پارلیمنٹ تھیٹر
05 فروری 2019 2019-02-05

شریف حکومت میں سڑکوں کے بننے کے جواب میں مسکراتے ہوئے عمران خان نے فرمایا سڑکیں نہیں قوم بناتے ہیں۔ ذاتی طور پر مجھے اس ارادے نے بہت متاثر کیا کہ واقعی قوم بنانا چاہیے مگر کیا دیکھا کہ حکومت بنتے ہی ایسا رویہ اختیار کیا گیا جیسے ان سے پہلے ملک میں غیر ملکیوں کی حکومت تھی یا موجودہ حکومت غیر ملکیوں کی ہے مگر حکومت سازی کے لیے دیگر ناپسندیدہ ترین سیاسی جماعتوں کی جو حمایت کو مستعار لینا پڑا دیدنی ہے جو چپڑاسی کے قابل نہ تھا اہم ترین اتحادی وزیر بنایا گیا بقول خان صاحب کے جو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو تھا اس کو اسمبلی کا کسٹوڈین بنا دیا گیاجن کو نازی کہتے تھے کراچی میں نیازی کے سیاسی اتحادی ٹھہرے، سب سے بڑی بیماری کے امیدوار کو سینیٹ کا چیئرمین بنا دیا گیا ہم نے سوچا کہ شاید سڑکوں کی بجائے قوم بنانے کی طرف گامزن ہیں مگر لوٹ مار لوٹ مار کرنے والوں کو معافی نہیں ہونا چاہیے چاہے وہ دل کینسر یا کسی اور موذی مرض میں کیوں نہ ہوں بشرطیکہ اپوزیشن میں ہیں۔

شیخ رشید کے مقابلے میں اپوزیشن خواجہ سعد رفیق یا رانا ثناء اللہ کو اے پی سی کا رکن بنانے کا مطالبہ کر رہی ہے جیسے کسی فلم کی کاسٹ میں سلطان راہی کے مد مقابل مصطفی قریشی ضروری ہوتا تھاانہی کے لیے ایک بار مصطفی کھر نے کہا تھا کہ چوہدری ظہور الٰہی کی مخبری کرنے کے مجھ سے پیسے لیتا تھا۔ دراصل قوم سازی شاید اسی طرح ہوا کرتی ہے۔ فواد چوہدری کہتا ہے پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ دونوں ایک ہیں کیا زرداری کو جیل میں 12 سال پی ٹی آئی نے رکھا تھا۔ دراصل حکمرانوں کی پالیسیاں اپوزیشن کو اکٹھا کیا کرتی ہیں میں نے اصغر خان کو شہید ذوالفقار علی بھٹو کو کوہالہ کے پل پر پھانسی دینے کے اعلان کرتے سنا، میں نے نواب زادہ نصر اللہ، مفتی محمود، اصغر خان، ملک قاسم گویا پورے قومی اتحاد کو بھٹو شہید کی پھانسی کا منتظر پایا پھر میں نے جونیجو کے وقت ضیاء کے دور ہی میں ملک قاسم، اصغر خان، فضل الرحمن ، ولی خان کو موچی دروازہ میں ذوالفقار علی بھٹو شہید کی تصویر کے سائے تلے جلسہ کرتے دیکھا۔

فواد چوہدری جب حکومتیں غیر ملکی فاتحوں جیسا سلوک کریں تو اپوزیشن ہم وطنوں کی طرح اکھٹی ہو ہی جایا کرتی ہے۔ الزامات، اعلانات، بہتان کے علاوہ آپ کے برتن میں تھا ہی کیا اور اب قرض کے علاوہ پالیسی ہے ہی کیا، ڈلیور کریں، پرانی حکومتیں اب آنجہانی ہو چکیں۔ حکمران نمائندے کہتے ہیں 30/40 سال کی خرابی اور بعض 70 سال پہ چلے جاتے ہیں کو چند مہینوں میں درست نہیں کر سکتے۔ خدا کا خوف کریں ان 70 اور 40 سالوں میں ڈکٹیٹر شپ کے براہ راست 33 سال تو نکال دیں میں سمجھتا ہوں جو تیس چالیس سالوں میں مثبت ہوا ان کو 6 ماہ میں برباد کر کے رکھ دیا گیا۔ تاریخ میں حکومت ملتے وقت سب سے زیادہ برے حالات بھٹو صاحب اور اُن کے بعد جناب زرداری کو ملے تھے مگر سب سے اچھے حالات موجودہ حکومت کو ملے ہیں۔

