سرخیاں ان کی۔۔۔؟
05 فروری 2019 2019-02-05

*میرے معزز قارئین میرا آج کا کالم میری چند مزید پیش گوئیوں پر مشتمل ہے۔ یاد رہے کہ ماضی کی میری پیش گوئیاں جناب بھٹو، جناب ضیاء الحق، جناب نواز شریف 2013 ء میں بالخصوص جناب مشرف جن کے متعلق میرا کالم ریکارڈ پر ہے کہ میں نے لکھا تھا ’’ سر دوبئی نہ چھوڑیے گا ملکی سیاست میں آپ کی کوئی جگہ نہیں ہے اور جناب عمران خان کا 2018 ء میں وزیر اعظم بننا وغیرہ تاریخ کا حصہ ہیں اور سو فیصد درست ثابت ہو چکی ہیں، بے شک غیب کا علم میرے اللہ کے پاس ہے۔

* پیش گوئی نمبر 1

* بلا شبہ اللہ کی کتاب کئی مقامات پر دنیا کی مذمت اور فکر آخرت کی ترغیب دیتی ہے۔ بلکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ دنیا کی زندگی تو متاع فریب یا کھیل تماشہ ہے البتہ سچی زندگی تو آخرت کا گھر ہے۔ مگر یہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہونے کے با وجود انسان کی اس میں دلچسپیاں اتنی گہری ہیں کہ بیان نا ممکن ہے۔ لہٰذا امکان غالب ہے کہ آئندہ انسانی زندگی ’’ مصنوعی ذہانت‘‘ کے سہارے بسر ہو اور انسان صحت کے شعبے میں جوہری تبدیلیاں رونما ہوں اور ٹیلی مواصلات دنیا کو دنگ کر دیں اور موجودہ انسان ہاتھ ملتا ہی رہ جائے اور سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ دنیا کی زندگی تو کھیل تماشا ہے؟

سچی زندگی تو آخرت کا گھر ہے !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

* پیش گوئی نمبر 2

* اگرچہ میں اپنے گزشتہ کالموں میں بھی لکھ چکا ہوں تاہم پھر دہرا رہا ہوں کہ جس طرح کوئی بچہ لات مار کر اپنا کھلونا ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔ مودی سرکار نے بھی اپنی لاتیں مار مار کر اپنا اقتدار ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے لہٰذا مودی کے اب وزیر اعظم بننے کے امکان تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ اگرچہ اس کی کئی بنیادی وجوہات ہیں تاہم کشمیریوں پر بے پناہ مظالم، کرپشن اپنے کسانوں سے نا روا سلوک اور اقلیتوں سے استحصال کی بدولت اس بار بی جے پی کو میدان خالی ملے گا اور بھارت کے اگلے وزیر اعظم راجیو گاندھی کے بیٹے راہول ہوں گے۔ مگر جناب مودی گلیوں ، محلوں اور میلے ٹھیلوں میں یہ کہتے ضرور سُنے جائیں گے کہ

چھٹتی نہیں ہے مُنہ سے یہ کافر لگی ہوئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

* پیش گوئی نمبر 3

* امکان غالب ہے کہ چین نئے دور کی نہ صرف ابھرتی ہوئی معیشت ہو بلکہ عالمی معیشت میں سر فہرست قرار دے دیا جائے اور پوری دنیا اسے حیرانی کی نگاہ سے دیکھنے لگے بلکہ یورپی استعمار بھی اس کے کردارسے کئی

سبق حاصل کرے۔ در حقیقت چین ایک پر امن ملک ہے لہٰذا نہ ہی وہ کسی جنگی جنون یاخبط عظمت کا شکار ہے۔ جبکہ اس کا جنگی بجٹ بھی خاصا محدود ہے یہ مشاہدہ بتاتا ہے کہ مستقبل قریب میں چین اپنی زمینی فوج مزید کم کر دے اور ہوائی اور بحری فوج کی تعداد نہ صرف بڑھا دے بلکہ اسے جدید فورس میں تبدیل کر دے ۔ اس لیے چینی صدر شی جن پنگ چین کے تمام صوبوں میں بے پناہ مقبولیت حاصل کریں گے اور ان کی حکومت اور کمیونسٹ پارٹی مزید مضبوط ہوں گے۔ لہٰذا وہ کام جو چین کے عظیم رہنما ماوزے تنگ کرنا چاہتے تھے۔ صدر شی جن پنگ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*پیش گوئی نمبر 4

* اگرچہ اس رواں صدی میں انسانی بیماریوں کے علاج کے لیے کئی دیگر طریقہ علاج بھی دریافت ہوں گے تاہم تھراپی بطور علاج رائج الوقت ہو گی اور کچھ تھراپیاں تو دوران علاج ایسی عجیب و غریب ہوں گی کہ معالج ہی نہیں مریض بھی دھنگ رہ جائے گا تاہم گلے لگانے کی تھراپی عروج پکڑ جائے گی ۔

* پیش گوئی نمبر 5

* سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان امت مسلمہ کا ابھرتا ہوا لیڈر قرار پائیں گے ۔ دنیا ان کی روشن خیالی کو حیرانی و تعجب سے دیکھے گی آنے والے چند برسوں میں سعودی عرب ترقی و خوشحالی کی نئی منزلیں طے کرے گا ۔ وہ عسکری شعبوں کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی انقلابی تبدیلیاں لانے کے لیے متحرک ہوں گے ۔ مستقبل قریب میں چونکہ زیادہ تر کام پن بجلی پر شفٹ ہو جائیں گی۔ اور پوری دنیا میں بجلی پر چلنے والی گاڑیوں میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا بلکہ یوں بھی محسوس ہوتا ہے کہ اس مانگ کو پورا کرنے کے لیے انسان وائی فائی کے سگنل سے بھی بجلی پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے گا اور چھوٹی موٹی گاڑیان بھی شاید ان سگنل سے چلائی جا سکیں۔ بہر حال عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے سعودی کمپنی آرامکو بھی نئے نئے رجحانات کو جنم دے گی اور اس ضمن میں دنیا سے مقابلہ جیتنے کی کوشش کرے گی اور قرائین کہہ رہے ہیں کہ آرامکو اپنے حصص کی فروخت کا بھی اعلان کر سکتی ہے اور اس اقدام سے لگ بھگ 20 کھرب ڈالر کما سکتی ہے۔ جبکہ اقتصادی اصلاحات کے لیے سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کا ویژن 2030 ء ایک رول ماڈل ہے۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ عالمی تناظر میں آئندہ سعودی معیشت کا کردار بھی ایک اہم شکل اختیار کر سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ای پیپر