استنبول کی ایک رات اور امرؤالقیس کی بات
05 فروری 2019 2019-02-05

یوشع تپسی کا مطلب ہے وہ پہاڑی جس پر حضرت یوشع ؑ کا مزار واقع ہے۔ہم یوشع تپسی سے رخصت ہونے کے لیے بس کے حصول میں تو کامیاب ہوگئے لیکن اس بس نے ہمیں کسی اور اسٹاپ پر اتار دیا۔ یوں کہ ہم اگلی بس کے انتظارمیں دیرتک وہاں بیٹھے رہے ۔حذیفہ کے نئے دوست کو اپنے ٹیلی فون کا بیلنس چارج کرواناتھا۔بس اسٹاپ کے قریب واقع ایک ’’کشک‘‘ سے یہ کام بھی ہوگیا ۔’’بس اسٹینڈ پر‘‘ بیٹھے بیٹھے پاکستان میں ٹیلی فونی رابطے بھی ہوگئے۔ گپ شپ بھی ہوگئی مگر ۔۔۔’’وہ رُت اے ہم نفس جانے کب آئے گی ۔۔۔وہ فصل دیررس جانے کب آئے گی۔۔۔یہ نونمبر کی بس جانے کب آئے گی‘‘ ۔۔۔ کی کیفیت ختم نہ ہوئی ۔بہ ہر حال کبھی نہ کبھی نہ کبھی تو اس کیفیت کو ختم ہوناتھاسوہوا، اور چمکتی موٹروں سے اڑنے والی دھول کے ذروں میں بس کا ہیولا ابھراور ہم ایک ویران بس میں بیٹھ کر باسفورس کی سمت روانہ ہو گئے۔ رات کا وقت، استنبول کے علاقے اسکیدار میں ساحل کے ساتھ ساتھ چلتی سڑک ۔خالی خالی بس میں بیٹھے ہم دوچارمسافر،یہ سفر خاصاطویل محسوس ہوا۔ میں نے دورانِ سفر میں درمش صاحب سے کہاکہ ترکی آ کر میں ایک اور جگہ دیکھناچاہتاتھا لیکن میرے پروگرام میں اتنا وقت نہیں کہ میں اس جگہ بھی جاسکوں۔۔۔ وہ کونسی جگہ ہے درمش صاحب نے دریافت کیا۔۔۔وہ ایسی جگہ ہے جس کے بارے میں عام طورسے ترک بھی نہیں جانتے ۔۔۔میں نے جواب دیا ۔۔۔ میری اس بات پر وہ چونکے اوران کا تجسس دو چندہوگیا ۔۔۔ میں نے کہاکہ ترکوں کو عام طورسے اس بات کا علم نہیں کہ عربی کااشعرالشعرا امرؤالقیس ترکی میں مدفون ہے ۔۔۔جی ہاں وہی امرؤالقیس جس کا اسی (۸۰) شعروں پرمشتمل معرکۃ الآرا معلقہ آج بھی دینی مدارس اورشرق و غرب کی یونی ورسٹیوں کے نصابات میں پڑھایاجاتاہے ۔ڈاکٹرخورشیدرضوی صاحب کی تحقیق کے مطابق توموریطانیہ کے مدرسوں میں بچوں کوبھی اس کاکلام حفظ کروایاجاتاہے ۔اس کے شعری محاسن کے علاوہ شایداس کا سبب یہ بھی ہوکہ موریطانیہ کے بہت سے قبائل یمنی الاصل ہیں اور امرؤالقیس بھی یمنی الاصل تھا ۔۔۔ہائیں یہ بات تو مجھے بھی معلوم نہیں درمش صاحب بولے لیکن کہاں ؟ہم نے آج تک یہ بات نہیں سنی ۔۔۔میں نے انھیں بتایاکہ وہ انقرہ میں دفن ہے اور میں چاہتاتھا کہ اس کی قبر دیکھوں ۔۔۔لیکن کیسے اس کا تعلق تو سرزمینِ عرب سے تھا وہ یہاں کیسے پہنچ گیا ۔۔۔اس’’ کیسے ‘‘کا جواب طویل تھا ۔۔۔ ایک شام جب امرؤالقیس یمن کے علاقے کوہ دمون میں تاش کھیلنے میں مصروف تھا اسے ایک قاصد نے آکر یہ اطلاع دی کہ اس کے باپ حجربن الحرث کو جو بنی اسد اور غطفان کا حکمران تھا، اس کے اپنے ہی لوگوں نے قتل کردیاہے۔ اس نے اپنی بازی پوری کرنے کے بعد قاصدسے اس خبر کی تفصیل پوچھی اور کہا ’’ضعنی ابی صغیراً وحملنی دمہ کبیرا‘‘جب میں چھوٹاتھاتو میرے باپ نے مجھے ضائع کیااور جب میں بڑاہواتو مجھ پر اپنے خون کا بوجھ لادکر چل دیا۔۔۔بچپن بلکہ جوانی میں اسے ضائع کرنے کی تفصیل یہ ہے کہ امرؤالقیس ایک آزادہ رو نوجوان تھا ،اتناکہ اس کی اپنی محبوبہ نے اسے کہا ’’ لست علی بامین انت فتی داعر‘‘ (تومیری عزت کا محافظ نہیں ہوسکتا توایک بدکارنوجوان ہے)۔۔۔یہ دوجملے اس کی زندگی کے دوادوار کی نشان دہی کرتے ہیں ۔اس کی محبوبہ کا جملہ اس کی زندگی کے پہلے دور کی نشان دہی کرتاہے تو اپنے والد کے قتل کی اطلاع ملنے پر کہاگیااس کا اپنا جملہ اس کی زندگی کے دوسرے دور کی نمائندگی کرتاہے ۔

