Image Source : Naibaat MaG

آزادی کی جنگ اور کشمیریوں کا جذبہ حریت!
05 فروری 2019 (00:01) 2019-02-05

امتیاز کاظم:

1819ءمیں کشمیر کو جب رنجیت سنگھ نے اپنے زیرنگیں کیا تو جموں پر اس وقت گلاب سنگھ کا راج تھا، اس سے پہلے ”درانیوں“ کا راج تھا۔ پھر 1845-46ءکی پہلی اینگلو سکھ جنگ کے بعد معاہدہ لاہور کے تحت کشمیر کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے حوالے کر دیا گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے بعد میں کشمیر کو معاہدہ امرتسر کے تحت مہاراجہ گلاب سنگھ کو فروخت کر دیا۔ یہ 16مارچ 1846ءکا معاہدہ دراصل مسلمانوں کے لیے ”غلامی کے لائسنس“ کا معاہدہ تھا۔ کشمیر میں ہر خاص وعام اور ہر طبقہ فکر اس معاہدے کے خلاف اور پریشان تھا، جس کی رُو سے ریاستی اہلکار ناجائز ٹیکس وصول کرتے، لوٹ مار کرتے اور مسلمانوں کو زرّخیز غلام سمجھتے اور اُن سے بیگار لیتے تھے۔ اس دور میں شکایت کرنے والے کو باغی سمجھا جاتا اور اسے ریاست بدر کر دیا جاتا تھا۔ اس ریاستی ظلم وستم اور جبرو بربریت کے خلاف آخرکار 1865ءکو ریاست میں ہڑتال کر دی گئی جس کے نتیجے میں 28 مزدوروں کو پانی میں ڈبو کر شہید کر دیا گیا۔ ڈوگرہ راج میں تو اذان دینے اور کھلے عام نماز پڑھنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی بلکہ ”گﺅکشی“ (گائے کو ذبح کرنے) پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی اور خلاف ورزی پر سزائے موت کا قانون لاگو کر دیا جاتا تھا۔ 13جولائی 1931ءکا دن تو اذان اور نماز کے حوالے سے بربریت سے بھر پور دن تھا۔ اس دن عبدالقدیر کے مقدمہ کی سماعت تھی۔ عبدالقدیر پر عوام کو مہاراجہ کی حکومت کے خلاف اُکسانے کا الزام تھا اور اسے ”ہری پربت جیل سری نگر“ منتقل کیا گیا تھا اور 13جولائی کو اس مقدمے کی سماعت تھی۔ 13جولائی کو مسلمانوں نے اس پر شدید احتجاج کیا اور 13جولائی کو ہزاروں کشمیری مسلمان اس مقدمہ کی سماعت سننے کے لیے جیل کے مرکزی دروازے پر جمع ہو گئے۔ ظہر کے وقت ایک کشمیری مسلمان نے دیوار پر کھڑے ہو کر بلند آواز میں اذان کہنی شروع کی تو ڈوگرہ فوج کے سپاہی نے اس پر گولی چلا دی، چنانچہ وہ دیوار سے نیچے گرا تو دوسرے مسلمان نے وہیںسے اذان کہنا شروع کر دی جہاں سے پہلے شہید نے چھوڑی تھی، اُسے بھی گولی ماردی گئی۔ جب اذان مکمل ہوئی تو 21 مسلمان شہید ہو چکے تھے جن کی یاد میں آج تک 13جولائی کو ”یوم شہدائ“ منایا جاتا ہے۔ ان شہیدوں اور کشمیر کی جدوجہد آزادی کے لیے قربانیاں دینے والوں اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے پاکستان اور کشمیر میں ہر سال 5 فروری کو ”یوم یکجہتی کشمیر“ منایا جاتا ہے۔ 1990ءسے آج تک یہ دن ہر سال منایا جاتا ہے اور پاکستان میں اس دن عام تعطیل ہوتی ہے۔ اس کا آغاز قاضی حسین احمد (مرحوم) نے کیا تھا۔

