حکمران،انسان اور جانور
05 دسمبر 2020 2020-12-05

جس حکومت یا حکمرانوں سے ایک جانور(ہاتھی) نہیں سنبھالا گیا اُس حکومت یا حکمرانوں سے کم ازکم میں یہ توقع نہیں کرسکتا، یا میں اُن کے بارے میں پورے دعوے اور وثوق سے یہ نہیں کہہ سکتا بیس کروڑ یا اس سے زائد عوام بلکہ کیڑے مکوڑوں”یا“ بھیڑ بکریوں“کی وہ حفاظت کرسکیں گے۔ یہ دعوے صرف حکمرانوں کے ”امپورٹیڈترجمان“ ہی کرسکتے ہیں،.... ویسے میں سوچتا ہوں سارے کام حکمرانوں کے کرنے بھی نہیں ہوتے، اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھرکے اِس ہاتھی کو بحریہ ٹاﺅن کے ملک ریاض احمد یا کوئی اور دولت مند ”گود“ لے لیتا، اُس کی پرورش اور دیکھ بھال کا ذمہ اُٹھا لیتا،ہم عالمی سطح کی بدنامی سے شاید بچ جاتے، .... جہاں تک حکمرانوں کا معاملہ ہے وہ کبھی بھی عوام عُرف ”کیڑوں مکوڑوں“ یا ”بھیڑبکریوں“ کے جان ومال کے تحفظ کا جذبہ لے کر اقتدار یا سیاست میں نہیں آتے، وہ صرف اپنی حفاظت کرلیں، یہی بڑی بات ہے، اُن کا زندہ رہنا بہت ضروری ہے اور عوام کا مرتے رہنا بھی بہت ضروری ہے، عوام اگر حکمرانوں کی بخشی ہوئی اذیتیں اور تکلیفیں اُٹھا اُٹھا کر ختم نہیں ہوں گے آبادی کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟، حکمرانوں کے پاس آئے روز تھوک کے حساب سے بڑھتی ہوئی آبادی کا مسئلہ حل کرنے کا واحد طریقہ اب شاید یہی رہ گیا ہے عوام کو اتنی تکلیفیں اور اذیتیں دی جائیں اُن کا جینا محال ہوجائے، اب تو مرنا بھی محال ہوچکا ہے، شاید یہی وجہ ہے ہمارے عوام کا شمار اب زندوں میں ہوتا ہے نہ مُردوں میں، ....یہ تو پاکستان میں انسانوں کا معاملہ ہے، جہاں تک جانوروں کا معاملہ ہے جوکچھ پاکستان میں اِس وقت ہورہا ہے، بداخلاقی کے جس بدترین مقام پر جاکر ہم کھڑے ہوگئے ہیں، بدزبانیاں جس طرح ہماری عالمی شناخت بنتی جارہی ہیں، قوت برداشت جس طرح مکمل طورپر ہمارے اندر سے نکلتی جارہی ہے، اور بدتہذیبی کے جس طرح کے واقعات وسانحات رُونما ہوتے جارہے ہیں، یہ سب دیکھ کر مجھے یقین ہے جانور ضرور یہ سوچتے ہوں گے، شُکر ادا کرتے ہوں گے اُنہیں ”انسان“ نہیں بنایا گیا، اِس حوالے سے ایک شعریاد آرہا ہے، کیا کمال کا شعر ہے ،....”ایک کُتا دوسرے کُتے سے یہ کہنے لگا ....