اپنی محبوبہ کا سخت تنقیدی جملہ سن کربھی امرؤالقیس کے اطوارمیں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی۔ نوبت بہ اینجا رسیدکہ اس کے باپ نے شہزادگی کے باوصف اسے گھرسے نکال دیا ۔وہ پچیس برس تک اپنے آوارہ خرام دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی میں مصروف رہا اور الملک الضلیل (گم کردہ راہ شہزادہ)کہلایایہاں تک کہ اسے باپ کے قتل کی خبر مل گئی اس کے بعد اس کی زندگی کا ایک بالکل ہی مختلف دورشروع ہواجس کا نمائندہ اس کاوہ جملہ ہے جو پہلے نقل ہوا۔۔۔اب اس کی زندگی کامقصد صرف اورصرف اپنے باپ کے خون کا بدلہ لیناتھا۔ جوشِ انتقام اور محبتِ پدری میں اس نے یہ بھی بھلادیاکہ یہ وہی باپ تھاجس نے اس کی نافرمانی کے باعث حکم دیاتھا کہ امرؤالقیس کو قتل کرکے اس کی آنکھیں نکال کر مجھے پیش کی جائیں ۔۔۔وہ تو بھلاہواس شخص کا جسے یہ حکم دیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے ہرن یا نیل گائے کی آنکھیں لے جاکر شقی القلب باپ کو دے دیں ۔جب یہ دیکھ کر باپ کا دل پسیجاتو اسے بتایاگیا کہ یہ اس کے بیٹے کی آنکھیں نہیں ہیں۔۔۔تاہم باپ کے قتل ہوجانے کے بعد امرؤالقیس کی زندگی مسلسل اپنے باپ کے خون کا بدلہ لینے کی جدوجہدمیں گزری ۔اسی سلسلے میں مددکے حصول کے لیے وہ قسطنطنیہ پہنچ گیا جہاں وہ اپنے باپ کے انتقام کے لیے قیصرروم سے مددکاطلب گارہوا۔قیصر،کسریٰ کے خلاف تھا اسے امرؤالقیس کی صورت میں عربوں کی جانب سے کسریٰ کے خلاف ایک مہرہ ہاتھ آتادکھائی دیا ۔۔ قیصرنے اس کا احترام کیا اور اسے لشکراور سامان جنگ سے مدد فراہم کی اور بعض روایات کے مطابق فلسطین کا گورنربھی مقررکردیا لیکن امرؤ القیس کے حاسدوں نے اس کے خلاف قیصرکے کان بھردیے اور اسے کہاکہ یہ شخص آپ کے احسان کا بدلہ دینے کے بجائے آپ کی بیٹی کے بارے میں عشقیہ اشعار لکھ کر اسے رسواکرے گا۔یوں معلوم ہوتاہے کہ قیصربھی دوسرے حکمرانوں کی طرح کانوں کا کچاتھا۔ چنانچہ وہی قیصرجس نے امرؤ القیس کو اپنی فوج سے مدددی تھی اس کے لیے زہرمیں بجھاہوا زربفت کا ایک خلعت بھیجتاہے ۔ امرؤالقیس اسے پہن کر خوشی سے پھولانہیں سماتالیکن اس لباس کے پہننے سے جسے آپ آج کل کی اصطلاح میں جیکٹ بھی کہہ سکتے ہیں زہراس کے جسم میں سرایت کرجاتاہے جس کے باعث یہ ذوالقروح(زخموں والا) شاعر ہمیشہ کی نیند سو جاتاہے ۔اس زمانے میں وہ انقرہ تک پہنچ چکا تھا۔ یہاں اسے کوہ عسیب کے دامن میں ایک رومی شہزادی کی قبرکا پتہ چلا جو ناکامی عشق کے باعث جان ہار گئی اور اسے کوہ عسیب نے اپنے دامن میں پناہ دی تھی۔ امرؤالقیس کا رومانوی ذہن اس شہزادی کو شہیدِوفا تصورکرکے اس کی قبرکوچاہنے لگتاہے اور زہرمیں بجھاہواملبوس پہننے کے بعد جب اسے موت کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے تو اسی ناکامِ محبت شہزدای کے پہلو میں دفن ہونا پسندکرتاہے ۔