دربدرافسران اور تبادلے پسند حکمران !
05 دسمبر 2019 2019-12-05

میں اپنے گزشتہ کالم میں وزیراعظم کے دورہ لاہور پر بات کررہا تھا، اس دورے میں انہوں نے ان سول و پولیس افسروں سے خطاب کیا جنہیں حال ہی میں مختلف عہدوں پر اِس یقین کے ساتھ انہوں نے تعینات کیا وہ ایماندار ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی حوالے سے بڑے یتیم اور مسکین ہیں، یعنی کہ اُن کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں، وزیراعظم کا ”اطمینان“ اپنی جگہ مگرمیرے ذاتی نوٹس میں ہے لاہور سمیت کس کس ضلع اور رینج میں فیلڈ میں تعینات ہونے والے افسروں نے تعیناتی کے فوراً بعد سابقہ حکمران اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے رابطہ کرکے کہا ”سر ہمارے لائق کوئی خدمت ہو ہم اب بھی آپ کے تابعدار ہیں“ ....جہاں تک اِن افسروں کی ”ایمانداری“ کا تعلق ہے، اللہ جانے کیوں ہمارے اکثر حکمران عوام میں اپنے صرف اِس عمل کی وجہ سے ہی مقبول ہونا چاہتے ہیں کہ اُنہوں نے فیلڈ میں بڑے ” ایماندار“ افسران کو تعینات کیا ہے، جبکہ کسی افسرکی ”ایمانداری“ جانچنے کا واحد پیمانہ ان حکمرانوں کے پاس یہ ہوتا ہے کہ وہ افسر ان کی خوشامد کتنی کرتا ہے؟ سابق حکمران اعلیٰ شہباز شریف اپنی اس ”خوبی “ کا بڑا پرچار کیا کرتے تھے کہ انہوں نے ایماندار افسران کو بطور ڈی سی او اور ڈی پی او تعینات کیا، ایک بار میں نے ان سے پوچھا ” حلفاً بتائیں ان ایماندار افسران کو فیلڈ میں تعینات کرنے سے عوام کو وسیع پیمانے پر کوئی ریلیف ملا؟۔وہ سوچ میں پڑ گئے، تب میں نے انہیں ایک واقعہ سنایا ” مرحوم دلدار پرویز بھٹی نے اپنے ایک کولیگ سے پوچھا ”آٹھ ماہ ہوگئے تمہاری شادی کو ....کوئی خوشخبری ملی ؟۔کولیگ نے کہا ”بھٹی صاحب

