05 فروری 2020 2020-02-05

تبدیلی سرکار عجیب گھمن گھیری میں پھنسی ہوئی ہے۔ سیاسی محاذ ہو معیشت کا میدان، کسی جانب سے تو کوئی اچھی خبر ملے۔ تاکہ اس کو مثبت کا جامہ پہنا کر منصب داروں سے دادو تحسین کا کوئی ٹوکرا وصول کیا جائے۔ اور کچھ نہیں تو ایران ، سعودی عرب کی صلح کی خوش کن خبر ہی آجاتی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان شعلہ بیانی ہی کچھ کم ہوجاتی۔اتنا تو ہوتا کہ اپنی ملتان والی پھونکوں والی سرکار کی بین البراعظمی یلغار کی ہی کچھ قیمت وصول ہوجاتی۔ جناب وزیر خارجہ اپنے حلقہ کی مصروفیات ، دوبار عالیہ اور گدی نشینی کے تقاضے اور ہمسایہ ضلع میں دو لت کے انبار لئے بیٹھے سیاسی مخالف ، جو آخری خبریں آنے تک تو کپتان کے قریب ترین سمجھے جاتے تھے۔ جو جنوبی پنجاب کی سیاست اور پارٹی کے اندرونی معاملات میں نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ایسے ضروری معاملات کو چھوڑ کر تہران ، خلیج فارس سے ہنگامی پرواز لیکر ریاض۔ اورپھر چند گھنٹوں کیلئے وطن واپسی اور واشنگٹن یاترا۔اتنی طویل مسافت کے بعد وطن واپسی۔اور ایک مرتبہ پھر اسلام آ باد سے کپتان کے ساتھ ڈیووس کی برفیلی فضائوں میں قیام۔ وزیر اعظم کو تو اخراجات کا بار گراں اٹھانے کیلئے کچھ کشادہ دل دوست میسر آگئے۔ معلوم نہیں کہ جناب وزیر خارجہ پر کیا گزری۔ شب بسری کا بندوبست کہاں ہو؟ کسی عام سرائے میں ؟ کسی سٹیشن کی بنچ پر یا کسی دوست کی رہائش گاہ پر۔ بس ہوا یہ کہ ان آنیوں جانیوں کا کوئی نتیجہ نکل آتا۔ حالانکہ امیدیں تو یہ لگائی ہوئی تھی کہ جناب ٹرمپ بس نگاہ ناز کے تیر سے نیم بسمل ہیں۔

فوری طور پر چند گھنٹوں کیلئے ہی سہی۔اسلام آباد میں بھی قدم رنجہ فرمائیں گے۔ کیونکہ بھارتی میڈیا میں غلغلہ مچا ہوا تھا کہ بڑبولا ٹرمپ جنوری کے آخری دنوں میں مودی کا مہمان بنے گا۔ ڈیووس میں کچھ "اپنوں " نے لاکھ کوشش کی ٹرمپ جی کوئی ایسا جواب دے ڈالیں جس سے پاکستان آمد کا اشارہ ملے۔ لیکن ایسے کائیاں کھلاڑی سے ایسی امید؟ بہرحال اب تو بھارت یاترا بھی فروری کے آخر تک ا لتوا میں چلی گئی۔ اور آس و امید کے سوکھے نخلستان ایک مرتبہ پھر شاداب ہونے کی امید پوری ہوئی۔ اب دیکھتے ہیں کہ جناب نائب کپتان ، کب کس بہانے واشنگٹن جاتے ہیں۔ تاکہ سپر پاور کے صدر کو مہمان بنانے کیلئے لابنگ کی جاسکے۔ ایسا ہوگیا تو مہنگائی کے بوجھ تلے کبڑے ہوتے عوام کو بیچنے کیلئے خوشنما غبارے میسر آسکیں۔ کچھ روز تو ملائشیا میں پذیرائی کی مثبت خبریں خوب بکیں گی۔ پھر امت مسلمہ کے دبنگ لیڈر جناب طیب اردوان تشریف لائیں گے۔ پاکستانی عوام میں ان کی مقبولیت سے خوب فائدہ اٹھایا جائے گا۔ آگے کی پھر دیکھی جاے گی۔ کوئی نیا ایشو کوئی نیا سودا مارکیٹ میں آجائے گا۔ لیکن کب تک۔ مہنگائی کا جن کب کا بوتل سے باہر آچکا۔اور اتحادی اب سر بازار اپنی قیمت نہ ملنے کے شکووں کی پٹاری کھولے کھڑے ہیں۔ مہنگائی اور گرانی کی اعدادوشمار لرزا دینے والے ہیں۔ وفاقی محکمہ کے فگرز ہیں کسی غیر سرکاری اداراے کے ہیں نہ اپوزیشن کے مرتب کردہ۔ میڈیا بھی ان اعدادوشمار کا سزا وار نہیں۔محکمہ شماریات بتاتا ہے کہ جنوری میں مہنگائی کی شرح چودہ اعشاریہ چھ فیصد جو گزشتہ بارہ سال کی بلند ترین شرح ہے۔ یہ شرح عالمی اداروں کے تخمینوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مہنگائی کا سارا بوجھ اشیائے خوردونوش پر پڑا ہے۔ جو کہ ساڑھے انیس فیصد ہے۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اشیائے خورونوش کی قیمتیں دیہی علاقوں میں شہری علاقوں سے زیادہ ہیں۔ گویا ان علاقوں میں جہاں یہ اجناس پیدا ہوتی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت وقت عوام کو مناسب داموں پر خوراک فراہم کرنے میں ناکام ہورہی ہے۔ زرعی ملک میں غذائی اجناس کا بحران ؟ ہے ناں حیرت کی بات ؟ایک ہفتہ میں چودہ اشیائے ضرور یہ مزید مہنگی ہوگئی۔ چینی کی پر چون قیمت نوے روپے۔دالیں مزید اٹھارہ روپے ، مرغی سترہ فیصد ، انڈے چودہ فیصد اور دودھ بارہ روپے فی لیٹر مہنگا۔فیصلہ سازی کا یہ عالم ہے کہ پہلے گندم ایکسپورٹ کی گئی۔ اب امپورٹ ہورہی ہے۔ چینی پہلے باہر بیچی اب اپنی ضرورت کیلئے ڈھنڈیا پڑی ہوئی۔ ٹیکس کلیکشن ہورہی ہے ناں زرعی اجناس کی پیداوار توقع کے مطابق۔ سیاسی محاذ پر ایک نہیں سارے اتحادی ناراض۔ ناراضگی کی خلیج اتنی گہری کہ اب تو اتحادی مفاہمتی کمیٹی بھی اپنی مرضی کی مانگتے ہیں۔ اپنی پارلیمانی پارٹی میں ارکان اگر کسی پرمتفق ہیں تو وہ کپتان کی ذات ہے۔ باقی ہر کسی کی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے جس کا وہ خود امام ہے۔ صرف سترہ ماہ میں عالم یہ ہے کہ اتحادی بے قابو ہیں تو مہنگائی کنٹرول اور قابو سے باہر ۔ بس کوئی ریلیف ہے تو اپوزیشن کی جانب سے جو موسم سرما میں بھی ستو پی کر خمار آلود نیند کے مزے لے رہی ہے۔


ای پیپر