عمران نہیں تو کون
05 دسمبر 2018 2018-12-05

لوگ سوال کرتے ہیں عمران خان کی حکومت کی سمت کیا ہے؟ وہ کونسی منزل کی جانب رواں دواں ہے اور کوئی منزل ہے بھی یا نہیں لیکن اس سے بھی زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ ملک اور قوم کو کس جانب دھکیلا جا رہا ہے۔۔۔ پاکستان میں سول حکومتیں یا جنہیں منتخب ہونے کا ’اعزاز‘ بخشا جاتا ہے خواہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ برسراقتدار آئی ہوں یا مانگے ماتگے کی آٹھ دس پارلیمانی نشستوں کے سہارے کھڑی ہوں ہمیشہ غیر متزلزل رہتی ہیں۔۔۔ ان میں سے کسی ایک کے بھی اقتدار کو سنبھالنے کے بعد جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں گزرتے سوال اٹھنے لگتے ہیں۔۔۔ حکومت کب جا رہی ہے؟ اس کے ساتھ ہی وہ عدم استحکام کی شکار ہوتی نظر آنا شروع ہو جاتی ہے اور یہ سوال زبان زد عام ہو جاتا ہے کہ مقتدر قوتیں اگلی باری کس کو دیں گی۔۔۔ پیپلزپارٹی کے قائد آصف علی زرداری نے تازہ ترین بیان میں جویہ کاٹ دار بات کہی ہے ’’کٹھ پتلیوں سے کام نہیں چلے گا حکومت کو خطرہ ہوا تو وہی بچائیں گے جو لائے ہیں اور یہ کہ موجودہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ اپوزیشن کو جیل میں ڈالوں گا۔۔۔ عمران کو اگلا وزیراعظم جیل بھیج دیں گے‘‘ ۔۔۔ اس ایک بیان کے اندر ہمارے یہاں کی پاور پالیٹکس کے پس پردہ کئی کہانیاں چھپی ہوئی ہیں جن کے گرد ماشاء اللہ آزاد اور خود مختار پاکستان کی پوری تاریخ گھومتی ہے۔۔۔ اسے پاکستان کا المیہ کہیے یا یہاں کے مخصوص زمینی حالات سے تعبیر کیجیے کہ ہمارے یہاں صرف مارشل ہائی حکومتوں کو استحکام ملا۔ انہوں نے آٹھ، دس اور گیارہ گیارہ سال تک حکومتیں رچائیں۔۔۔ اس کے برعکس کسی سول یا اپنے آپ کو منتخب کہنے والے وزیراعظم کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع نہیں ملا ۔۔۔ دو اڑھائی سال کی مدت کے بعد ہر ایک کو اڑا کر رکھ دیا جاتا ہے۔۔۔ عمران خان کا مسئلہ مگر یہ ہے اسے آئے بمشکل سو دن گزرے ہیں اس کے مستقبل کے بارے میں سوال اٹھنے شروع ہو گئے ہیں۔۔۔ اس کی کیا وجہ ہے۔۔۔ قصور نئے وزیراعظم کا بھی یقیناًہے اور کچھ ان کی بھی خواہش معلوم ہوتی ہے جنہیں نت نئی حکومتیں لانے اور انہیں جلد خیر باد کہہ کر اور پھر اگلی کو موقع دینے کا شوق چین سے نہیں بیٹھنے دیتا۔۔۔ عمران خان کا مسئلہ یہ ہے موصوف کو دھڑا دھڑ بیانات دینے اور ٹیلی وژن پر انٹرویو کرانے کا بہت شوق ہے لیکن یہی بیانات انٹرویو ، وغیرہ جلد ان کے گلے بھی پڑ جاتے ہیں۔۔۔ جب سے انہوں نے سو روز کی تکمیل پر اپنی کارکردگی کا نقشہ عوام کے سامنے پیش کرنا شروع کیا ہے۔۔۔ ایک سے ایک بڑھ کر نیا شگوفہ سامنے آ رہا ہے۔۔۔کہا پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی نہ کر سکے تو آرڈیننس لے آیا کریں گے۔ جنوبی صوبہ بنانے کے شوق میں وسطی پنجاب کا اقتدار ہاتھوں سے نکلتا نظر آیا تو نئے انتخابات کرا لیں گے، بس نہیں چلا ورنہ اب تک 50 سے زیادہ سیاسی مخالفین کو جیل میں ڈال دیا ہوتا، سٹیٹ بینک کو یقیناًخود مختاری دے رکھی ہے لیکن اسے ان سے مشاورت کیے بغیر روپے کی قیمت اس حد تک نہیں گرا دینی چاہیے تھی کچھ تو ہمیں بھی پیشگی علم ہوتا، اگرچہ ماہرین کہتے ہیں یہ آئی ایم ایف کی بنیادی شرائط میں سے ایک ہے جس پر خاموشی سے عمل کیا جا رہا ہے مگر حکومت اس کا بہتان اپنے سر پر نہیں لینا چاہتی ۔۔۔ ’شہباز شریف کو کسی صورت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نہیں بننے دیں گے۔۔۔ پارلیمنٹ قانون سززی کا بنیادی فریضہ سر انجام دینے کے قابل رہے یا نہ رہے، اپنے پچھلے بیانات اور دعووں کے برعکس معیشت کو دوست ملکوں کی جانب سے حاصل کیے گئے قرضوں کی بنیاد پر سنبھالا دیں گے۔۔۔ مگر کسی سے بھیک نہیں مانگیں گے اگرچہ کشکول لیے پہلے سو دن کے اندر دو دورے سعودی عرب کے کیے، ایک چین اور ایک ایک ملائیشیا اور عرب امارات کا۔۔۔ ابھی تک حاصل صرف سعودی عرب سے ایک ارب ڈالر ہوا ہے جبکہ خسارہ وزیر خزانہ اسد عمر کے الفاظ میں 12 ارب ڈالر کا ہے۔۔۔ وہ کیسے اور کیونکر پورا ہو گا اس کا علم جناب وزیراعظم کو ہے نہ وزیر خزانہ سمیت ان کی مالیاتی ٹیم کے کسی اہم عہدیدار کو۔۔۔ حکومتی وزراء کے اندر ہم آہنگی کے عنصر کا خاصی حد تک فقدان پایا جاتاہے۔۔۔ ماسوائے لاہور میں دو ایک شیلٹر ہوم کے قیام گورنر ہاؤس لاہور کی دیواریں مسمار کرنے اور ملکی معیشت کو مرغیوں، انڈوں اور کٹوں کے بل بوتے پر فروغ دینے کے کسی ایک ترقیاتی کام یا منصوبے کا 

آغاز اس حکومت سے نہیں ہو سکا۔۔۔ پنجاب جیسے اہم صوبے کی زمام اقتدار فی الحقیقت کس کے ہاتھوں میں ہے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے علاوہ چار پانچ دیگر اہم اور مؤثر شخصیات کا نام لیا جاتا ہے جبکہ وزیراعظم صاحب تقریباً ہر ہفتے لاہور وارد ہوتے ہیں اور صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت فرماتے ہیں اس سے صوبائی خود مختاری کے تصور کا جو حشر ہوتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔۔۔ لیکن صوبہ پنجاب کی حکومت کو ریمورٹ کنٹرول سے چلانے کے شوق کی تسکین بہر صورت ہو جاتی ہے۔۔۔ اسی لیے سوال اٹھ رہے ہیں حکومت کب تک چلے گی۔ 

وہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے سول حکومتوں کی شکست و ریخت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہ یں اور جب مناسب خیال فرمائیں نیا ڈھانچہ قوم کے سروں پر مسلط کر دیتے ہیں۔۔۔ ان کے پیش نظر اصل ہدف کیا ہے؟ کیا ملک کو صدارتی نظام کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔۔۔