Allah, save, Pakistanis, second wave, pandemic
05 دسمبر 2020 (11:54) 2020-12-05

کہتے ہیں حکومتی انوارات۔۔برکات اورکرامات کی وجہ سے کروناکی پہلی لہرکے دوران ملک کے اندرکچھ زیادہ نقصان نہیں ہواجبکہ حقائق اس سے مختلف بلکہ حدسے بھی زیادہ مختلف ہیں۔۔محض اللہ کافضل اورکرم اگرنہ ہوتاتوآپ یقین کریں۔۔اب کی بارکروناسے جونقصان ہورہاہے کروناکی پہلی لہرکے دوران اس سے بھی کہیں زیادہ ڈبل اورٹرپل ہوتا۔وہ تورحیم وکریم رب کاکوئی خاص فضل وکرم تھاکہ اس عظیم رب نے ہماری غلطیوں۔۔کوتاہیوں۔۔نافرمانیوں اور ہٹ دھرمیوں کے باوجودہمیں بڑی تباہی ۔۔آزمائش اورامتحان سے بچایا۔۔ورنہ اپنی تباہی کے لئے سامان تیارکرنے میں توہم نے کوئی کسرباقی نہیں چھوڑی تھی۔۔کروناکی پہلی لہرکے دوران جب دنیانے اپنے گھر اور در کرونا پر بند کر دیئے تھے۔۔ ریکارڈ اٹھاکردیکھیں ۔۔حکومتی کرامات۔۔برکات اورانوارات کی وجہ سے ہم پاک ایران وافغان بارڈرزسمیت شہر شہر۔۔گلی اورمحلوں تک ہرجگہ ہاتھ ودامن پھیلائے کروناکوویلکم کرتے رہے۔۔  کیاکروناکی پہلی لہرکے دوران حکومتی سرپرستی میں سرحدپارسے کرونازدہ لوگوں کو قافلوں اورٹولیوں کی صورت میں ملک کے اندرنہیں پھیلایاگیا۔۔؟تعلیمی اداروں اورمساجدومدارس کوبندکرنے کے علاوہ حکمرانوں کاکوئی ایساکام اوراقدام بتائیں جوانہوں نے کروناکی روک تھام کے لئے اٹھایاہو۔۔ماناکہ کروناکی پہلی لہرکے دوران تعلیمی ادارے۔۔ مساجدومدارس حکمرانوں کے احکامات پربندہوئے لیکن کیاتعلیمی اداروں۔۔ مساجدومدارس کے علاوہ کرونا ایس او پیز پر کہیں کوئی عمل ہوا۔۔؟ مساجد میں تو نمازیوں کے درمیان فاصلے ناپے گئے لیکن کیاکسی حکومتی وزیراورمشیرنے اس وقت کبھی بازاروں اورمارکیٹوں میں ’’انسانوں کے جم غفیر‘‘ کا کوئی نوٹس لیا۔۔؟نمازیوں کو تین اور چھ فٹ فاصلہ اختیار کرنے کا درس دینے والے وزیر اور مشیربازاروں اورمارکیٹوں میں کرونا ایس اوپیزکی خلاف ورزیوں اوررش پراس طرح خاموش رہے کہ جیسے یہ نہ کچھ سنتے ہوں۔۔ نہ دیکھتے ہوں اورنہ ہی ان کوکچھ نظرآتاہو۔۔ہم نے تولاک ڈائون کے دوران بھی حکومتی کرامات۔۔ برکات اورانوارات کی وجہ سے جگہ جگہ کروناایس اوپیزکے پرخچوں کوہوامیں اڑاتے دیکھا۔۔ہم پہلے بھی کہتے رہے ہیں اوراب بھی کہتے ہیں کہ کروناکی پہلی لہرکے 