آج تک ایسی پارلیمنٹ نہیں دیکھی جس کے ارکان قانون سازی کی بجائے جگت بازی کریں۔ کرپشن کے خاتمہ کے نعرہ کے ساتھ آنے والی جماعت کی حکومت کے دور میں کسی ایک ادارے میں کسی ایک جگہ پر جہاں رشوت تھی 0.01 فیصد کم نہ ہوئی البتہ کھوئی ہوئی میراث ڈکٹیٹر شپ کے دور کی ڈھٹائی واپس لانے میں ضرور کامیاب ہوئے۔ حکومتی جماعت ابھی تک رویے کے اعتبار سے اپوزیشن میں ہی ہے کبھی زمانہ تھا روٹس ناول پر بننے والی فلم کی وجہ سے امریکہ میں سڑکیں خالی ہو جایا کرتیں ۔پاکستان میں بھی چند ڈرامے ،انڈین گانوں کے پروگرام چترہار ،محمد علی باکسر کے مقابلے کے وقت سڑکیں سنسان ہو جایا کرتیں۔ انڈیا پاکستان کا ہاکی میچ پھر کرکٹ میچ بازار سُونے کر دیتا مگر اب لوگ دن بھر انتظار کرتے ہیں کہ شام کو جا کر پارلیمنٹرین، حکومتی زعما اور حزب مخالف کی جگتیں سنیں گے۔ کیا چوٹی کے فنکار ہیں شیخ رشید، واوڈا، فیصل جاوید ، فواد چوہدری، نعیم الحق، رانا ثناء اللہ، طلال چوہدری، مریم اورنگزیب، مراد سعید ، پیپلزپارٹی کے چانڈیو، فیاض الحسن چوہان اور تو اور چند اینکرز جن میں ارشاد بھٹی، صابر شاکر وغیرہ نے بھی خوب نام کمایا کسی سے پیچھے نہیں رہے کہ سنیما ہال اور تھیٹر کا رش لے رہے ہیں ۔ رہی سہی کمی ٹی وی چینلز پر کامیڈی پروگرامز نے پوری کر دی مگر اُن کی پذیرائی حکومتی اور اپوزیشن فنکاروں کے سامنے آٹے میں نمک برابر نہیں ہے۔ دنیا کی پارلیمنٹس میں کرسیاں چل جاتی ہیں مکے ٹھڈے چل جاتے ہیں جو الحمد للہ یہاں بھی چلتی رہی ہیں لیکن یہ جگتیں یہ ڈرامہ یہ ڈرامائی اداکاریاں، دنیا میں کہیں نہیں دیکھیں۔ ایک کامیڈی شو کی میزبان کینئرڈ کالج سے ELT اور ماسٹر کرنے والی ایچیسن کالج کی انگلش لیکچرر کی عائشہ جہانزیب ہیں میں نے پچھلے کالم میں حقیقت پر مبنی مثبت انداز میں بات کیا کردی میڈیا کے کئی نام نہاد طرم خان ناراض ہو گئے گویا ہم رویے کے اعتبار سے ایک بخیل اور تنقیدی معاشرے کی بنیاد رکھ چکے ہیں لیکن جائز بات کو صبر سکون کے ساتھ سننا چاہیے۔ اب حالیہ فیصلہ میں حج پر سبسڈی کاٹ لی گئی کہ حکم ہے جس کو استطاعت ہے وہ حج کرے تو حضور! جن کو استطاعت ہے ان کی ہر سال استطاعت اور آئے دن عمرہ کی سعادت کی استطاعت کی ٹریل ہی چیک کر لیں یہ جو ٹیکس چور عمرہ کی کرہ اندازیاں کرتے پھرتے ہیں، ان کی لگے ہاتھ استطاعت ہی چیک کر لیں جس دن استطاعت والوں کی استطاعت چیک ہو گئی اس دن ملک میں حج کی استطاعت نہ رکھنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ یا شاید پالیسی ہے کہ امیر حج کریں اور سفید پوش یہاں مدینہ کی ریاست دیکھیں چور چور، لوٹ گئے لوٹ گئے، نااہل نا اہل کی صدائیں قوم تیار نہیں کیا کرتیں بلکہ قوموں کا شیرازہ بکھیرا کرتی ہیں ظلم کسی کے ہاتھ پاؤں توڑنا ہی نہیں ہے ظلم کے جواز کے لیے تاویلیں بنانا بھی ظلم ہے چیزوں کو بے جگہ رکھنا انسانوں کو بے جگہ تعینات کرنا بھی ظلم ہے اگال دان کی جگہ گلدان نہیں رکھا جا سکتا اور گلدان کی جگہ اگال دان نہیں ہو سکتا ڈھٹائی طلم کی بدترین صورت ہے۔ ٹو ان ون ہونے کے لیے یعنی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب یکجا ہونے کے لیے خان صاحب نے بزدار کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا رکھا ہے کم از کم جمہوریت میں ایسے اچانک زلزلے کی توقع نہیں کی جا سکتی البتہ ڈکٹیٹر شپ کی حسین ترین صورت جمہوری صورت میں دستیاب ہے۔ موجودہ حکمران تو دراصل پہلے سو دن میں ہی قدر کھو چکے تھے۔ حقیقت میں سابقہ حکمرانوں کے رویے ابھی تک ان کو برداشت کرنے پر مجبور کیے ہوئے ہیں اور ویسے بھی لوگوں میں اتنی سکت ہی نہیں رہ گئی کہ وہ اپنی رائے کا اظہا رکر سکیں موجودہ حکمرانوں سے عوام یہ تقاضا کرتے ہیں کہ پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ ہی رہنے دو تھیٹر کا نام نہ دو ۔


ای پیپر