ابھی تک خوشخبری کوئی نہیں ملی“ .... دلدار بولا ”اچھا، پھر ایسا کرو اب ایک ناغہ ڈال کر دیکھو“ ....شہباز شریف نے قہقہہ لگایا ، میں نے عرض کیا ”سر اگر ایماندار افسران کو فیلڈ میں تعینات کرکے کوئی ”خوشخبری“ نہیں مل رہی اب ذرا اہل افسران کو فیلڈ میں تعینات کرکے دیکھ لیں“ ....یہی گزارش مجھے اپنے ملک کی ”اصل حکمران قوتوں“ سے کرنی ہے کہ ایماندار وزیراعظم کو تعینات کرکے کوئی خوشخبری مزید پونے چار برس بعد بھی اُنہیں اگر نہ ملے تو آئندہ کسی اہل وزیراعظم کو تعینات کرکے دیکھ لیں، اہل وزیراعظم کے تعینات ہونے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا وہ ہر دوتین ماہ بعد افسران کے تبادلوں کی ضرورت محسوس نہیں کرے گا ،.... ہمارے محترم وزیراعظم کو اندازہ ہے کہ بار بار تھوک کے حساب سے افسران کو تبدیل کرنے سے حکومت کو ٹی اے ڈی اے کی مد میں کتنا مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے؟۔ اِس کے علاوہ افسروں کو جو اذیت برداشت کرنی پڑتی ہے وہ الگ ہے، .... ہمارے ہاں صرف رشوت نہ لینے والے افسران کو ہی ایماندار سمجھا جاتا ہے، میرے نزدیک سب سے بڑی ایمانداری یہ ہے کسی افسر کو اللہ اُس کی اوقات سے زیادہ نواز دے تو اللہ کی شکر گزاری اور ایمانداری کا حق ادا کرنے کا واحد طریقہ اُس کے پاس یہ ہوتا ہے وہ مظلوم اور بے بس لوگوں کی مدد کرے، ....فیلڈ میں تعینات کرتے ہوئے کسی افسر کی ایمانداری کے سب سے اہم اس پہلو کو پیش نظر رکھا جانا چاہیے وہ رحم دل کتنا ہے؟۔ ہمارے اکثر ”ایماندار افسران“ اِس یقین میں مبتلا ہوتے ہیں ” وہ رشوت صرف پیسوں کی صورت میں ہی قبول نہ کرنے پر جنت میں چلے جائیں گے، جبکہ جو ظلم وہ مظلوم اور بے بس لوگوں کے ساتھ مختلف صورتوں میں کرتے ہیں، ان کا کوئی حساب اُن سے نہیں لیا جائے گا “،....محترم وزیراعظم نے حال ہی میں بطور چیف سیکرٹری پنجاب اور بطور آئی جی پنجاب جن افسران کو تعینات کیا اُنہیں خاص طورپر یہ ہدایت کرنے کی ضرورت ہے خلق خدا کے لیے اپنے دلوں کو نرم رکھیں، ان دونوں افسروں کی شہرت اِس کے بالکل برعکس ہے، ....ایسے مردم بیزار افسروں کا جلدی تبادلہ بھی نہیں ہوتا، .... البتہ موجودہ حکمرانوں خصوصاً ہمارے محترم وزیراعظم کو افسروں کے تبادلے کرنے کی جو لت پڑ گئی ہے اُس کی زد میں ممکن ہے یہ دونوں افسران بھی آجائیں، .... اپنی طرف سے محترم وزیراعظم نے غیر سیاسی تبادلے کیے، لاہور میں افسروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افسروں کو انہوں نے نصیحت بھی کی ”وہ سیاسی مداخلت قبول نہ کریں “۔ ہمارے اکثر افسران چونکہ بہت بزدل ہوتے ہیں چنانچہ اس موقع پر کسی افسر کو جرا¿ت نہیں ہوئی وہ اُٹھ کر کھڑے ہو جاتا، وزیراعظم سے کہتا ” سر اگر سیاسی مداخلت کے آپ اتنے ہی خلاف ہیں تو پنجاب کے دو اضلاع میں حکومت کی اتحادی جماعت قاف لیگ نے اپنے جو ڈی پی اوز اور ڈی سی اوز تعینات کروا رکھے ہیں ذرا اُنہیں تبدیل کرکے دکھائیں “ ....ہمارے محترم وزیراعظم کی بے شمار ”خوبیوں“ میں ایک نمایاں ”خوبی “ یہ بھی ہے وہ کانوں کے بہت کچے ہیں اور اپنی بات پر قائم نہ رہنے کے انہوں نے ریکارڈ قائم کیے ہیں، لہٰذا حال ہی میں فیلڈ میں تعینات ہونے والے سول وپولیس افسران کی خدمت میں عرض ہے کہیں بھلیکھے میں نہ مارے جائیں ۔ محترم وزیراعظم نے صرف میڈیا میں نمبر بنانے کے لیے افسران کو سیاسی مداخلت قبول نہ کرنے کی نصیحت کی ہے کہیں یہ نہ ہو فیلڈ میں تعینات ہونے والا ہمارا کوئی افسر وزیراعظم کے اس ”مصنوعی جذبے“ پر من وعن عمل کرکے اپنے عہدے سے چند روز بعد ہی ہاتھ دھوبیٹھے.... ایک طرف ہمارے محترم وزیراعظم نے وزیراعلیٰ بزدار کے پسندیدہ افسران یا اُن کے رشتہ دار افسران کو مختلف اہم عہدوں سے ہٹا کر اپنی طرف سے پنجاب کی بیوروکریسی میں سیاسی مداخلت کے خاتمے کا تاثر دیا ہے، دوسری طرف مبینہ طورپر پتہ یہ چلا ہے حال ہی میں فیلڈ میں تعینات ہونے والے افسران کو حکم جاری کیا گیا ہے لاڈلے وزیراعلیٰ کے ہر جائز ناجائز حکم پر آنکھیں بند کرکے عمل کرنا ہے، اس کے علاوہ سرکاری ارکان پارلیمنٹ کی خواہشات کا مکمل احترام کرنا ہے۔ زلفی بخاری اور مراد سعید کی کوئی سفارش ٹالنے کا تو تصور بھی نہیں کرنا، .... حالیہ تبادلے اگر واقعی سرکاری اداروں سے سیاسی مداخلت ختم یا کم کرنے کے لیے کئے گئے ہیں تو فیلڈ میں جو پولیس وسول افسران چند ماہ قبل بہت سوچ سمجھ کر تعینات کیے گئے تھے سیاسی مداخلت ختم کرکے ان سے زیادہ بہتر کام لیے جاسکتے تھے، وہ ان افسران سے کہیں زیادہ رحم دل ، اہل اور ایماندار تھے جو حال ہی میں تعینات کرکے سرکار نے خوامخواہ اپنا منہ ایک بار پھر کالا کیا ہے، .... آخر میں ایک گزارش حال ہی میں فیلڈ میں تعینات ہونے والے افسران سے بھی ہے، اپنی آسانی کے لیے اپنا سامان وہ پیک ہی رہنے دیں، واپسی کا بلاوا کسی بھی وقت آسکتا ہے !!


ای پیپر