05 فروری 2020 2020-02-05

یوں تو ہم کشمیریوں سے جو پچھلے سات عشروں سے زائد عرصے سے بھارتی مظالم کی چکی میں پس رہے ہیں، اظہار یک جہتی کے لیے پچھلی صدی کے نوے کے عشرے کے ابتدائی برسوں سے ہر سال 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منا رہے ہیں۔کیا اس سال جب مقبوضہ کشمیر کے حالات و اقعات میں ایک معروضی تبدیلی رونما ہو چکی ہے ، جب بھارتی آئین میں دی گئی کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا گیا ہے اور پچھلے سال یکم اگست سے پوری وادی جموں و کشمیر میں کرفیو کا نفاذ ، بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ، انٹرنیٹ ، سوشل میڈیا اور موبائل فونز پر پابندی جیسے بھارتی حکومت کے اقدامات پر سختی سے عمل در آمد ہور ہا ہے اور اس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر میں 80لاکھ کشمیری عملاً زنداں میں قیدیوں سی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں تو کیا ہمارا معمول کا یوم یکجہتی کشمیر منانا جس میں تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے مذاکروں ، سیمنارز ، احتجاجی جلسوں ، جلوسوں اور ریلیوں کا انعقاد اور کوہالہ پل اور بعض دوسرے مقامات پر ہاتھوں کی طویل زنجیریں بنانا اور پنڈی، اسلام آباد اور ملک کے دوسرے بڑے شہروں کی سڑکوں پر کھمبوں پر بینرز اور ہورڈنگز لگا دینا کافی ہوگا۔اگر اتنا کچھ کافی ہوتا تو آزادی کشمیر کی منزل ہی قریب نہ آچکی ہوتی بلکہ کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے دیرینہ خواب کی تعبیر بھی سامنے آچکی ہوتی۔ یقینا ہمارے لیے اس سے بڑھ کر اقدامات کرنے اور مودی سرکار کے کشمیر کے بارے میں یک طرفہ طور پر کیے جانے والے ظالمانہ فیصلوں اور اقدامات کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔یہ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان جہاں کشمیریوں کے حقِ خود اردیت کا سب سے بڑا حامی ہے وہاں کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اقوامِ متحدہ میں اور عالمی رائے عامہ کے سامنے بھارت کے مقابلے میں ایک فریق کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔

ا سے کشمیریوںکی بد نصیبی اور بد قسمتی کا نام دیا جا سکتا ہے یا ہماری کوتاہیوں اور غلط فیصلوں اور مواقع سے بروقت فائدہ نہ اُٹھانے کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے کہ کشمیریوں کی لازوال تحریک آزادی ابھی تک کامیابی سے ہم کنارنہیں ہو سکی ۔ سات عشروں سے جاری اُن کی جدوجہدِ آزادی قربانیوں کی ایسی داستان بنی ہوئی ہے جس کی قوموں کی تاریخ میں مثال ملنی مشکل ہے ۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی قربانیاں ہو سکتی ہیں کہ ایک خطہِ ارض پر بسنے والے لاکھوں افراد اپنے اوپر مسلط کی جانے والی غلامی اور جبر و استبداد کے خلاف اتنے طویل عرصے سے برسر پیکار ہوں لاکھوں افراداپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہوں بستیوں اور آبادیوں کے قبرستان شہیدوں کی قبروں سے بھرے پڑے ہوں، ظلم وستم اور جبرو استبداد کا بازار گرم ہو اوراسکے خلاف ہڑتالیں احتجاجی مظاہرے، خونریز ہنگامے اور جلسے جلوس روز کامعمول بنے ہوئے ہوں لیکن پھر بھی اس خطہ ارض پر بسنے والے آزادی، خودمختاری اور اپنی منزل مقصود کو پانے سے محروم ہوں۔ یہ خطہ ارض جنت نظیر کشمیر ہے جو گزشتہ تقریباً سات دہائیوں سے اس المناک صورت حال سے دوچار ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کا موقف بڑا مضبوط اور مبنی پر انصاف ہے۔

