05 فروری 2020 2020-02-05

صاحب ِ نہج البلاغہ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کا ایک قولِ فصاحت ذہن میں گونج رہا ہے، مفہومِ قولِ بلیغ یوں ہے کہ حق کی پہچان میں اگر کوئی مغالطہ درپیش ہو تو یہ دیکھ لیا کرو کہ اِسے نشانہ بنانے والے تیر کس طرف سے آرہے ہیں، یعنی طاغوتی قوتوں کی طرف سے برسنے والے تیروں کا ہدف ہمیشہ حق ہی ہوتا ہے۔ حدیث ِ رسول کریمؐ : ’’الکفرملت واحدہ‘‘( سارا کفر ایک ہی ملت ہے)، اس کی مزید تصدیق وتطبیق کر رہی ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے‘ اگر مسلمانوں کو یہ سمجھ نہ آرہی ہو کہ کون مسلمان ہے اور کون کافر‘ تو یہ یاد رکھنا‘ جس کو ہندو مسلمان کہہ کر مارے گا ‘وہ مسلمان ہی ہو گا۔ یعنی ہندو کی تلوارغارت گری میں شیعہ ، سنی ، وہابی بریلوی کی تفریق نہیں کرے گی۔

پڑوس میں ایک مرگِ ناگہانی پر سینہ کوبی جاری ہو، اور ایک ہمسایہ مرنے والے کے کچے چٹھے کھول کر بیٹھ جائے، تو اسے کون غمخواری کا نام دے گا۔ کہتے ہیں‘ غم اور خوشی کے موقعوں پر معلوم ہوتا ہے کہ اپنا کون ہے اور پرایا کون؟ کسی کے غم میں خوش ہونے والا دراصل یہ اعلان کرتا ہے کہ میں تمہارے مخالف کے ساتھ کھڑا ہوں۔ جدید ٹیکنالوجی اور سائینس کی بے پناہ ترقی کے باوجود انسان تنہا نہیں رہ سکتا۔ آج بھی حضرت انسان اپنی بنیادی جبلتوں اور جذبات کے گرد گھوم رہا ہے۔ ہمدردی، محبت، خلوص اور مؤدت جیسے جذبات کل بھی انسان کو رام کرتے تھے اور آج بھی اس کا دامنِ توجہ اپنی طرف کھینچ لینے کی قدرت رکھتے ہیں۔ اِخلاص اور اخلاق اگر کل کے انسان کی ضرورت تھی تو آج اس کی یہ ضرورت دو چند ہو چکی ہے۔ جیسے جیسے ہم سائینس میں آگے بڑھ رہے ہیں، درسِ اخلاق و تصوف کی ضرورت پہلے سے کہیں بڑھتی چلی جارہی ہے۔ تصوف درس گاہ اخلاق ہے۔ پہلے پہل ایک بیل گاڑی چلانے والا اگر غفلت کا مظاہرہ کرتا تو محض دو ایک افراد ہی زخمی ہوتے لیکن آج اگر کسی جہاز یا بلٹ ٹرین کا ڈرائیور کسی نشے میں مدہوش ہو جائے ‘ خواہ وہ نشہ غرور اور احساسِ برتری ہی کا کیوں نہ ہو‘ اپنے ساتھ ہزاروں انسانوں کو موت کی بے ہوشی میں لے جائے گا۔

آمدم برسر مطلب، قومیں افراد کا مجموعہ ہیں، اس لیے قوموں کے مزاج افراد کے مزاج کی طرح دیکھے اور پرکھے جاتے ہیں۔ کسی کے ساتھ دل جوئی کی جگہ اگر دل شکنی کا معاملہ کر دیا جائے تو سمجھ لیں آپ نے اسے کھو دیا ہے۔ دو بھائیوں میں تلخیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن ایسے موقعوں پر ذی فہم لوگ ماضی کی تلخیوں کو دفن کرتے ہوئے پرسہ دینے پہنچ جاتے ہیں اور اپنے بھائی کے دل میں کھوئی ہوئی جگہ پھر سے بنالیتے ہیں۔ مانا کہ ہر ریاست کے اپنے مفاد اور تحفظات ہوتے ہیں، مانا کہ معیشت ہر دور کی طرح اس دور میں بھی اہم ہتھیار ہے لیکن یہ کیا کہ غیر جانبداری کے نام پر بے حسی کا کفن اوڑھ لیا جائے۔

