Responsible, mass killings, Syrians, reality, Bashar al-Assad
05 دسمبر 2020 (12:29) 2020-12-05

شامیوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے ذمہ دار صرف اسد حکومت کی فوج، ایران، روس، داعش اور النصرۃ فرنٹ نہیں، بلکہ موسم، بھوک، بے سر و سامانی اور لوٹ مار کی وجہ سے بھی وہ مسلسل موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ وہ شامی جن کے گھر کھنڈر میں تبدیل نہیں ہوئے، بمباری کا نشانہ نہیں بنے، شدید دھویں کے باعث دم گھٹنے سے ہلاک ہونے سے بچ گئے، کیمپوں میں موت ان کا مقدر بن گئی، بعض پناہ کیلئے دوسرے ملک پہنچنے کی کوشش کے دوران موت کے منہ میں چلے گئے۔

روزانہ شامیوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے والی قوتوں کے ہاتھ روکنے میں اگر ہم ناکام ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں بچانے کی کوشش بھی ہمیں نہیں کرنی چاہیے؛ بلکہ ہماری اولین ذمہ داری ہے کہ ان لاکھوں شامیوں تک پہنچیں جو کہ کیمپوں اور عارضی پناہ گاہوں میں بدترین بے سروسامانی کا شکار ہیں۔ لاکھوں پناہ گزین سخت موسموں کو جھیل رہے ہیں، اُردن، لبنان اور ترکی کے علاوہ شام کے اندر قائم کیمپوںمیں رہنے والے لاکھوں شامیوں کو ان دنوں بارشوں، کیچڑ اور برفباری کا سامنا ہے۔

دہشت گرد گروپوں نے صرف شام کے انقلاب کو ہائی جیک نہیں کیا تھا، امدادی تنظیموں اور ان کی سرگرمیوں میں بھی رکاوٹیں کھڑی کیں جن کا نتیجہ یہ نکلا کہ کئی تنظیموں نے شام میں کام بند کر دیا جس سے پناہ گزینوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔ ہمارے معاشروں میں امدادی کاموں میں دلچسپی لینے اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے، مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ رضاکارانہ جذبے کے تحت کام کرنے والوں کی ایسی تنظیموں کے ذریعے سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے جو کہ اپنے کام میں شفافیت پر یقین رکھتی ہوں تا کہ ہر مدد کرنے والے کو یقین ہو کہ اس کی امداد حق داروں تک پہنچ رہی ہے۔

شام کی خانہ جنگی سے قبل جب افغانستان، صومالیہ، بوسنیا ہر زیگونیا اور دیگر علاقوں میں شورش برپا تھی، تب کئی امدادی تنظیموں کی سرگرمیوں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا گیا، کئی مشکوک تنظیمیں دہشت گردوں کی دراندازی میں ملوث پائی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کئی تنظیموں کو کام سے روک دیا گیا اور حکومتوں نے مشکوک تنظیموں کے فنڈز جمع کرنے پر پابندیاں لگا دیں تاکہ رقوم کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔ بدقسمتی سے ایسی تنظیموں نے سب سے زیادہ نقصان بے بس پناہ گزینوں کا پہنچایا، وہ عالمی امدادی تنظیموں کے سہار ے پر رہ گئے، جو کہ دنیا بھر میں شورش زدہ علاقوں کے پناہ گزینوں کی کثیر تعداد کی دیکھ بھال میں مصروف اور پہلے سے بہت دباؤ میں ہیں۔ پناہ گزین کیمپوں تک خوراک، کپڑے، خیموں اور طبی امداد کی فراہمی ایک مشکل کام ہے۔ اس کام میں حکومتوں کی مرضی بھی شامل ہوتی ہیں، بعض علاقائی حکومتیں یا حکومتوں میں شامل بعض عناصر پناہ گزینوں کی ضروریات اور امداد کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔عالمی تنظیموں کو بھی اکثر میزبان ملکوں کی حکومت میں شامل طاقت ور عناصر یا ٹرانزٹ روٹ والے ملکوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ امر افسوسناک ہے کہ خطے کی کئی ریاستیں مصائب زدہ افراد کی مدد کی ذمہ داری سے بچنے کیلئے دوسروں پر مختلف قسم کے الزامات لگاتی ہیں تاکہ اپنی تساہل پسندی کا جواز پیش کر سکیں۔ رضاکارانہ خدمات پیش کرنا اور عطیات دینا ہماری اخلاقی اقدار کا ہی نہیں سماجی اور انسانی یکجہتی کے نیٹ ورک کا بھی حصہ ہیں جن سے صرف حال نہیںبلکہ مستقبل میں بھی سنگین حالات سے بچا جا سکتا ہے۔ جنگیں یا المناک حالات ایک مستقل خطرہ ہیں، فلاحی و امدادی تنظیموں کی بحالی ہر کسی کو بدترین حالات سے محفوظ رکھنے کی ضامن ہیں، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کہ اس وقت خوشحالی کے دن دیکھ رہے ہیں۔

شام، یمن اور دیگر شورش زدہ ملکوں کے لوگوں کو ہر روز سنگین حالات سے گزرنا پڑتا ہے، زبوں حالی میں وہ عالمی اور علاقائی تنظیموں اور انسان دوست تنظیموں کی دست نگر ہیں، جو کہ ان کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔ تمام رضا کار جو کہ مشکل حالات کے باوجود اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، ہمیں انہیں سلام پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہیے۔ ان میں بیشتر دنیا کے مختلف علاقوں سے آنے والے رضا کار ہیں، جس کا پناہ گزینوں کے ساتھ انسانیت کے علاوہ کوئی رشتہ نہیں ۔ پناہ گزینوں کا فاقے یا سخت سردی سے مر جانا ہمارے لئے تکلیف دہ امر ہے، کیونکہ ان کی مشکلات کم کرنے کیلئے ہم کچھ نہ کر سکے۔ وہ بے بس ہیں، مگر ہم تو نہیں ہیں، ہمارا ایک ڈالر کسی پناہ گزین کی ایک دن کی مشکلات کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ اجتماعی ایکشن، رضاکارانہ اور امدادی سرگرمیاں انسانی تہذیب کی ترقی کی علامت ہیں۔ ریلیف اور امداد کے کام کامیابی سے کرنے کا مطلب ہے 


ای پیپر