جستجو رسول ﷺ
05 دسمبر 2019 2019-12-05

نجانے تبدیل شدہ وطن عزیز میں آئے روز تبدیلی ہوا،جسے ہم پہلے فضا بادصبا، نسیم سحر، وغیرہ رومانوی ناموں سے یاد کرتے تھے، مگر اب سیاسی وسیم اکرم کے دیس میں اسے ”سموگ“ کہا جاتا ہے۔ مگر میں بے مہری ایام کا کیا شکوہ کروں، میں حضرت علامہ اقبالؒ کے خیالات افروز میں روز بروز الجھتا چلا گیا، کیونکہ ان کا تو یہ فرمان تھا، کہ

سورج نے دیا اپنی شعاعوں کو یہ پیغام

دنیا ہے عجب چیز، کبھی صبح کبھی شام!

پھر میرے تجلی کدہ دل میں سما جا !

چھوڑو چمنستاں وبیابان ودروبام !

بہرکیف غلغلہ ہائے روز شب تو قیامت تک جاری رہے گا، اور محبوب یزداں رحمت اللعالمین پہ درودوسلام روز بروز بڑھتا ہی جائے گا، اور یوں ان کے درجات بھی دن بدن بڑھ کر شفاعت امت ، اور مقام محمود کے انعام و اکرام کے حقدار، اور وعدہ تکمیل الٰہی کے منصب بے مثل پہ فائز ہوں گے۔ میرے ایک قاری نے گجرات سے بارہا فون کرکے میری توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ آپ نے رسول پاک پہ جو لکھنا شروع کیا تھا، خدا را اسے جاری رکھیں۔

قارئین کرام آمد رسول حضور سے بھی ہزار سال قبل ان کی تعریف و توصیف وثناءلکھی جاچکی تھی ، ماہر تعلیم مرحوم سعید شاد نے اس پر صدق دل سے تحقیق کی تھی۔ حضرت بی بی خدیجہ ؓ نے عربی میں جو نعت لکھی تھی، اس کا اردو ترجمہ پڑھ کر آپ بھی مسرور ہوں فرماتی ہیں :

اے میرے چاند تیری یاد کا غم

مدتوں سے ہے میرے دل کا رفیق !

چشم مشتاق میری دیدہ¿ خوناب میرا

تیرے چہرے کی سحر کا متلاشی کب سے

تیرے اوصاف حمیدہ کا بیاں اور خدیجہ کی زباں

بس میرے دل کی گواہی کیلئے کافی تھا !

کہ وہ موعود نبی تیرے سوا کوئی نہیں

چشم مشاق میری جس کیلئے چشم راہ

قارئین کرام، آپ کی پہلی زوجہ محترمہ کے ایک ایک لفظ جس میں حضور سے محبت ، عقیدت اور انس چھلکتا نظر آتا ہے، ان کے علاوہ حضور اکرم کے دادا حضرت عبدالمطلب نے آپ کے بارے میں جو دعائیہ اشعار کہے، وہ بھی ناقابل فراموش اور دل میں گھر کر جانے والے ہیں، فرماتے ہیں، کہ میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہوں، جس نے مجھے یہ بچہ عطا کیا ہے جس کا لباس پاکیزہ ہے، وہ گہوارے ہی میں دوسرے بچوں کا سردار ہے میں اسے بیت اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔ میں اسے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں، یہاں تک کہ وہ نوجوانوں کا مددگار اور فصیح وبلیغ ہوجائے، میں اس کے لیے بغض والے بے لگام حاسد کے شر سے پناہ مانگتا ہوں، سیرت کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ حضور کے دادا آپ کی پیدائش سے از حد خوش ہوئے، اور وہ آپ کو خانہ کعبہ کے اندر لے گئے تھے، اور پھر یہ اشعار پڑھے تھے۔

حضور کے چچا حضرت ابوطالب کے مدیحہ اشعار اس طرح سے لکھے وہ روشن و تاب ناک چہرے والے جن کے صدقے میں پانی مانگا جائے، وہ یتیموں کے والی، اور بیواﺅں کے سرپناہ ہیں، بیت اللہ کی قسم، تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ ہم سے محمد کو چھین لیا جائے گا، حالانکہ ابھی ہم نے ان کی رافعت میں نیزوں اور تیروں سے کام نہیں لیا، تمہارا یہ بھی خیال غلط ہے، کہ ہم اسے تمہارے سپرد کردیں گے، یہ اس وقت تک نہ ہوگا، جب تک کہ ہم اس کے آس پاس قتل ہوکر نہ گر جائیں اور ہم اپنے بیٹوں اور بیویوں کو بھول کر اس کی حمایت میں اپنی جانیں قربان نہ کر دیں ۔

