PM Imran Khan Big Announcemnet
05 دسمبر 2020 (22:22) 2020-12-05

اسلام آباد :وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن سےمتعلق بڑے اعلانات کر دئیے ،وزیر اعظم کاکہنا تھا نوازشریف پر بہت سارے کیسز ہیںانہیں عدالت نے سزا دی ہے ،اپوزیشن چاہتی ہےاین آر او دے دیں ،اپوزیشن والے این آ ر او کے علاوہ اور کوئی بات نہیں کرتے،انہوں نے کہا کرسی چھوڑنا پڑی چھوڑ دونگا لیکن این آر او نہیں دونگا ،اپوزیشن ہمیں پہلے دن سے ہی بلیک میل کرنےکی کوشش کر رہی ہے ۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا اپوزیشن کو این آراو دے دیا تو ملک کیساتھ سب سے بڑی غداری ہوگی ،پرویز مشرف نے انہیں لوگوں کو این آر او صرف اپنی کرسی بچانے کیلئے دیا ہے ،اگر اپوزیشن والے سچے ہیں تو حساب دیں اتنا پیسہ کہاں سے بنایا ہے،کرپٹ لیڈر منی ٹریک کا ایک بھی ثبوت دینے میں ناکام رہےہیں،  وزیر اعظم کا کہنا تھا بیماری کا بہانہ بنا کر آج لندن میں گھومتے پھر رہے ہیں ، لندن فرار ہونے والا اسحاق ڈار 3 سال سے دندناتا پھر رہا ہے،اپوزیشن والوں کو سوالوں کے جواب دینے کیلئے پارلیمنٹ میں تیار ہوں ،ماضی میں لیے گئے قرضوں کی قسطوں  کی ادائیگی بڑا بوجھ ہے۔

عالمی وبا سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا لاہورمیں کوروناتیزی سےپھیل رہاہے،،کورونا کے باعث اپوزیشن کو جلسے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے،انہوں نے کہا لاہورجلسے میں کوئی رکاوٹیں نہیں ڈالیں گے،قانون ٹوٹےگاتوایف آئی آرکاٹیں گے،ان کولگتاہے کہ ان کےجلسوں سےمجھے فرق پڑجائےگاتویہ ان کی غلط فہمی ہے،کرسیاں ، ساؤنڈ سسٹم لگانے والوں کے خلاف مقدمات درج ہوں گے،اس وقت حکومت کرونا ایس او پیز پر علمدر آمد کروانے کی کوشش کر رہی ہے ،دو سے ڈھائی ہفتے پہلے حکومت نے تمام جلسے منسوخ کیے ،عالمی وبا کی وجہ سے سکولوں کو بھی بند کیا ،وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کراچی پیکج پرصوبائی حکومت کےساتھ مل کرکام کررہےہیں،صوبائی حکومت کےساتھ بیٹھ کرکراچی پیکج لائیں گے،ماضی میں کراچی کو نظر انداز کیا گیا ،پیسہ وفاق سےصوبوں کےپاس جاتاہے،اورآگےذمےداری صوبوں کی ہوتی ہے،سندھ کی طرح بلوچستان،فاٹا، گلگت بلتستان پیچھے رہ گئےہیں،ہماری حکومت نے گلگت بلتستان کوصوبےکا درجہ دےدیاہے، بلوچستان کوبڑا پیکج دیاہے،اتنا تاریخ میں  پہلے نہیں دیاگیا،ہر شہری کی اپنی لوکل گورنمنٹ ہونی چاہیے ،کراچی میں مقامی حکومت کانظام انتہائی اہم ہے، قبائلی اضلاع بھی مین اسٹریم پرآرہےہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا ہماری آمدنی اور خرچے میں فرق رہتا ہے ،ڈھائی کروڑلوگ ٹیکس نہیں دیتے،اگر یہ ڈھائی کروڑلوگ ٹیکس دیناشروع کردیں تومسائل حل ہوجائیں گے،صرف 15لاکھ افرادٹیکس دیتےہیں،انہوں نے کہا قوم ملک کواٹھاتی ہے،اگرلوگ ٹیکس نہیں دیں گےتوکیسےان کواوپرلاؤں گا،ہم کبھی اتنا پیسہ اکٹھا نہیں کرپائے،جب تک ٹیکس اکٹھانہیں کریں گےماڈل ملک نہیں بن سکتے،،پہلی دفعہ ملک میں صنعتوں کیلئےکام کیاجارہاہے،مشکل وقت وہ تھاجب بیرون ملک جاکرقرض مانگا،بیرون ملک جاکرپیسےمانگنے سے  ملک کی توہین ہوتی ہے،ملک کاوقارکم ہوتاہے۔

عمران خان نے کہا صرف سیاحت کوٹھیک کرلیں توملک میں بہتری آجائےگی،برآمدات کم ہوں گی توڈالرکم ہوگااور پھر قرض لیناپڑتاہے،ملک میں اب برآمدات بڑھ رہی  ہیں ،17سال بعدہماراکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے،سیاست میں آیاتوکہاگیاکہ کامیاب نہیں ہوں گا،پاکستان کوایک عظیم قوم بناناہے،ایشین ٹائیگرنہیں،ریاست مدینہ کےاصولوں پربناناہے، آئی ٹی کےشعبوں کوسہولت فراہم کررہےہیں،میری آخری کوشش ہےکہ طاقتوراورکمزورایک برابرہوں،مجھےیقین ہے میں اپنی آخری کوشش میں کامیاب ہوں گا۔


ای پیپر