Source : Facebook

ایک ایسی مکمل غذا جو جسم میں حیران کن تبدیلیاں لے آئے
05 دسمبر 2018 (23:58) 2018-12-05

دودھ: ایک مکمل غذا ...قوت مدافعت برقرار رکھتا، نظام ہضم کو بہتر بناتا ہے

دودھ ایک لطیف اور زود ہضم غذا ہے اس میں پروٹین، چربی، کاربوہائیڈریٹس یعنی نشاستہ دار غذا اور نمک سب اجزاءموجود ہوتے ہیں۔ دودھ میں کیلشیم، پروٹین، وٹامن (اے، کے اور بی 12)، امائنو ایسڈز، فائبر، سوڈیم اور دیگر خصوصیات شامل ہیں جو جسم کو توانائی بخشنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

یوں تو کہا جاتا ہے کہ صبح ناشتے میں دودھ پینا چاہیے، جو دن بھر قوت مدافعت کو برقرار رکھتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کو 1 کپ دودھ پینے کے بے شمار فوائد ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔

پُرسکون نیند

آج کل معمر افراد سمیت نوجوانوں کو بھی نیند نہ آنے کا مسئلہ درپیش ہے، جس کی وجہ سے ان کی صحت متاثر ہوتی ہے، جلد تھکن ہوجاتی ہے اور جسم دن بھر سستی کا شکار رہتا ہے۔ غذائی ماہرین کے مطابق دودھ میں Tryptophan نامی ایسے امائنو ایسڈز پائے جاتے ہیں جو رات کو پرسکون نیند میں مددگار ثابت ہے۔ رات کو ایک گلاس نیم گرم دودھ پینے سے بہترین نیند آتی ہے، صبح اٹھ کر موڈ خوشگوار رہتا ہے اور صحت میں بہتری آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دودھ جسم میں میلا ٹونن کی مقدار کو بھی بڑھاتا ہے جو ایک ہارمون ہے جس کے ذریعے پرسکون اور گہری نیند آتی ہے۔

قوت مدافعت میں اضافہ

رات کو ایک کپ دودھ پینے سے نہ صرف پرسکون نیند آتی ہے بلکہ قوت مدافعت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ صبح اٹھ کے بھی پورا دن تھکن محسوس نہیں ہوتی اور جسم پورا دن حرکت میں رہتا ہے۔

نظام ہضم کے لیے مفید

اگر آپ کو قبض یا تیزابیت کی شکایت ہے تو رات کو سونے سے قبل ایک کپ دودھ ضرور پئیں، اس سے نہ صرف نظامِ ہضم تیزی سے کام کرتا ہے بلکہ یہ سینے کی جلن اور معدے کی خرابی کو بھی درست کرتا ہے۔

ہڈیوں کی مضبوطی

دودھ میں وافر مقدار میں کیلشیم پایا جاتا ہے جو کہ ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے مفید ثابت ہے۔ رات کو ایک کپ نیم گرم دودھ پینے سے جسم میں کیلشیم کا اضافہ ہوتا ہے جس سے ہڈیاں پہلے سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہوجاتی ہیں۔ یہ جوڑوں اور پٹھوں کا درد ختم کرنے میں بھی معاون ثابت ہے۔

ذیابیطس کے مرض میں مفید

ذیابیطس کے مریضوں کی ہڈیاں کمزوری کا شکار ہوجاتی ہیں، جس سے انہیں کمزوری اور نقاہت کا احساس ہوتا ہے، ایسے میں رات میں ایک کپ نیم گرم دودھ پینا صحت کے لیے بہتر ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس میں چینی یا کسی ایسی چیز کا استعمال نہ کیا جائے، جس میں مٹھاس ہو۔

جلد اور بالوں کا محافظ

رات کو ایک کپ دودھ پینا خوبصورتی میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ دودھ میں وافر مقدار میں پروٹین پایا جاتا ہے جو جلد کو دلکش بنانے کے ساتھ ساتھ بالوں کی چمک بھی بڑھاتا ہے۔