بھاگ ورنہ آدمی کی موت مارا جائے گا“.... میں اکثر سوچتا ہوں، کئی بار لکھا بھی ہے”جنگل کے قانون کو ایسے ہی ہم نے بدنام کررکھا ہے، کہیں یہ نہ ہو کسی روز تمام جانور اسلام آباد کے گردونواح کے جنگلوں سے نکل کر ڈی چوک میں احتجاجاً دھرنا نہ دے دیں کہ پاکستانیوں نے ”جنگل کے قانون“ کو خوامخواہ بدنام کررکھا ہے جبکہ جنگل کا قانون بہت سے حوالوں سے پاکستانیوں کے قانون سے ہزار درجے بہتر ہے، .... مثلاً جنگل میں کوئی شیر (جنگل کا بادشاہ) لُوٹ مار نہیں کرتا، وہ دودوسو ایکڑز یا کنالوں کے بنگلوں میں نہیں رہتا، وہ جب رج جاتا ہے اِدھر اُدھر منہ نہیں مارتا، جنگل میں کوئی چیتا اپنے علاج کے لیے برطانیہ، امریکہ یا ایسے کسی ملک میں نہیں جاتا، وہاں کوئی بھیڑیا یا کتا کسی جانور کو اربوں کھربوں کے قرضے معاف نہیں کرتا ، جنگل میں تمام جانور ایک جیسی زندگی بسرکرتے ہیں، .... ہمارے دیس میں بے شمار دولت مندوں کو پاکستان میں زندہ رہنا تو سمجھ میں آتا ہے، مرنا سمجھ میں نہیں آتا، اُنہیں ایک چھینک بھی آجائے علاج کے لیے بیرون ملک چلے جاتے ہیں، بیرون ملک جاکر چاہے اُن کی موت ہی کیوں نہ واقع ہو جائے، وہ پاکستان میں مرنے سے بیرون ملک جاکر مرنے کو ہزار گنا بہتر سمجھتے ہیں، پاکستان کو تواُنہوں نے صرف لُوٹ مار کا”عارضی ٹھکانہ“ بنارکھا ہے، کماتے یہاں ہیں لگاتے کہیں اور ہیں، .... کیا بے شمار سمجھ دار جانوروں کی انسانوں کے اِن معاملات پر نظر نہیں ہوگی؟....ممکن ہے جس طرح ہم ”جنگل کے قانون“ کو ایک بُری علامت کے طورپر پیش کرتے ہیں، اُسی طرح جانور بھی ہم انسانوں کے قانون کو بُری علامت کے طورپر پیش کرتے ہوں،....ہم جانوروں اور پرندوں کی آوازیں یا زبانیں نہیں سمجھ سکتے ورنہ روزانہ بے شمار جانوروں یا پرندوں کو یہ کہتے ہوئے سنتے”جنگل میں انسانوں کا قانون نہیں چلے گا“، جیسے ہم کہتے ہیں ”یہاں جنگل کا قانون نہیں چلے گا“....میں پاکستان میں عمومی انسانی رویوں کی بات کر رہا ہوں، پوری دنیا کے انسانوں کی بات نہیں کررہا ،ہمارے ہاں جانوروں کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوتا ہے جو انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ دنیا کے مہذب ملکوں میں جانوروں کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوتا ہے جو انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے، وہاں ”جان“ کی اہمیت ہے، چاہے وہ جان کسی انسان کی ہو یا حیوان کی ہو، بلکہ یہ کہنا کسی حدتک غلط نہیں ہوگا وہاں جانوروں کی جان کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے، .... ناروے کے شہر اوسلوکی ایک میئر نے صرف اِس لیے میئرشپ سے استعفیٰ دے دیاتھا وہ جب سائیکل پر اپنے دفتر جارہی تھی بِلی کا ایک بچہ اُس کی سائیکل کے نیچے آکر مرگیا تھا، پہلی قابلِ تحسین بات یہ ہے اوسلو کی میئر سائیکل پر دفتر جارہی تھی، مہذب ملکوں میں ایسے ہی ہوتا ہے، وہاں حکمرانوں یا افسران جب اپنے دفاتر جاتے ہیں، سڑکوں پر ہٹو بچو کی ”بڑھکیں“ سنائی نہیں دیتیں، ....