دوران ہم محض اللہ کے فضل و کرم۔۔ بزرگوں کی دعائوں اوردین کی برکت سے محفوظ رہے اور اب بھی کہتے ہیں کہ اگر اللہ کا کرم نہ ہوتا تو ہم بھی اوروں کی طرح آج اپنی تباہی اور بربادی پر آنسو بہاتے۔۔ حکومت اور ہماری اپنی نااہلی۔۔ بے حسی اور ہٹ دھرمی کے باوجود کرونا کی پہلی لہر کے دوران اس خطہ ارض کو پروردگار عالم نے جس طرح بڑی تباہی سے بچایا وہ بلاکسی شک و شبہ کے قدرت کا کوئی بہت ہی بڑا کوئی فضل اور کرم تھا ورنہ کرونا کو پکڑ پکڑ کر گلے سے لگانے والے ہمارے جیسے سرکش واقعی کبھی اس قابل نہ تھے۔۔ کرونا کی پہلی لہر کے دوران حکومت نے جتنی بے حسی اورلاپروائی کا مظاہرہ کیا اس سے زیادہ بے حسی اور لاپروائی ہم نے بھی برتی۔۔ اور وہی سلسلہ کرونا کی دوسری تیز لہر کے دوران آج بھی جاری وساری ہے۔۔ کرونا وائرس اٹلی، امریکہ، ایران، بھارت اور دیگر ممالک میں تباہی پھیلانے کے بعد اب ہمارے لئے بھی ایک ڈراؤنا خواب بنتا جا رہا ہے۔۔ اس موذی اور خطرناک وائرس سے اب تک اس ملک کے اندر درجنوں اور سیکڑوں نہیں ہزاروں افراداپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور لاکھوں اس کے نشانے پر ہیں۔۔ کرونا کے ہاتھوں روز پچاس سے ستر اور اسی تک جنازے نکلنے کے باوجود ان پڑھ۔۔ جاہل اور پیدائشی سرکش کیا۔۔؟ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خود کو باشعور سمجھنے والے ماڈرن ذات بھی اس موذی مرض اور وائرس کو سیریس اور سنجیدہ نہیں لے رہے۔۔ کرونا جس طرح اس ملک کے اندر پنجے گاڑھ رہا ہے اور قیمتی انسانی جانوں کو بھوکے شیر کی طرح نگل رہا ہے۔۔ حالات کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہر کوئی اس عذاب سے خوف کھا کر لرزتے جسم اور کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اپنے رحیم و کریم رب سے رجوع کرتا۔۔ مگر یہاں تومعاملہ ہی الٹ ہے۔۔ 2005 کے قیامت خیز زلزلے کے بعد جس طرح اکثر زلزلہ متاثرین دنیا کی محبت میں پاگل ہو گئے تھے اسی طرح آج ہماری اکثریت بھی دنیاکی محبت میں کہیں گم ہو گئی ہیں۔۔ سروں پرکرونا اور موت کے منڈلاتے بادلوں کے باوجود کسی کو رب کا کوئی خوف ہے اور نہ ہی آخرت کی کوئی فکر۔۔ حکمرانوں سے لیکر ریڑھی بانوں اور چھابڑی فروشوں تک ہر شخص دنیا کی مستی اور اپنی ہستی میں اس طرح گم ہے کہ اسے اپنے اور اپنے مفاد کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔۔ حکمرانوں کو اپنی کرسی اور سیاستدانوں کو اپنی سیاست کی پڑی ہوئی ہے۔۔ ڈاکٹرز۔۔ انجینئرز ۔۔ ٹیچرز۔۔ صنعتکار۔۔ سرمایہ دار اور تاجر دوسروں کو لوٹنے کی تدبیریں اور ترکیبیں سوچ رہے ہیں۔۔ کرونا سے کوئی مرتا ہے تو مرے پر ہمیں کوئی نقصان نہ ہو یہی سوچ اور فکر لئے ہر شخص بلا کسی خوف و خطر دوڑتا اور ملک و قوم پر چڑھتا جا رہا ہے۔۔ کرونا کی خطرناک لہر کے باوجود ملک میں کہیں جلسے ہیں۔۔ کہیں جلوس ہیں ۔۔ کہیں احتجاج ہے۔۔ کہیں مظاہرے ہیں۔۔ کہیں دھرنے ہیں اور کہیں بھرنے۔۔ لیکن کرونا وبا میں انسان اور انسانیت بچانے کی فکر کسی کو نہیں۔۔ اس مشکل اور نازک حالات میں بھی کیا حکمران۔۔؟ کیا سیاستدان۔۔؟ کیا حکومت۔۔؟ کیا اپوزیشن۔۔؟ کیا ڈاکٹرز۔۔؟ کیا ٹیچرز۔۔؟ کیا سرمایہ دار۔۔؟ کیا صنعتکار۔۔؟ اور کیا تاجر۔۔؟ سب ڈبل ڈبل گیم کھیل رہے ہیں۔۔ کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد اور ہماری احتیاط کا تو یہ عالم ہے کہ بازاروں اور مارکیٹوں میں رش دیکھ کر انسانوں اور حیوانوں میں تمیز کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔۔ وہ تو ہمیں پتہ ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے مگر افسوس اور پریشانی کی بات یہ ہے کہ یہ بھوت اب صرف نیچے نہیں بلکہ ہائی لیول پر بھی ہیں۔۔ یہ نیچے والے تو لاتوں سے مان جائیں گے یا ڈنڈے کو دیکھنے پر ٹھیک ہو جائیں گے لیکن ان اوپر والوں کا کیا ہو گا۔۔؟ انہیں لات کون مارے گا۔۔؟ یہاں تو ہر شاخ پر بھوت بیٹھا ہے۔۔ ملک میں کرونا کی تباہ کاریاں دیکھیں اور ادھر حکومت و اپوزیشن والوں کے کارنامے۔۔ ہمارے یہ عوام یا تو حد سے کچھ زیادہ ہی سادہ ہیں یا پھر کمال درجے کے بیوقوف۔۔ کہ دیکھنے۔۔ سننے اور بولنے کی صلاحیت اور طاقت رکھنے کے باوجود ان بھوتوں کے ہرآواز پر آمین کہتے جا رہے ہیں۔۔ یہ حکومت اور اپوزیشن والے دونوں اس وقت اپنی سیاست کے لئے عوام کو دلیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔ حق اور سچ یہ ہے کہ نہ حکومت کو عوام کی کوئی فکر ہے اور نہ ہی اپوزیشن کو عوام کا کوئی خیال۔۔ کرونا سے پہلے بھی ہمیں صرف اور صرف اللہ نے بچایا اور اب بھی ہمارا ایمان و عقیدہ ہے کہ وہی خدا اس بار بھی ہمیں اس کرونا سے بچائیں گے۔۔ بچت والی بات اگر حکومت یا اپوزیشن کے ہاتھ میں ہوتی تو اب تک 


ای پیپر