Ruling class, Pakistan, blood, poor people
05 دسمبر 2020 (12:44) 2020-12-05

 ایک خاص موضوع پر حکومتی ہدایات دیکھنے کی خاطر میں ایک فائل میں لگے کچھ کا غذات کھنگال رہا تھاکہ میری نظر حکومت سندھ کے محکمہ خزانہ سے مورخہ 28مارچ 2017 ء کو جاری احکامات پر رُک گئی۔ ان احکامات کے مطابق صوبہ سندھ کی مجاز اتھارٹی یعنی وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری سندھ اور آئی جی سندھ کے لیے مورخہ یکم مارچ 2017 ء سے سپیرئیر سپیشل الاوئنس ماہانہ کی منظوری دی تھی۔ یہ الاونسز کچھ یوں تھے ۔ چیف سیکرٹری : چار لاکھ روپے ماہانہ اور آئی جی :تین لاکھ پچھترہزار روپے ماہانہ۔ یہ لاکھوں روپے ماہانہ اُن کی ماہانہ تنخواہوں اور الاوئنسز کے علاوہ تھے۔ ان احکامات میں یہ بھی درج کیا گیا تھا کہ یہ سپیرئیر سپیشل الاونسز ،حکومت پنجاب کی طرف سے اس سلسلہ میں پہلے سے جاری شدہ احکامات کی Analogyمیں جاری کیے جا رہے ہیں۔دراصل یہ الاونسز اُس وقت کے صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اپنی حکومت کے آخری سال میں بیوروکریسی اور پولیس کے سینئر افسران کو خوش کرنے کے لیے دان کئے تھے۔اُس کے بعد تمام صوبوں کی حکومتوں نے یہ الاونسز اپنے اپنے صوبے کے چیف سیکریٹریز اور آئی جیزپولیس کے لیے جاری کر دئیے۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا میاں شہباز شریف اپنے ذاتی کاروبار کے ملازمین کو اپنی دولت سے یوں دریا دلی سے موج میلے کراتے۔ جواب آپ سب کو معلوم ہے۔ یہ تو اس قوم کے پیسے تھے جس قوم کے ہر فرد کے چہرے پر غربت کی چھاپ نمایاں نظر آتی ہے۔ انہی کاغذات میںصوبہ خیبرپختونخواہ کی حکومت جو اُس وقت صوبہ این ڈبلیو ایف پی (NWFP ) کی حکومت کہلاتی تھی کی طرف سے مورخہ 2 اکتوبر 2007 ء کو جاری شدہ ایک نوٹیفیکیشن نظر آگئی جس کے مطابق وہاں کی مجاز اتھارٹی نے اُس صوبہ سے ریٹائرڈ ہونے والے اور اُسی صوبہ میں مستقلاً ً رہائش پذیر چیف سیکریٹریز کے لیے کچھ سپیشل سہولیات کا اجراء کیا تھا۔اُن میں سے دو ایک یہ ہیں ۔جب تک یہ چیف سیکریٹری صاحبان زندہ رہیں گے ایک ڈرائیور سرکاری یعنی عوام کے پیسوں سے اُن کی ڈیوٹی سرانجام دے گا۔ اور یہ ڈرائیور بھی وہ خود اپنی پسند کا متعین کریں گے۔ دوسرااُن کی سیکورٹی کے لیے صوبائی محکمہ پولیس انہیں ایک گارڈ مہیا کریگی اور وہ بھی تا حیات ہو گا۔ انہیں پک اینڈ ڈراپ کی سہولت پشاور اور اسلام آباد ائیرپورٹ پر بمع فل سرکاری پروٹو کو ل تا حیات مہیا ہو گی۔ہائے پروٹو کول کا مارا با اختیار طبقہ ،ہر موقعہ اور ہر جگہ پر عوام کو مرعوب کرکے تسکین پاتا ہے ۔ مجھے ایک اور حکومتی نوٹیفیکیشن (Notification ) جو بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں1993 ء میں جاری ہوئی تھی یاد آرہی ہے۔اس میں وزارت عظمیٰ سے فارغ ہونے کے بعد سابق وز یر ا عظم کو مہیا کی گئی سہولیات کا اندراج تھا۔جس کے مطابق سابق وزیراعظم کو ذاتی استعمال کے لیے ایک اعلیٰ برینڈ کی سرکاری گاڑی بمع ڈرائیور ، پٹرول اور maintenace چارجز تا دم مرگ مہیا ہو گی۔اس کے علاوہ ان کی سیکورٹی کے لیے چوبیس گھنٹے ایک معقول تعداد سیکورٹی سٹاف کی بمع سرکاری گاڑیوں اور ڈرائیوروں کے اُن کے گھر پر موجود رہے گی۔ ایک گزیٹڈ گریڈ کا پرسنل سٹاف آفیسر بمع سٹاف اُن کی رہائش گا ہ پر ڈیوٹی دے گا ۔ یہ سب سہولتیں اُنہیں پوری زندگی مہیا رہیں گی۔ علاوہ ازیں سوئی گیس ، بجلی کے اخراجات بھی حکومت کے ذمہ ہو نگے۔آپ کے ذہنوں میں تمام سابق وزرائے اعظم اور صدور آ رہے ہونگے جن میں سے زیادہ تر ارب پتی ہیں لیکن وہ اور اُن کے خاندان اس غریب قوم کے پیسوں سے موج میلے کی 