یہ توقع ہم اپنے وزیراعظم عمران خان اور اُن کے وزیروں مشیروں سے بھی کررہے تھے ، ہم سوچ رہے تھے ہمارے وزیراعظم بھی کم ازکم سودنوں میں ایسے حالات ضرور پیدا کردیں گے اور سکیورٹی کی صورت حال اتنی اطمینان بخش ہو جائے گی، اور اگر نہ بھی ہوئی تو الیکشن سے پہلے”زندگی موت اللہ کے اختیار میں ہے“ کا جو جذبہ وہ رکھتے تھے اُس کے مطابق وہ سائیکل پر ہی دفتر جایا کریں گے، اور اُن کی دیکھا دیکھی اُن کے تمام وزیر مشیر بھی ایسے ہی کریں گے، بہت سی اور توقعات بھی ہم نے اُن سے وابستہ کرلی تھیں، پر ہمارے ساتھ وہی ہوا ”ہم نے پھولوں کی آرزوکی تھی.... آنکھ میں ”موتیا“ اُتر آیا .... دوسری قابل تعریف بلکہ حیران کن بات یہ ہے اوسلو کی میئر نے استعفیٰ دے دیا، اپنے استعفیٰ میں اُس نے لکھا ” میری وجہ سے ایک جان چلی گئی، میں اب ذہنی طورپر اِس قابل نہیں رہی اپنے فرائض یا ذمہ داریاں خوش اسلوبی یا مکمل اطمینان کے ساتھ نبھا سکوں، لہٰذا میں اپنے عہدے(میئرشپ) سے مستعفی ہورہی ہوں“۔ اُس نے اپنے استعفیٰ میں کہیں یہ نہیں لکھا تھا کہ ”میری وجہ سے بلی کے بچے کی جان چلی گئی“۔ اُس نے صرف ”جان“ لکھا تھا، .... ہم صرف اُسے اپنی ”جان“ سمجھتے ہیں جواکثر کسی اور کے ساتھ نکلی ہوتی ہے، یہاں بڑے بڑے حادثات ہوتے ہیں، اُس پر ہمارے حکمرانوں اور افسروں کا استعفیٰ دینا تو دُور کی بات ہے وہ اِس کی ذمہ داری ہی قبول نہیں کرتے، ہمارے ریلوے میں ہردوسرے چوتھے روز کوئی نہ کوئی حادثہ ہوتا ہے، کسی کو شرم نہیں آتی اِس کی ذمہ داری قبول کرے اور مستعفی ہوکر ایک مثال قائم کرے، وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا بس چلے تو ریلوے کے ہر حادثے کی ذمہ داری بھی زرداری خصوصاً نواز شریف پر ڈال دے، یہ بھی ایک ”حادثہ“ ہی ہے ایسے لوگ ہر دور میں اپنی جگہ بنالیتے ہیں، بُوٹ چاٹ کر وزیر بھی بن جاتے ہیں، ہم جب وہ ویڈیو کلپ دیکھتے ہیں جس میں شیخ رشید جناب عمران خان سے یہ کہہ رہے ہیں ”آپ ایک معمولی کپتان ہیں“ ، اور عمران خان جواباً یہ کہہ رہے ہیں ”شیخ صاحب میں آپ کو اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں“ اُس کے بعد ہم یہ توقع کرتے ہیں، بلکہ پورے یقین اور وثوق سے کہہ سکتے ہیں کل کلاں شریف خاندان یا زرداری خاندان کی پھر سے حکومت آگئی اُن کے وزیر ریلوے بھی شیخ رشید احمد ہی ہوں گے، بلکہ ہوسکتا ہے اُنہیں اِس سے بھی زیادہ اہم وزارت یا محکمہ مل جائے۔ وہ ”وزیرداخلہ“ بھی ہوسکتے ہیں، کیونکہ تقریباً ہراقتداری جماعت میں کہیں نہ کہیں سے ”داخل“ وہ ہوہی جاتے ہیں۔ (جاری ہے)


ای پیپر