14 اگست 1947ء کو ہندوستان میں دو آزاد

مملکتوں پاکستان اوربھارت کے وجود میں آنے کے بعد کشمیرکے پاکستان سے الحاق کے کشمیری مسلمانوں کے مطالبے میں اور شدت آگئی اور پورے کشمیر میں مسلمان اس مطالبے کے حق میں ڈوگرا راج کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔ پاکستان سے ملحقہ کشمیر کے علاقوں کو ڈوگرا راج سے آزاد کروالیا گیا اور 24 اکتوبر 1947ء کوآزاد کشمیر حکومت کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا۔ ڈوگرا حکمران مہاراجہ ہری سنگھ شروع میں کشمیر کے بھارت کے الحاق کے حق میں بھی نہیں تھا لیکن بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو ،گورنر جنرل لارڈ مائونٹ بیٹن اور بھارتی وزیر داخلہ سردار پٹیل کے دبائو پر اس نے 26 اکتوبر 1947ء کو کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا۔ اور اسکے ساتھ ہی بھارتی فوجیں جو پہلے خفیہ طور پر ڈوگرا مہاراجہ کی حمایت کے لئے کشمیر میں موجود تھیں اب کھلم کھلا مسلمان مجاہدین کوکچلنے کے لیے حرکت میں آ گئیں۔ پاکستان کو بھی اپنے فوجی دستے کشمیر میں بھیجنے پڑے یکم جنوری 1948 ء کو بھارت کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ میں لے گیا۔ اقوام متحدہ کی کوششوں سے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی ہو گئی اورطے پایا کے کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہونگے اورآزادانہ رائے شماری کے ذریعے پاکستان یا بھارت میں سے جس کے ساتھ چاہیں الحاق کر سکیں گے۔ بھارت شروع میں اقوام متحدہ کی قرادادوں پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانیاں کراتا رہا لیکن بعدمیں وہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے کر ان قراردادوں سے منحرف ہو گیا۔

مسئلہ کشمیر کے اس پس منظر اور پیش منظر اور معروضی حالات و واقعات کے تذکرے سے یقینا اس مسئلے کی نوعیت کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن سچی بات ہے کہ یہ سب نصابی باتیں ہیں اس وقت عملاً صورت حال یہ ہے کہ ہم ایکطرح کے LOOSER (نقصان اُٹھانے والے) اور بھارت WINNER بنا ہوا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس کی جیت کو ہار میں کیسے تبدیل کر سکتے ہیں۔ورنہ برسرِ زمین حقیقت یہ ہے کہ بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اور عالمی رائے عامہ بھارت کے اس موقف کو رد کرنے کے لیے تیار نہیں۔جبکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل در آمد ہو اور کشمیریوں کو حق خودارادیت کے تحت آزادانہ رائے شماری کا حق ملے اور وہ پاکستان یا بھارت میں سے جس کے ساتھ چاہیں الحاق کرنیکا فیصلہ کرلیں۔ دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عالمی رائے عامہ دن بدن ہمارے اس موقف کا جو ہر لحاظ سے جائز اور مبنی پر حقائق اور انصاف ہے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ عالمِ اسلام کے وہ نامی گرامی ممالک بھی جن کی دوستی کا ڈھنڈور ا پیٹتے ہوئے ہم کبھی پیچھے نہیں رہے وہ بھی مسئلہ کشمیر پر ہماری حمایت سے دست کش ہو چکے ہیں۔

یہ درست ہے کہ جہاں بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے اور کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کُچلنے کے لیے اپنی سات لاکھ فوج مقبوضہ وادی میں تعینات کر رکھی ہے۔وہاں مقبوضہ وادی میں بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے، ہڑتالیں، جلسے جلوس اور ہنگامے روز کا معمول ہیں۔بھارتی درندوں کے ہاتھوں جب بھی کوئی کشمیری نوجوان شہید ہوتا ہے تو کشمیریوں کا جذبہ حریت اور بھارتیوں سے نفرت اور پاکستان سے محبت کا اظہار دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ شہید کے جنازے میں جہاں ہزاروں کی تعداد میں افراد پاکستان کے حق میں نعرے بلند کر تے ہوئے شریک ہوتے ہیں وہاں شہید کے تابوت کو پاکستانی پرچم میں لپیٹا جاتا ہے۔ کشمیری یقینا کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وہ بھارت سے آزادی چاہتے ہیں اور الحاق ِ پاکستان ان کی آخری منزل ہے۔ اس کا تازہ ثبو ت ابھی انہوں نے 26 جنوری کو بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر بہم پہنچایا۔پوری مقبوضہ وادی میں ہڑتال رہی، احتجاجی مظاہرے اور جلسے جلوس منعقد ہوئے اور پاکستا ن کے حق میں نعرے بلند کیئے گئے۔ یہ سب اپنی جگہ لیکن یہ سوال موجود ہے کہ کشمیریوں کی یہ جدوجہد کب کامیابی سے ہم کنار ہوگی اور اس کے لئے سروں کی کتنی فصیلیں کٹنے کا انتظار کرنا پڑے گا اس کا جواب پاکستان سمیت عالمی برادری کے ذمہ ہے۔


ای پیپر