Youth, Pakistan, ban, Tiktok, educational institutions, shut down
05 دسمبر 2020 (12:21) 2020-12-05

کرونا کی دوسری لہر کے پیش نظر سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں چھٹیاں کیا ہوئیں گویا طلبا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ فیس بک ٹویٹر سمیت تمام میڈیا شفقت محمود کی تعریفی میمز سے بھر گیا جس میں طلبا انہیں مختلف انداز میں خراج تحسین پیش کرتے رہے۔ کہیں انہیں بچوں کا وزیر اعظم کیا گیا کہیں کنفرم جنتی کا لقب دے کر پکارا گیا۔کہیں ٹک ٹاک پر خراج عقیدت کے پھول نچھاور کیے گئے۔ وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود کی مقبولیت میں بے تحاشہ اضافہ دیکھتے ہوئے صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی انہیں داد دیتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا کہ شفقت محمود کے اعلان پر زبردست ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ نوجوان اسکول و کالجز کی بندش کے فیصلے پر بہت خوش ہیں اور انہوں نے اپنی خوشی کا اظہار بہت خوبصورت طریقے سے کیا ہے۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان خوش رہنے والے لوگوں کا ملک ہے، اللہ نظرِ بد سے ہمیں دور رکھے۔ تاہم شفقت محمود نے ایک تقریب میں اس شہرت کے حوالے سے کہا کہ مقبولیت ہر کسی کی خواہش ہے، لیکن جس بنیاد پر مجھے شہرت مل رہی ہے وہ کوئی بہت پسندیدہ چیز نہیں۔ 

ابھی تک تو بات مذاق کی ہورہی ہے لیکن جب میں نے اس کے سنجیدہ پہلووں پر غور کیا تو اندازہ ہوا کہ واقعی ہم ایک مذاق ہی تو بن کر رہ گئے ہیں دنیا میں، مجھے دور تک اندھیرا نظر آنے لگا۔ کہ یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ایک طرف تو چند پڑھائی سے بیزار پب جی کا شکار اور ٹک ٹاک کے ہتھیار نوجوانوں نے سنجیدہ صورتحال پر ایسے خوشیاں منائیں  گویا کشمیر اور فلسطین پر آزادی کے جھنڈے گاڑ آئے ہوں! اس پر صدر صاحب نے سونے پر سہاگہ کا کام کردیا ! کیا اتنے فارغ ہوتے ہیں ہمارے صدر جو ان فضول قسم کے سوشل میڈیا ٹرینڈ کی حوصلہ افزائی کریں۔ انہیں تو ٹویٹ کرنا چاہیے تھا کہ اس مشکل وقت میں اساتذہ 

والدین اور طلبہ مل کر حالات کا مقابلہ کریں وہ ٹھیک کہہ رہے تھے پاکستان خوش رہنے والوں کا ملک ہے۔ کیونکہ انہیں کرونا اور مہنگائی کے باعث عوام کے بجھتے چولہے دکھائی نہیں دیتے ورنہ وہ ایک ٹویٹ اس پر بھی کر دیتے !

واقعی جیسی قوم ویسے حکمران! وہ قوم جو ٹک ٹاک بند ہونے پر چیخ و پکار کر رہی تھی، تعلیمی ادارے بند ہونے پر ان کے لیے عید کا سماں تھا۔ کیا یہ نسل ہے جو ہم نے تیار کی ہے؟ ہروہ چیز ان کا آئیڈیل بنے گی جو ان کے نفس کو آسودگی پر مائل کرے۔ انہیں پڑھائی سے روکے۔ کیا ہمارامستقبل ان بچوں سے وابستہ ہے؟ 