وہ اس شہزادی سے خطاب کرکے کہتاہے :’’اے مری ہمسایہ اب ملاقات کے دن قریب آلگے ہیں جب تک یہ عسیب پہاڑ اپنی جگہ موجودہے میں بھی یہاں سے نہ جاؤں گا۔اے مری ہمسایہ ہم دونو یہاں اجنبی ہیں اور ایک اجنبی کا دوسرے اجنبی سے ایک رشتہ ضرور ہوتاہے۔۔۔‘‘میں درمش صاحب کو یہ باتیں بتارہاتھا اور وہ حیران ہورہے تھے میں نے جب انھیں بتایاکہ بالآخر ایساہی ہوا اور امرؤالقیس آج بھی کوہ عسیب کے دامن میں مدفون ہے اور عسیب انقرہ میں واقع ہے۔ادھرحذیفہ صاحب ہم سے الگ اپنے نئے نیم ترک نیم پاکستانی دوست کے ساتھ بیٹھے گپ شپ میں مصروف تھے ادھردرمش صاحب یقین اور بے یقینی کے عالم میں ڈول رہے تھے۔ اچانک انھیں ’’جناب گوگل ‘‘کا خیال آیااور انھوں نے اپنا موبائل نکال کر اس سے پوچھا ۔۔۔گوگل بھی عجیب استاد ہے درمش صاحب کے استفسار پر چندہی لمحوں میں اس نے اسی موضوع پر لکھاہوا ایک ترک اسکالرڈاکٹرمحمد سوزائی ترک کا مضمون’’ ایک فراموش شدہ یاد، انقرہ کا پراسرار شاعر امرؤالقیس ‘‘ حاضرخدمت کردیا ۔ اس موضوع پر عبدالکریم اردوان کی تحقیق بھی مل گئی۔دونو مضامین ترکی زبان میں تھے۔ درمش صاحب انھیں دیکھ کر یہاں وہاں سے ان کے اقتباسات کا ترجمہ مجھے بتاتے رہے جس سے ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ امرؤالقیس کی قبرانقرہ ہی میں ہے ،بعدمیں انھوں نے مجھے اس موضوع پر ایک ڈاکومنٹری بھی بھیجی جس میں امرؤالقیس اور اس کی قبرکے بارے میں مختلف ترک اور عرب اسکالرز کے تاثرات اور تحقیقات سے آگاہ کیاگیاہے اور اس کی موجودہ کیفیت کی فلم بھی دکھائی گئی ہے ۔۔۔یوں ہم نے اصالتاً نہ سہی پردۂ سیمیں کے ذریعے ہی سہی کوہ عسیب اور اس کے کھنڈرات میں واقع امرؤالقیس کی محرابی قبر بھی دیکھ لی ۔قبرپرواقع محرابی عمارت عثمانی دور میں تعمیرکی گئی تھی ۔ رات کے اس پہر بس کا یہ طویل سفرجس میں اکا دکا مسافر ہی سوارتھے ، امرؤالقیس کے بارے میں باتیں کرتے گزرگیا ۔

ہم اس سفرکے انجام پر باسفورس پہنچ ہی گئے۔ رات بیت رہی تھی اب تک کھانابھی نہیں کھایاتھا۔کوہ پیمائی بھی کرلی تھی ۔یوشع تپیسی کی طرف جاتے ہوئے اگر حذیفہ صاحب کو بھوک لگی تھی تو اب ہم تینوں اسی کیفیت کو محسوس کررہے تھے چنانچہ اُسی مقام سے کھانے کا سامان کیاگیااور باسفورس کے روبرو لگے بنچوں پر بیٹھ کر’’ ڈنر‘‘ کیاگیا ۔ رات کے اس پہر معدیہ کی روانگی کا سلسلہ موقوف ہوچکاتھا ۔ڈاکٹر درمش صاحب نے پانی کے اندر چلنے والی ٹرین کا ٹکٹ لے لیا اور ہم باسفورس کے نیچے گم شدہ سرنگ سے گزرتے ہوئے استنبول کی جانب روانہ ہوگئے ۔اس طویل سفر کے دوران بالکل اندازہ نہیں کیاجاسکتاتھا کہ ہم پانی کے اندرسے گزررہے ہیں۔پانی سے نکل کر اسٹیشنوں کی آمدکاسلسلہ شروع ہوگیا ۔ہماری منزل ایمی اونوتھی وہاں سے ٹرین تبدیل کی اور اس دوسری ٹرین کے ذریعے توپ کاپی اسٹیشن پہنچے ۔یہ اسٹیشن ہمارے ہوٹل کے قریب تھا ۔یہاں ٹرین سے اتر کر ہم پیدل اپنے ہوٹل اگنس پہنچ گئے جہاں سہیل صاحب ہمارا انتظار کر رہے تھے ۔وہاں سے سہیل صاحب ہمیں چھالیان لے گئے ۔


ای پیپر