قارئین آپ نے یہ ضرور پڑھا ہوگا، کہ حضور کو اپنے چچا حضرت امیر حمزہؓ سے بے حد پیار تھا، ایک دفعہ جب حضرت امیر حمزہؓ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، اور شکار کرکے واپس تشریف لارہے تھے، اتنے میں حضور کے بارے میں حضرت امیر حمزہؓ کی کنیز نے جاکر انہیں اطلاع دی، کہ ابو جہل نے حضور کے بارے میں نازیبا کلمات ادا کئے ہیں، یہ سن کر آپ کو اس قدر غصہ آیا کہ ابوجہل کی یہ جرا¿ت کہ وہ میرے بھتیجے کے خلاف گستاخی کرے، حضرت امیر حمزہؓ فوراً گھوڑا دوڑا کر ابوجہل کے پاس گئے، جو اس وقت خانہ کعبہ کے باہر بیٹھا ہوا تھا حضرت امیر حمزہؓ نے جاکر اس وقت ان کے ہاتھ میں تیر کمان بھی موجود تھا آپ نے اس قدر زور سے ابوجہل کے سر پہ مارا کہ اس ناہنجارکے سرسے خون کا فوارہ ابل پڑا، اور پھر حضرت امیر حمزہ ؓ نے ابوجہل کو تنبیہ کی کہ خبردار آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا، تم نے یہ سمجھا تھا کہ محمد اکیلے ہیں ان کے وارث نہیں ہیں، اگر تم یہ سمجھتے ہو، کہ میں ان کے دین پہ نہیں ہوں ، تو اپنی یہ غلط فہمی بھی دور کرلو ، میں ابھی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جاتا ہوں، اور پھر آپ کلمہ طیبہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے تھے۔ حضرت امیر حمزہؓ غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے، حضرت امیر حمزہؓ، آپ سے دو سال بڑے تھے، اور بچپن میں ایک ساتھ کھیلتے بھی تھے، اور ان کے ایک دوسرے سے دورشتے تھے ، وہ دودھ شریک بھائی بھی تھے ،انہوں نے آپ کے بارے میں جو نعتیہ اشعار کہے، ان کا ترجمہ یوں ہے، میں نے خدا کا شکر ادا کیا، جب اس نے میرے دل کو اسلام اور بلند مرتبہ دین کی توفیق بخشی ، اس دین کی جو عظمت وعزت والے پروردگار کی طرف سے آیا ہے جو بندوں کے تمام حسابات سے باخبر اور ان پر بڑا مہربان ہے، جب اس کے پیغاموں کی تلاوت ہمارے سامنے کی جاتی ہے، تو ہرصاحب عقل اور صاحب الرائے کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں، وہ پیغامات جن کی ہدایتوں کو آپ لے کر آئے، واضح الفاظ وحروف والی آیتوں میں، اور محمد ہم میں برگزیدہ ہیں جن کی اطلاعات کی جاتی ہے، لہٰذا تم ان کے سامنے نا ملائم لفظ بھی منہ سے نہ نکالنا خدا کی قسم ان کو اس قوم کے حوالے کبھی نہیں کریں گے، جن کے بارے میں ہم نے ابھی تلواروں سے کوئی فیصلہ نہیں کیا حضرت امیر حمزہؓ کو سید الشہداءکہا جاتا ہے۔

حضرت امیر حمزہؓ کو حضرت وحشی نے شہید کیا تھا، گو وہ بعد میں مسلمان ہو گئے تھے، اور حضور کو ان سے کس قدر پیارتھا، حضور نے اپنی پوری زندگی میں ہرایک کو معاف فرما دیا تھا، اسی طرح حضرت وحشی کو جنہوں نے حضرت امیر حمزہؓکو شہید کردیا تھا، معاف کردیا تھا، مگر ان سے یہ فرمایا کہ کوشش کیا کرو، میرے سامنے نہ آیا کرو، مجھے حضرت امیر حمزہ ؓ یاد آجاتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو دن بدن بلندی عطا فرمائے آمین۔


ای پیپر