زندگیاں گزار رہے ہیں۔چوہدری شجاعت صرف چالیس روز کے لیے وزیراعظم رہے لیکن آپ آج بھی انہیں اور اُن کے خاندان کو ان سرکاری سہولیات سے فیض یاب ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔بلاول بھٹو کی والدہ اس ملک کی وزیراعظم رہیں اور والد صدر۔ ظاہر ہے یہ ارب پتی خاندان دہائیوں سے اس غریب قوم کے پیسوں سے بھرپور سہولیات والی زندگی انجوائے کر رہے ہیں ۔چلو میں ایک تجویز پیش کرتا ہوں۔ آپ اس ملک کے سابق وزارائے اعظم اور صدور کی ایک فہرست بنائیں۔فہرست میں اُن کے ناموں کے سامنے اُن کی ڈیکلیریڈ دولت کا اندراج کریں۔پھر تیسرے کالم میں انہیں اس غریب قوم کی طرف سے مہیا سہولیات درج کریں۔ اُمید ہے آپ اپنی تیار کردہ ٹیبل (table) کو انجوائے کریں گے۔ ہو سکے تو اسے اپنے دوست احباب کے ساتھ شئیرshareبھی کریں۔کاش کوئی دل والا دولتمند اس فہرست کے بینرز بنوائے اور پھر یہ بینرز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور تمام صوبائی دارالحکومتوں کی عوامی جگہوں پر موجود بلڈنگز پر آویزاں کرا دے ۔ویسے اگر اس کام کے لیے سابق بیوروکریٹ کامران لاشاری کی خدمات حاصل کرلیجائیں تووہ اس ٹاسک کو بخوبی سرانجام دے سکتے ہیں۔یقینا غریب عوام ان بینرز سے خوب محظوظ ہو گی۔دوسری طرف اس با اختیار طبقہ کا اس ملک کی عوام کے ساتھ روا سلوک پر نظر ڈال لیں تو آپ پر ان کی بے حسی عیاں ہو جائیگی۔ میں چونکہ ڈائریکٹر جنرل وائلڈ 

لائف اینڈ پارکس پنجاب رہا ہوں تو مجھے معلوم ہے کہ اس محکمہ کے چڑیا گھروں میں ایک خاصی تعداد ڈیلی ویجز والوں کی کام کرتی ہے ،جن کی ڈیلی تنخواہ حکومت کی مقرر شدہ ہوتی ہے ۔ میں نے چاہا کہ دیکھوں آجکل ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے ایک مہینہ میں کتنا کما لیتے ہیں۔ اس کے لیے میں نے شفقت ڈائیریکٹر چڑیا گھر لاہور کو فون کیا ۔ اس نے بتایا کہ اگر ایک ورکر پورے تیس دن کام کرے اور ایک بھی چھٹی نہ کرے تو وہ مہینہ کے بیس اکیس ہزار روپے کما لیتا ہے۔یہ ہے ایک غریب تیس دن مزدوری کرنے والے کی ماہانہ آمدن ۔ذہن میں یہ بھی رہے کہ یہ ڈیلی معاوضہ لاہور جیسے بڑے شہر کے لیے حکومت نے مقرر کر رکھی ہے ۔ اب آپ خود بتائیں اس تنخواہ میں ایک غریب کیسے زندگی گزارے گا۔ کہاں سے مکان کا کرایہ دیگا کیونکہ غریبوں کے پاس اپنے مکان تھوڑی ہوتے ہیں۔ کہاں سے اپنے بچوںکو تعلیم دلائے گا ، اور کہاں سے اگر کوئی بیمار ہو تو اُس کا علاج کرائے گا ۔ یہ ہیں اس ملک کے با اختیار طبقہ کے اصلی چہرے۔عمران خان صاحب غریبوں کا ذکر کرتے تھکتے نہیں ۔ اُن کا اپنا شمار بھی اس ملک کے امُراء میں ہوتا ہے اور ان کے وزراء، وزرائے مملکت اور مشیروں کی دولت کے چرچے کسے معلوم نہیں ۔ یہ سب لوگ بمع اُن کے اگر اس غریب ملک کے عوام سے تنخواہیں اور دوسری مراعات نہ لیں تو بھی اُن کی امارت یوں ہی قائم رہے گی ۔ اُمید ہے غریبوں سے پیار کرنے 


ای پیپر