر بہت ہی افسوسناک ہے کہ 5اگست2019ء کے بھارتی ناجائز اقدام کے بعدپاکستان کی طرف سے سفارتی حمایت کے لیے کی گئی کوششوں میں 3مسلم ممالک (ترکی، ملائشیا اور ایران) کے علاوہ کسی بھی ملک نے مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے کسی قسم کی سفارتی حمایت تک کابھی اعلان نہیں کیا۔ مسلم ممالک کے اس طرزِ عمل کی ایک وجہ اُن کے بھارت کے ساتھ معاشی و تجارتی تعلقات ہیں۔ مسلم ممالک کی ایک بڑی تعداد قدرتی وسائل خصوصاً خوردنی تیل کے ذخائر سے مالا مال ہے جن کی موجودگی میں انہیں بھارت سمیت کسی بھی عالمی معاشی طاقت کی مدد اوراُس پر انحصار کی ضرورت نہیں۔ بلکہ اس کے برعکس ان مسلم ممالک میں سے اکثر توا س پوزیشن میں ہیں کہ اگر یہ مسلم ممالک کسی بھی ملک کوتیل کی ترسیل روک دیں تو چند دن میں اُس کی معیشت پر کاری ضرب لگا کر اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتے ہیں ۔ لیکن اس کے برعکس بعض بڑے مسلم ممالک نے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کوعین اسی موقع پر قومی اعزازات سے نوازا جس سے کشمیریوں کی امت مسلمہ سے وابستہ امیدیں اور جذبات بُری طرح مجروح ہوئے۔

نائین الیون کے بعد سے پاکستان کی حکمتِ عملی سراسیمگی ،مفادات، بزدلی اور اسلام بیزاری کاراستہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ پاکستانی قوم اور ملتِ اسلامیہ پر جوظلم توڑے گئے ہیں جنرل پرویز مشرف ، آصف علی زرداری، میاں نواز شریف اور اب عمران خان اقتدار میں یہ سلسلہ تسلسل سے جاری ہے، مسلسل زخم لگائے جارہے ہیں ۔ اس پوری مدت میں کنفیوژن کے شکار پالیسی ساز فلسطین اور القدس سے غداری، اسرائیل سے قرب پانے کی چھپی ہوئی خواہشات ، ملت کے دشمنوں سے پینگیں بڑھانے، بھارت سے دوستی کے نام پر جموں و کشمیر کے جدوجہد سے سرشار مسلمانوں سے بے وفائی اور پاکستان کی اصولی اور تاریخی کشمیرپالیسی سے یکسر انحراف کرتے چلے جارہے ہیں۔ اِس وقت خطہ کشمیر بہت ہی نازک اور فیصلہ کن مرحلہ سے دوچار ہے اِسی سے ہی خودپاکستان کی بقاء ، آزادی اور وجود وابستہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی اقوام متحدہ میںکشمیرکا مقدمہ اچھی طرح پیش کیا تھا، خود کوکشمیر کے ترجمان اور سفیر کی حیثیت دی ،لیکن اب تک یہ ساری باتیںہوائی ہی ہیں۔اعلیٰ سطح پر تو مسئلہ کشمیرخود کشمیریوں کی اپنی جانوں کی قربانیوں اور نریندر مودی کے غیر قانونی،غیرانسانی اور عالمی معاہدوں کی پامالی کے اقدامات سے اجاگرہوا ہے۔ لیکن اِس صورتحال پر پیش رفت کے لیے ابھی تک حکومت کا کوئی عندیہ ، کوئی روڈ میپ نظر نہیں آرہا۔ یہ وقت ہے کہ کشمیر کے مسئلہ پر منافقت پر مبنی سابقہ حکمتِ عملی کو یکسر ترک کیاجائے اور اُسی پالیسی کا اعادہ کیاجائے جس کی بنیاد قائداعظم نے رکھی تھی۔ یہ تاریخ کا فیصلہ ہے کہ کوئی قو م دوسری قوم کو اُس کی مرضی کے بغیر ہمیشہ کے لیے زیردست نہیں رکھ سکتی ۔کشمیرکے مسلمانوں نے اپنی تاریخی اور جرات مندانہ جدوجہد سے ثابت کردیا ہے کہ کہ وہ بھارت کی غلامی میں رہنے کے لیے تیار نہیں، ان دِنوں تو مودی سرکار نے خود بھارت کے اندر مسلمانوں اور اقلیتوں کے لیے جوناروا سلوک اور طریقہ کار اختیارکیا ہے اِ س سے یہ عیاں ہورہا ہے کہ بھارت کے ظالمانہ دورِ استبداد کو ختم ہونا ہے۔بقول اقبال

توڑ اس دستِ جفاکیش کو یارب جس نے

روحِ آزادیِ کشمیر کو پامال کیا

یہ امر واقع ہے کہ پاکستان مشکلات میں گِھرا ہوا ہے، بلاشبہ حکومت بڑے مشکل حالات میں گھِری ہوئی ہے لیکن قومی قیادت اور پوری قوم کو متحد کرکے مسئلہ کشمیر پر جدوجہد کے ذریعے ، مشکلات سے نجات حاصل ہو سکتی ہے۔عزم ، حوصلہ اور انقلابی روح چاہیے وگرنہ بزدلی، مفاداتی رویہ تو ہر موڑ پر ملک و ملت کو ذلت و رسوائی دیتا ہے۔

تحریک آزادی کشمیر کے بدلتے حالات اور فیصلہ کن مرحلہ پر مضبوط مؤقف اور ارادہ و عمل کی ضرورت ہے ۔ موجودہ حالات میں مسئلہ کشمیر کوترجیح اول بنایا جائے توباقی تمام مسائل کا حل، اِس کے ساتھ جڑ جائے گا۔ حکومت کے لیے ناگزیر ہے کہ لازوال قربانیا ں دینے والوں کوپاکستان سے مایوس نہ ہونے دیا جائے اور اللہ کی تائید ونصرت کے سہارے اِن کا مضبوط سہارا بناجائے ۔ عمران خان صاحب زبانی کلامی دعووں کی بجائے عملی اقدامات کرتے ہوئے ، ریاست مدینہ کے نظام کو بروئے کار لائیں، سیاسی، اقتصادی ، سماجی بحران کے خاتمہ کے لیے پارلیمنٹ اور قومی قیادت کو متحد کریں، کشمیر پر قومی متفقہ پالیسی بنائی جائے، سفارتی محاذ پر بھرپور فعالیت کا روڈمیپ واضح کیا جائے، بھارت سے ماضی کے تمام معاہدوں پر عملدرآمد کروایا جائے، افغانستان میں پاکستان کے کردار کو مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ وابستہ کیاجائے، عالم اسلام کے اتحاد کے لیے عملی اقدام کیے جائیں اور پوری ملت کوہراعتبارسے تیار کیاجائے۔ اس سے کشمیر آزادی کاراستہ نکلے گا اور آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔


ای پیپر