18 ویں آئینی ترمیم کی اہم شقات کو تبدیل کرنے یا کسی نہ کسی طور پر غیر مؤثر بنا کر صوبائی خود مختاری جیسی اور جتنی کچھ ہے اسے بھی رگید کر رکھ دینے کا سامان تو نہیں کیا جا رہا ۔۔۔ اس پر ملک بھر کے آئین دوست اور جمہوریت پسند حلقوں کے اندر سخت تشویش پائی جاتی ہے۔۔۔ لیکن اس عمل یا غیرعلانیہ منصوبے کے آگے بند کیسے باندھا جائے ۔۔۔ اس کا بھی کسی کو کچھ علم نہیں ۔۔۔ بڑی سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین واویلا تو بہت مچا رہے ہیں مگر آپس میں متحدنہیں۔۔۔ کسی ایک لائحہ عمل پر اتفاق نہیں ہو پا رہا اور کوئی مشترکہ راہ عمل ان کے سامنے موجود نہیں ۔۔۔ نوازشریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کو ایک کے بعد دوسرے مقدمات میں پھنسا کر رکھ دیا گیا ہے۔۔۔ وہ ابھی تک ان سے جان چھڑانے کے لئے تمام تر قانونی لڑائیاں لڑنے کی فکر پر متوجہ ہیں۔۔۔ بنیادی سیاسی امور پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔۔۔ ان کی جماعت مسلم لیگ ن کے ایک دو ترجمانوں کے وقتاً فوقتاً بیان جاری کر کے وقت ٹال دینے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔۔۔ آصف علی زرداری ان دنوں اگرچہ بیانات دے رہے ہیں لیکن مشکل انہیں بھی آن پڑی ہے کہ کسی نہ کسی مقدمے کی آڑ میں موصوف کو بھی جیل بھجوایا جا سکتا ہے۔۔۔ عمران خان یقیناًخوش ہیں نیب کی جانب سے ان کے تمام بڑے سیاسی مخالفین کو جیل میں ڈال دینے کا کام جاری ہے اور نام بھی بدنام بھی نیب ہو گا ان کی ذات پر کوئی حرف نہیں آئے گا لیکن مسئلہ یہ آن پڑا ہے کہ تمام بڑے سیاستدان پابند سلاسل ہو گئے ہیں اور عمران خان کی نااہلی ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا ہو گئی تو خلاء کو کون پُر کرے گا؟ ایک کے بعد دوسرا عمران ! نیا گھوڑا ابھی تک تیار نہیں کیا جا سکا اور اتنی جلد شاید یہ ہی ممکن بھی نہ ہو۔۔۔ یہ سوال بھی اٹھ کھڑا ہواہے کہ مقتدر قوتوں کی اپنی منزل کیا ہے؟ کیا ملک و قوم کو مسلسل انتشار اور خلفشار میں مبتلا رکھنا ہی اصل مقصد ہے۔۔۔ اگر بار بار انتخابات کرائے گئے تو یہ ڈھونگ بن کر رہ جائیں گے۔۔۔ مارشل لاء نافذ نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ دوسرا کٹھ پتلی لانا چنداں آسان نہیں ۔۔۔ آزاد سیاستدان کسی طور برداشت نہیں ہو پاتا ۔۔۔ تو کیا ہم اس مقام پر جا کر تو نہیں کھڑے ہو گئے جہاں وزیراعظم عمران خان کو اپنی سمت کا کچھ علم ہے نہ ان کی سرپرستی یا پشت پناہی کرنے والے سرپرستوں کواگلا نشان راہ نظر آرہا ہے۔۔۔ اس مقام پر کھڑی بے چاری قوم کس کی جانب دیکھے اور کس کے ساتھ امیدیں وابستہ کرے۔۔۔ مایوسی گناہ ہے ۔۔۔ امید کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔۔۔ مگر کوئی طریق عمل بھی تو سامنے رکھنا ہو گا۔۔۔ کیا اس سے ہماری کشتِ ویراں بالکل محروم ہو چکی ہے۔۔۔ قرآن مجید میں کسی ایسے موقع پر فرمایا گیا تھا۔۔۔ کیا ان کے اندر رجل رشید نہیں یعنی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جو اعلیٰ درجے کی سمجھ بوجھ رکھتا ہو اور قوت کردار سے انہیں سیدھے راستے پر ڈال سکے۔۔۔ ایک رجل رشید یقیناًتھا جس نے اس مملکت خداداد کے حصول میں ہمارئی رہنمائی کی۔۔۔ پاکستان جیسی نعمت ملی۔۔۔ اس نے موت سے قبل راہ عمل بھی تجویز کر دی تھی۔۔۔ برملا کہا تھا کہ سویلین بالادستی ہو گی۔۔۔ جو مہذب قوموں کا دستور مملکت ہے۔۔۔ خلافت راشدہ میں بھی منتخب خلیفہ عمر بن خطاب کے سامنے کمانڈر خالد بن ولید کو چوں چراں کرنے کی ہمت نہ تھی۔۔۔ تمام ادارے آئین کے ماتحت رہ کر کام کریں گے۔۔۔ حکمرانی کا حق صرف اور صرف قوم کے منتخب نمائندوں کو حاصل ہوگا مگر 70 سال کے عرصہ میں ان تمام ہدایات کی تکذیب کر کے رکھ دی گئی ہے۔۔۔ سویلین بالادستی کا نام لینے سے بھی لوگ شرماتے ہیں۔۔۔ اس کے مقام پر کٹھ پتلیوں کو لا کر بٹھایا جاتا ہے۔۔۔ جن اداروں کو ماتحت ہونا چاہئے تھا ان کا تسلط غیرمعمولی حد تک بڑھ گیا ہے اور جنہیں منتخب قوم کے نمائندوں کی حیثیت سے ملک کے انتظام و انصرام کو مکمل طور پر اپنے ہاتھوں میں لینا تھا۔۔۔ ان کی کرپشن یا نااہلی کے الزامات کے تحت مٹی پلید کر کے رکھ دی گئی ہے۔۔۔ نیا رجل رشید کیسے اور کہاں سے آئے گا ۔۔۔ قوم ہماری ہر وقت کسی مسیحا کے انتظار میں بیٹھی رہتی ہے جبکہ قرآن میں اللہ فرماتا ہے کہ وہ کسی قوم کی حالت اس وقت نہیں بدلتا جب تک وہ اپنے اندر حقیقی تبدیلی لانے کا تہیہ نہ کرگے۔۔۔ قیام پاکستان سے پہلے برصغیر میں جو ہماری قوم تھی اور مسلم کہلاتی تھی اس نے انگریزی سامراج اور برہمن راج دونوں سے چومکھی لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔ اس عزم پر ڈٹ گئی تو رجل رشید بھی ہمارے درمیان پیدا ہوگیا جس نے ڈگمگاتی ناؤ کو ساحل پر لاکھڑا کیا مگر اس کے بعد کوئی اس کی جگہ نہ لے سکا۔۔۔ خلا وجود میں آیا تو یکے بعد دیگرے مارشل لاؤں کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی گئی۔۔۔ انہی مساعی کے نتیجے میں آئین لپیٹ کر رکھ دیئے گئے۔۔۔ جمہوری روایات کا تیا پانچہ کرنے کا عمل تیزی سے شروع ہو گیا۔۔۔ مگر یہ طریق ہائے حکمرانی بری طرح ناکام ہوئے۔۔۔ ثمر ان کا ملک کے ٹوٹ جانے کی صورت میں قوم کو ملا اور فوج کے بہادر سپاہی دشمن کے آگے ہتھیار پھینک دینے پر مجبور ہو گئے۔۔۔ لہٰذا بار بار کے ناکام تجربات کے بعد مارشل لاء لگانے کی ہمت تو اب کسی میں نہیں رہی مگر حکومت کی باگیں بھی حقیقی معنوں میں قوم کی صحیح طور پر منتخب نمائندوں کے ہاتھوں میں دینے کا یارا وہ اپنے اندر نہیں پاتے۔۔۔ کٹھ پتلیوں کو لانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔۔۔ ایک نیم مارشل لاء کی سی کیفیت ہے جس سے آج ہم دوچار ہیں اور معلوم نہیں کب تک رہیں گے۔۔۔ کیا یہ ملک اسی مقصد کی خاطر قائم کیا گیا تھا۔


ای پیپر