بھینس کا دُودھ

یہ دودھ مقوی بدن و باہ ہے، اسے جوش دے کر پینا بہتر ہوتا ہے۔ یہ خون پیدا کرتا ہے۔دماغی کام کرنے والوں کیلئے بھینس کا دودھ مفید نہیں ہوتا۔ یہ بلغم پیدا کرتا ہے اس لیے اسے خاص طور پر بلغمی مزاج والے حضرات کو دودھ میں الائچی‘ چھوہارے یا سونٹھ ابال کر پینا چاہیے۔ اگر جانور کے تھنوں سے براہ راست دودھ پیا جائے تو وہ بہت ہی فائدہ مند ہوتا ہے۔ دودھ پینے کا وقت سوتے وقت کی بجائے شام پانچ چھ بجے یا پھر صبح کا ہے‘ کیونکہ سوتے وقت کا دودھ پینا پوری طرح ہضم نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ یہ احتیاط بھی ضروری ہے کہ اس کو بہت زیادہ جوش دے کر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

گائے کا دُودھ

گائے کا دودھ زود ہضم ہے اور کثیرالغذا ہے۔ یہ چہرے کا رنگ نکھارتا ہے اور سدے کھولتا ہے۔ یہ دماغ کو طاقت دیتا ہے۔ یہ مقوی قلب بھی ہے اور مولد خون ہے۔ بند چوٹوں میں گرم دودھ کا استعمال بے حد مفید ہے۔ گائے کے دودھ میں نمکیات کم مگر پنیر اور روغنی اجزاءزیادہ ہوتے ہیں۔ قد بڑھانے کے عمل میں جو پروٹین درکار ہوتے ہیں جس میں ایک کیمیائی مادہ لائی سین ہوتا ہے وہ گائے کے دودھ میں سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس کی مقدار دودھ کے اندر 7.61 فیصد ہوتی ہے۔ دماغی کام کرنے والوں کیلئے گائے کا دودھ آدھ کلو روزانہ استعمال کرنا بے حد مفید ہے۔ آنکھوں کی بینائی کو تیز کرتا ہے کیونکہ اس میں وٹامن اے اور ڈی زیادہ ہوتے ہیں۔ انسانی بال، ناخن، دانت اور آنکھوں کو بہتر حالت میں رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ایک گلاس روزانہ گائے کا دودھ استعمال کیا جائے۔

بکری کا دُودھ

بکری کے دودھ سے جسم کو طاقت ملتی ہے ،قوت ہاضمہ تیز ہوتا ہے ،بھوک کھل کر لگتی ہے ،بچوں کو دست اور اُلٹیوں کے دوران بھی بکری کا دودھ دیا جاتا ہے۔ بکری کا دودھ لطافت والا ہے اور چہرے کا رنگ نکھارتا ہے۔ بکری کا دودھ، کتیرا گوند کے ہمراہ پینے سے پھیپھڑوں کے زخم ٹھیک ہوتے ہیں۔ یہ دودھ گرم مزاج والوں کے لئے بے حد مفید ہے۔ بکری کا دودھ پینے سے جسم کی جلد ملائم اور خوبصورت ہو جاتی ہے اور خاص طور پر عورتوں کے لئے یہ تو قدرتی تحفہ ہے۔ چہرے کی چھائیوں اور مہاسوں کو دور کرنے کے لئے بھی بکری کا دودھ بہت مفید ہے۔ اصلاح خون کیلئے بکری کا دودھ تمام جانوں کے دودھ سے اول نمبر ہے۔ اس دودھ میں فولاد کی اچھی خاصی مقدار ہوتی ہے اور یہ دمہ کے مرض میں بالخصوص فائدہ دیتا ہے۔ پیٹ کی جملہ خرابیوں کو دورکرتا ہے، اسہال کو روکتا ہے۔ اگر گلے کی خرابی یا حلق میں ورم ہو تو دودھ کو تھوڑی دیر گلے میں روک کر پینا بے حد مفید ہے۔ گرم گرم تازہ دودھ پیشاب کی رکاوٹ کو درست کرتا ہے۔

اُونٹنی کا دُودھ

طبی اعتبار سے اُونٹنی کا دودھ بے شمار فوائد کا حامل ہے۔اونٹنی کے دودھ میں وٹامن سی کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے۔ ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے اونٹنی کا دودھ قدرت کی جانب سے عطا کردہ کسی انمول تحفے سے کم نہیں کیوں کہ اس میں انسولین کی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے۔انسولین ایک ہارمون ہے جو ذیابطیس کے مریضوں میں کم مقدار میں بنتا ہے اور انھیں یہ ہارمون دوائیوں کی شکل میں لینا پڑتا ہے۔

٭٭٭


ای پیپر