جس طرح میراجسم میری مرضی والی چند آنٹیوں کے سلوگن کو دکھا کر پورے پاکستان کی خواتین پر لاگو کیا جا رہا تھا اسی طرح ہمارے طلبا کے حوالے سے ایک منفی امیج دیا جا رہا ہے ورنہ میری مختلف طلبا،اساتذہ، والدین سے بات چیت ہوئی جس میں انہوں نے اس سلسلے میں بہت تشویش کا اظہار کیا کہ بچوں کی تعلیم کابہت حرج ہورہا ہے۔ دنیا نے کرونا سے سبق لیا ڈیجیٹل انقلاب آگیا۔ ورک فرام ہوم کے ذریعے طلبا نے نئی مہارتیں بھی سیکھیں۔ کمانے کے نئے طریقے اپنا لیے لیکن ہماری نسل نو نے مفت کی روٹیاں توڑیں، پب جی پر ریکارڈ بنائے یا پھر ٹک ٹاک بنانے میں وقت گزارا۔ انہیں کیا پتہ کہ آگے وقت کس طرف جا رہا ہے؟ اعلیٰ تعلیم ہونے کے باوجود لوگ اوبر کریم چلاتے اور فوڈ پانڈا پر ڈیلیوری کرتے نظر آتے ہیں تو یہ بغیر پڑھے کون سا تیر مار لیں گے؟ دیکھتے ہی دیکھتے ہماری گلیوں چوراہوں پر بھیک مانگنے والوں کی تعداد لاکھوں تک جا پہنچی ہے۔ تعلیم اور صحت کی طرح یہ بھی حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں کیونکہ ایوان سے لے کر سڑک تک کے ہر بھکاری کو ٹیکس دینا پاکستانی عوام کی سزا ہے۔ یہ کرونا نہیں بلکہ ہماری بقا کی جنگ ہے جس میں صرف امیونٹی اور ایمان والے ہی بچ سکتے ہیں، جن میں نئے حالات سے مطابقت کی صلاحیت ہی نہ ہو وہ نئے دور میں پنپنے کے قابل نہیں بقول علامہ اقبال 

کبھی اے نوجواں مسلم! تدبّر بھی کِیا تُو نے

وہ کیا گردُوں تھا تُو جس کا ہے اک ٹُوٹا ہوا تارا

تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی

کہ تُو گُفتار وہ کردار، تُو ثابت وہ سیّارا

کیا ہماری قوم واقعی تعلیم کو زحمت سمجھتی ہے؟ تعلیمی اداروں کی بندش،وہ بھی وبا کے باعث اور اس پر بچوں کی آڑ میں بڑوں کا خوش ہونا باشعور اور حساس لوگوں کے لیے افسوس کا باعث ہے۔ اس پر ہم نے اسسٹنٹ پروفیسر اردو، نامور شاعرہ ادیبہ تابندہ سراج سے ان کی رائے معلوم کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرونا جیسی جان لیوا وبا کے باعث، احتیاطی تدابیر بروئے کار لاتے ہوئے حکومت نے تعلیمی ادارے بند کرنے کے احکامات جاری کیے۔ دونوں ہی باتیں تکلیف دہ اور مایوس کن ہیں۔ ایک تو بیماری اور دوسرا تعلیم سے دوری۔ ایک جیتے جاگتے معاشرے کے لیے تعلیم اسی حد تک اہم و ضروری ہے کہ جتنی صحت ۔

جسمانی اور ذہنی لحاظ سے قابل افراد ہی ایک صحت مند معاشرہ تشکیل کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ افسوس ناک صورت حال دیکھنے میں آئی کہ نسل نو تو ایک طرف، باشعور اور پڑھے لکھے افراد بھی،تعلیمی اداروں کی بندش پر سجدہ شکر ادا کرتے دکھائی دیے۔۔۔۔ تعلیمی اداروں سے دوری تو ایسی ہی بات ہے کہ کسی قوم کو زوال کی گہری کھائی کی جانب دھکیل دیا جائے اور پھر ایک موذی وبا کی وجہ سے جہاں ہر فرد پریشان ہو۔ایسے میں نظام تعلیم اور حصولِ تعلیم کا مذاق اڑانا، ٹھٹھہ کرنا کم از کم کسی بھی زندہ قوم کو زیب نہیں دے سکتا۔ 


ای پیپر