اگر ایران ایرانیوں کیلئے، عرب عربوں کیلئے ، افغانستان افغانوں کیلئے ، ترکی ترکوں کیلئے ہے تو بلادِ اسلامیہ کیلئے کون خود کو وقف کرے گا؟ کیا اسلام اتنا سادہ حلوہ ہے کہ چند مراسمِ عبودیت ادا کر دینے سے اس پر ختم پڑھ لیا جائے گا۔ اسلام کی ایک اہم جہت اجتماعیت سے عبارت ہے، اجتماعی معاملات زندگی میں اسلام انفرادی عبادات سے زیادہ حساس واقع ہوا ہے۔ نماز قضا کر دینے کا وبال ہر کوئی بتاتا ہے ، خدمت کی قضا کے بارے میں احکام… یہ حکام کب بتائیں گے؟ احادیث ِ نبویؐ میں ملتِ اسلامیہ کا جسد واحد ہونا بھی واضح ہے۔ فرمایا گیا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، مصیبت کے وقت وہ اسے تنہا نہیں چھوڑتا، اسے طعنہ نہیں دیتا۔ طعنہ ماضی کے رویے کے متعلق ہوتا ہے۔ فرمایا گیا کہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کر‘ خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم، دریافت کیا گیا کہ مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ میں آتا ہے ‘ ظالم کی مدد کیسے؟ فرمایا گیا اسے ظلم سے باز رکھنا اس کی مدد کرنا ہے۔ اس حکم کی ایک حکمت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ مسلمان کسی معاملے میں اپنے مسلمان بھائی کو زیادتی سے روکنے کیلئے کسی غیر کی مدد نہیں لے گا، وہ اپنے مسلمان بھائی کو خود ہی سمجھائے بجھائے گا، اسے ظلم سے باز رکھے گا، لیکن اس کے خلاف ہنود و یہود سے اتحاد نہیں بنائے گا۔

صد شکر کہ خالق ِ کائنات نے ہمیں ایسے رسولؐ کی اْمت سے پیدا کیا ہے جنہیں اپنی اُمت کی فوزو فلاح بے حد عزیز ہے، خداوند عزو جل کے الفاظ کے مطابق اُنؐ کی شان’’حریص ’‘ علیکم‘‘ ہے… وہ مومنوں کی فلاح کیلئے بے حد’’حریص‘‘ ہیں… آدابِ معیشت ہو یا معاشرت تمام شعبہ ہائے حیات میں کیلئے اسوۃ رسولِ کریمؐ ہماری راہنمائی کیلئے موجود ہے۔ ہمارے پیغمبر‘ پیغمبر ِاخلاق ہیں۔ آداب معاشرت کے باب میں ہمیں یہ بتایا گیا کہ جب کسی قوم کا کوئی معزز تمہارے پاس آئے تو تم بھی اس کی عزت کرو۔ یہاں سے یہ سبق کشید کیا جا سکتا ہے کہ کسی قوم کے ہیرو کا احترام آدابِ معاشرت میں شامل ہے۔ کسی قوم کے ہیرو کی تضحیک اس قوم کی تضحیک کے مترادف ہے۔ طعن و تشنیع درحقیقت عزت و تعظیم کا الٹ ہوتا ہے۔ یاد رکھیے! جب آپ کسی قوم کے ہیرو کی توہین کرتے ہیں تو براہِ راست اس قوم کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ آج سوشل میڈیا ایسا ھائیڈ پارک بن چکا ہے جہاں کچھ بھی ہائیڈ نہیں ہوتا ہے۔ ہر وہ شخص جو ٹائپ کرنا جانتا ہے، وہ بغیر کسی تربیت کے خود کو مصنف بروزنِ منصف، ادیب ، فقییہ ، داعی ، مفتی اور صحافی تصور کرتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ سوشل میڈیا میں اپنی بات کو پھیلانے یعنی وائرل کرنے کے طریقے جنہیں شاید سٹنٹ کہنا زیادہ مناسب ہے، بے بصیرت لوگوں کے ہاتھ میں آ چکے ہیں۔ لڑکوں بالوں نے پرائیوٹ چینل شروع کر رکھے، زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنے کیلئے وہ سنسنی خیزی کی کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوتے ہیں۔ خبر کے متعلق ذمہ داری کا احساس مفقود ہو چکا ہے۔ خود ساختہ مبصرین کی ایک فوج ظفرموج ہے جو لوگوں کے احساسات اور جذبات کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتِ حال گزشتہ دنوں ایران اور امریکہ کے درمیان چپقلش میں ایک جنرل کے مارے جانے کے موقع پر پیش آئی۔ لوگ اپنے اپنے مسلک کی دوربینی لے کر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑے، کلمہ اور کلمہ گو کا تقدس جاتا رہا۔ جس اُمت کو مومن کی عزت و ناموس کی حرمت کعبہ کی حرمت سے بڑھ کر بتائی گئی تھی، وہ بتانِ عرب و عجم میں کھو گئے۔