تھوڑا سا پس منظر میں جھانکیں تو بات 1987ءسے شروع ہوتی ہے۔ 23 مارچ 1987ءکو ریاستی اسمبلی انتخابات میں ”متحدہ مسلم محاذ“ کامیاب ہوئی تو یہ کامیابی بھارت کو ہضم نہ ہو سکی۔ دراصل پُرامن کشمیریوں کے لیے آزادی کی جمہوری جدوجہد کا یہ پہلا زینہ تھا۔ بھارتی بربریت کی وجہ سے کشمیری حریت پسند کسی قدر مسلح جدوجہد کی طرف مائل ہوئے۔ 1987ءسے 89ءتک کشمیری دستیاب وسائل سے اپنی جدوجہد میں مصروف رہے۔ قاضی حسین احمد ان کا گہرا مشاہدہ رکھتے تھے چنانچہ وہ چاہتے تھے کہ حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر پر مزید کچھ کرے تاکہ عالمی سطح پر اسے اجاگر کرنے میں مدد ملے چنانچہ حکومت پاکستان کو اس کی کشمیر پر آئینی اور قانونی ذمہ داری کا مزید احساس دلانے کے لیے قاضی صاحب نے 5 جنوری 1990ءکو لاہور میں پریس کانفرنس کی اور 5 فروری کو ہڑتال کی اپیل کے ساتھ ”یوم یکجہتی کشمیر“ منانے کا اعلان کیا۔ بھارت میں اس وقت راجیو گاندھی وزیراعظم تھے۔ 1989ءمیں اسلام آباد میں منعقد ہونے و الی ”سارک کانفرنس“ میں راجیو گاندھی نے شرکت کی تھی۔ یہ محترمہ بےنظیر کا دور ِحکومت تھا چنانچہ کانفرنس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں راجیو گاندھی نے کہا تھا کہ ”مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی کوئی خواہش اور کوئی تحریک نہیں“۔ پاکستان کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہ دیئے جانے پر بھی شاید قاضی صاحب مطمئن نہ تھے چنانچہ تحریک آزاد کشمیر میں پاکستان کا حصہ ڈالنے کے لیے انہوں نے 5 فروری کو یہ دن منانے کا اعلان کیا جسے حکومت پاکستان ملکی سطح پر آج تک منا رہی ہے تاکہ کشمیری یہ جان سکیں کہ وہ جس ملک کے سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں اور اپنے شہداءکو جس پرچم میں لپیٹ کر دفن کرتے ہیں وہ ملک ہر سطح پر کشمیریوں کے دُکھ درد کا احساس رکھتا ہے اور بھارت کا قابض اور بربریت کا مکروہ چہرہ بھی ان کے سامنے ہے خصوصاً مودی دور میں جس ظلم وبربریت کا کھیل کھیلا گیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے، چنانچہ غالباً ایسے پانچ سالہ دور کا ظلم وستم اور اس کے نتائج دیکھنے کے لیے ہی شاید مودی نے 15جنوری کو کشمیر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر پوری وادی کو چھاﺅنی میں تبدیل کر دیا گیا اور احتجاج کرنے والوں کو زدوکوب کیا گیا۔

نریندر مودی کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ تشدد اور جنگ وجدل کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اب تو مودی کا دوست ٹرمپ بھی آخرکار یہ سمجھ چکا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں لہٰذا اُس نے افغانستان میں جنگ بندی اور وہاں سے نکلنے کے لیے حامی بھر لی ہے۔ کیا ظلم سے کشمیر کی جدوجہد آزادی کو روکا جا سکا؟ بھارت کے بڑے دانشور بھانو پرتاپ مہتا کہتے ہیں کہ ”وزیراعظم نریندر مودی کی نظروں کے سامنے کشمیر پستی کے غار میں ڈوبا جا رہا ہے“۔ بھاجپا کے ہی اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھاکہ ”کشمیر کے مسئلے کو انسانیت کے دائرے میں حل کیا جائے گا“۔ راہول گاندھی (کانگریس) نے واضح اور واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ ”مودی کشمیر کو غلط طریقے سے ہینڈل کر رہے ہیں اور کشمیر کو بھارت کی کمزوری بنا رہے ہیں“۔ بھارت کے سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا کشمیر کی ”مارک ورشک منڈل“ (یعنی اعلیٰ رہنمائی کونسل) کے جب رُکن تھے تو انہوں نے چند مقتدر افراد کے ساتھ کشمیر کا دورہ کیا تو جو رپورٹ اس وفد نے دی، وہ چشم کُشا ہے۔ دسمبر 17ءمیں پھر دورہ کیا اور ضلعی ہیڈکوارٹر پر عام لوگوں خصوصاً نوجوانوں سے ملاقاتیں کیں۔ سنہا کہتے ہیں کہ مجھ سے تجارت سے متعلق لوگوں نے کوئی مراعات مانگنے کی بجائے کشمیر کے سیاسی تصفیہ پر زور دیا تو میں حیرانی سے اُن کا منہ دیکھ رہا تھا۔ ہندی اخبار کے صحافی ”دوبھے“ اور سابق ممبر پارلیمنٹ سنتوش بھارتیہ کا کشمیر کے دورے کے بعد مودی جی کو لکھا گیا خط بھی آنسوﺅں سے بھرپور ہے۔ بھارت یہ سمجھ چکا ہے کہ کشمیر تقریباً ہاتھ سے نکل چکا ہے مگر وہ جاگتی آنکھوں سے اس پر یقین نہیں کرنا چاہتا۔ قومی سطح پر بھارت ”شائننگ انڈیا“، ”رائزنگ انڈیا“ اور ”مستحکم معیشت“ کے لیے سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے لیکن سات لاکھ فوج جو کشمیر میں موجود ہے، وہ بھارتی معیشت کو سر اٹھانے نہیں دے رہی جبکہ بپن راوت جیسے کردار اپنی فوج کے مورال سے بھی خوب واقف ہیں اور ”را“ جیسا خفیہ ادارہ جو بھارت کی معیشت پر بذاتِ خود ایک بہت بڑا بوجھ ہے، وہ بھارت کو کیسے ”رائز“ اور ”شائن“ ہونے دے گا۔ سات لاکھ فوج کا کھانا ضروریاتِ زندگی، اسلحہ، پٹرولنگ کے لیے تیل، یونیفارم اور ایسی بہت سی ضرورتیں مہیا کرنا یقینا معیشت پر بڑا بوجھ ہے۔ اپنی فوج کشمیر سے نکال کر بھارت اپنی معیشت مضبوط کر سکتا ہے اور موجودہ دور میں مضبوط معیشت ہی مضبوط ملک کی ضامن ہوتی ہے لیکن جس طرح اوول آفس (وائٹ ہاﺅس) اور امریکی جرنیل ٹرمپ کی نہیں چلنے دے رہے اُسی طرح ”را“ بھی مودی اور ہر وزیراعظم کو سہانے سپنے دکھانے میں مشغول رہتی ہے۔

کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ 1941ءکی مردم شماری اسے مسلمانوں کے حق میں ثابت کر رہی ہے لیکن بھارت، اسرائیل کی طرز پر یہاں ہندو ووٹروں کی تعداد بڑھا کر آبادی کا تناسب اپنے حق میں کرنے کی سرتوڑ کوششیں کر چکی ہے جس میں وہ ناکام ہے۔ ظلم وستم بھی ناکام ہے کیونکہ ہاتھوں میں پتھر اٹھائے کشمیری گولہ بارود اور پیلٹ گنوں کے آگے سینہ تانے شہادت کے منتظر ہیں۔ بھارتی فوج میں بڑھتا ہوا خودکشی کا رُجحان فوج کے گرتے ہوئے مورال کی نشاندہی کر رہا ہے۔ افغانستان جیسی پسماندہ قوم اگر امریکہ جیسے صف اوّل کے ملک کوہرا سکتی ہے تو بھارت سوچ لے کہ وہ کشمیریوں سے کیسے جیت سکتا ہے؟ اس وقت کشمیر بھارت کی لگائی ہوئی آگ میں جل رہا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ آگ برصغیر کو اپنی لپیٹ میں لے لے، اس کے لیے باوقار مذاکرات کی میز حاضر ہے۔

لاکھوں کشمیری بھارتی سفاک سپاہ کی بربریت کا نشانہ بن کے موت کی آغوش میں جاکر سو گئے، باقی کو بھی ایسے ہی جانکاہ حالات کا سامنا ہے، وہ امید بھری نظروں سے پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہ مایوس ہوئے تو ان کی الحاق پاکستان کی سوچ خود مختار کشمیر کی سوچ میں ڈھل سکتی ہے، جس سے بانی پاکستان کی روح تڑپ اٹھے گی۔ بھارت کو یہ تو باور کروانے کی کوشش کریں کہ پاکستان مسئلہ کشمیر پر کوئی سودے بازی کرنے پر تیار نہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کی بھارت کی طرف سے حقیقی کوشش تک اس کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھا جائے۔ہم کب تک تجارت و کاروبار کے چکر میں کشمیریوں پر ظلم و ستم ہونے دیں گے اور بیان بازیوں سے ہم عام عوام کو بیوقوف بناتے رہیں گے۔ اب عملی طور پر کچھ کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں ایسے اقدامات اُٹھانا ہوں گے جن سے بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات کی میز پر آنے کو تیار یوجائے۔ اُمید کا دِیا روشن ہے جو اس وقت تک آزادی کے متوالوں کو روشنی دیتا رہے گا جب تک انہیں آزادی کی نعمت مل نہیں جاتی۔


ای پیپر