دنیائے اسلام میں سب سے بڑی فکری تخریب کاری اس دن ہوئی تھی جس دن خارجی لوگوں نے اہل اسلام پر اہلِ کفار سے متعلق آیات کا اطلاق کرنا شروع کر دیا تھا۔ خارجی لوگ خلافت ِ راشدہ کی امین ہستیوں کو معاذ اللہ دائرۂ اسلام سے خارج تصور کرتے تھے۔ کلمہ گو کو کافر قرار دینے کی بدعت جب سے شروع ہوئی ہے‘ ملت اسلامیہ کا جسدِ واحد خاک و خون میں غلطاں ہے۔ پیغامِ رسالتؐ کی روشنی اْمت تک ولایت کے روزنوں سے پہنچتی ہے، خارجیوں کے ساتھ جنگ میں جب امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی سپاہ نے اپنے مفتوح لشکر کو کافرین کہا تو باب العلم ؑ نے فرمایا کہ انہیں کافر نہ کرو، یہ تمہارے مسلمان بھائی تھے، بس گمراہ تھے۔ سبحان اللہ! وہ علی وجہہ اللہ الکریم جو ازروئے حدیثِ رسولِ کریمؐ کُل ِ ایمان ہے، حق علیؓ کے ساتھ ہے اور علیؓ حق کے ساتھ ہے ، جس کے مقابل آنے والا کبھی حق پر نہیں ہو سکتا، جس کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے… وہ عظیم المرتب ہستی بھی اپنے مقابلے میں آنے والے کلمہ گو کو کافر کہنے کی اجازت نہیں دیتی۔

کس کا کیا جرم ہے؟ یہ چھوڑیں، صاحب! فردِ جرم عاید نہ کریں… لوگ مجرم ہو جاتے ہیں‘ رعایت دیں، لوگوں کی نیتوں پر شک نہ کریں ، بلکہ شک کا فائدہ دے کر اُن کو بری کریں، نااتفاقی کا مقدمہ سمیٹیں، وہ اگر غلط تھے تو مان لیں کہ ہم بھی صحیح نہ تھے، پرانے قصے ختم کریں۔ بس ایک اللہ ، ایک رسولؐ ، ایک کلمہ اور ایک قرآن کی بنیاد پر سب قبلہ رو ہو جائیں، جہاں سے چلے تھے ‘ وہاں سے پھر اکٹھے ہو جائیں، کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو جائیں، ایک دوسرے کی دل شکنی نہ کریں، دل کے شکن نکل گئے تو پیشانی کے بل بھی نکل جائیں گے، صفیں اَز خود سیدھی ہو جائیں گی۔ ہمارے قلم اور منہ کے دہانوں سے کوئی ایسی بات نہ نکلے جو فرقہ واریت کو ہوا دینے والی ہو، کوئی کالم یا کلام لکھنے سے پہلے سو بار سوچیں، یہ الفاظ کسی مکتبہ فکر کے لوگوں کے دلوں میں کس طرح ترازو ہوں گے۔ اگر ہمارے الفاظ اور لہجوں سے ان کے دلوں میں ہمارے لیے کوئی منفی جذبہ جنم لیتا ہے تو جان لیجیے ہماری تحریر و تقریر کی سب ریاضت… سب اکارت… ہمارا حال اس بڑھیا سے مختلف نہ ہوگا جس نے عمر بھر بڑی محنت سے سوت کاتا لیکن انجامِ کار اسے الجھا دیا۔ مولانا رومؒ کی دانشِ برہانی سے بقدرِ ہمت حکمت کشید کریں:

تُو برائے وصل کردن آمدی

نَے برائے فصل کردن آمدی


ای پیپر