بے خبری اچھی نہیں
05 دسمبر 2018 2018-12-05

حاکم وقت کیلئے اتنی بے خبری اچھی نہیں ہوتی۔

وزیر اعظم عمران خان کے انٹرویو نے کھلبلی مچا کر رکھ دی۔ میڈیا کی صفوں میں بھی اور سیاسی ڈرائینگ روم بھیَ ایسے انٹر ویو ز کا مقصد حکومت وقت کو در پیش مسائل عوام کے ذہنوں میں سوالات کا جواب دینا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے وزیرا عظم کیلئے یہ تو ممکن نہیں ہوتا کہ وہ ہر ووٹر کے سوالوں کا براہ راست جواب دیں۔ لہٰذا ایسے میڈیا انٹریکشن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے اس انٹرویو نماپریس کانفرنس سے ابہام،اضطراب، بے چینی میں اضافہ ہوا۔ عوام کے ذہنوں میں کنفیوڑن دور ہونے کے بجائے سیاسی فضا کی گھمبیرتا میں اضافہ ہوا ہے۔ عوام کے ذہنوں میں نئے سوالات نے جنم لیا ہے۔ ویسے تو یہ انٹرویو نما پریس کانفرنس کی کمپوزیشن بھی انوکھی نوعیت کی تھی۔ پانچ مختلف چینل سے تعلق رکھنے والے چنداینکروں کو ایک چھت تلے جمع کیا گیا۔ آغاز،اختتام یعنی انٹر ویو وائنڈ اپ پی ٹی وی کے سینئر میزبان نے کیا۔کئی گھنٹے پر مشتمل انٹر ویو نما پریس کانفرنس میں باقی ماندہ چھ اینکروں نے سوال جواب کیے۔ یہ تو ممکن ہے کہ اینکروں کے انتخاب میں ذاتی پسند، نا پسند کا خیال رکھا گیا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس بات کی بھی احتیاط برتی گئی ہو کہ صرف ان اینکروں کو دعوت دی جائے جو ہم خیال ہوں۔ لیکن ایمانداری کی بات ہے کہ اکثریت نے صحافت کا حق ادا کیا۔ ہر وہ سوال جرا ت مندانہ انداز میں پوچھا گیا۔جو عوام کے ذہنوں میں موجود تھا۔ جواب کیا کیساآیایہ الگ بحث ہے۔ میزبان کی مرضی ہے کہ وہ اپنے گھر میں کس کو بلاتا ہے۔ لیکن وزیر اعظم کسی ایک گروپ،چینل یا اخبارکی ملکیت نہیں ہوتا۔تمام قابل ذکر نجی چینل، اخبارات کا حق ہے کہ ان کو حاکم وقت تک رسائی حاصل ہو۔صرف چند افراد کے سامنے جلوہ نمائی،چند افراد کو اعلیٰ ارفع دوسروں کو کمتر اور حقیرگرداننے کے مترادف ہے۔ ایسی امتیازی پالیسیوں سے مثبت پبلک ریلیشنگ کی بجائے منفی رویے پیدا ہوتے ہیں۔ خبر تک رسائی کا حق سب کو۔ بہر حال ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا۔ اگر کل تک ایک چینل لاڈلہ تھا تو تاثر یہ ہے کہ کوئی دوسرا چینل آج آنکھ کا تارہ ہے۔ ایسے میں وہ اخبارات،چینل، کالم نگار،اینکر کدھر جائیں جو پیشہ ورانہ اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے غیر جانبدار رہ کر اپنی ذمہ داریاں اداکرتے ہیں۔ امید ہے کہ وزیر اعظم کی میڈیا ٹیم آئندہ اس امر کو ملحوظ خاطر رکھے گی۔ ان چینلوں کا شکر گزار ہو گی جنہوں نے مدعو نہ ہونے کے باوجود اس انٹر ویو کو ائر ٹائم دیکر عوام تک پہنچایا۔ بہر حال شکوے شکایتو ں سے آگے بڑھتے ہیں۔ وزیر اعظم کے اس خطاب نے سیاسی ڈرائینگ روموں میں اچانک کھلبلی مچا دی ہے۔ اب یہ موضوع بحث، اقتصادیات،ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت نہیں بلکہ وزیر اعظم صاحب کے گلے شکوے شکایتیں ہیں۔ جی 

ہاں براہ راست شکایت۔جناب وزیر اعظم عمران خان نے مڈ ٹرم الیکشن کی جانب جو اشارہ دیا ہے۔ اس کی بیک گراؤنڈ ہے۔عمران خان کوئی بات لگی لپٹی نہیں رکھتے۔ الفاظ کی جگالی بھی نہیں کرتے۔ویسے تو آئین پاکستان کی رو سے مڈ ٹرم یا قبل از وقت انتخابات ممکن ہیں۔ لیکن ہماری تاریخ میں سوائے اس کے صدارتی حکم نامے کے تحت اسمبلیاں ٹوٹتی رہیں۔ اور قبل از وقت ا نتخابات ہوتے ر ہے۔ لیکن کبھی کسی حکومت نے اپنی اسمبلی خود ختم نہیں کی۔ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو یہ ایک غیر معمولی واقع ہو گا۔ ایک ایسے وزیراعظم کو جس نے اپنی منزل کے حصول کیلئے بائیس سال جدوجہد کی وہ اپنے اقتدار کے پہلے تین ماہ میں یہ اشارہ دینے پر یوں مجبور ہوا کہ وسط مدتی انتخابات کی بات کر دی۔ وزیراعظم نے یہ بات آن دی ریکارڈ تو پہلی مرتبہ کی۔ مسئلہ یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کامل اقتدار پر یقین رکھتے ہیں۔کرکٹ ٹیم کے کپتان، شوکت خانم کی سر براہی ان سب معاملات میں انکا کہا گیا لفظ حرف آخر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس طرز فیصلہ سازی نے ا ن کو خیرہ کن کامیابیوں سے نوازا ہے۔ لیکن اقتدار ذرا مختلف قسم کی فیلڈ ہے۔ آئین،قانون، قاعدے، ضابطے کسی کو کامل اقتدار کا مالک نہیں بناتے۔جناب عمران خان کے ذہن میں تبدیلی کیلئے جو نقشہ ہے اس کیلئے قانون سازی درکار ہے۔ مشکل یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس مرکز اور دو صوبوں میں حکومت ہے۔ مرکز میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت اتحادیوں کا ووٹ حاصل کر کے بھی چند ووٹوں کی اکثریت سے قائم ہے۔پنجاب میں ان کی حکومت بھی اتحادی ہے۔ اور فرق صرف چند ووٹوں کا ہے۔صر ف خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کے پاس واضح اکثریت ہے۔ سینیٹ میں بھی ایسی صورتحال ہے۔ جہاں اپوزیشن کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ اوپر سے ابھی تک حکومت قائمہ کمیٹیاں قائم نہیں کر سکی۔ضدی رویہ کے سبب ڈیڈ لاک کی سی کیفیت ہے۔ عام انتخابات سے پہلے پی ٹی آئی کا اندازہ تھا کہ ان کو ڈیڑھ سو کے قریب قومی اسمبلی کی سیٹیں ملیں گی۔ 2013 کے انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کو انتخابی سونامی برپا ہونے کا کامل یقین تھا۔ توقعات پوری نہ ہوئیں تو دھاندلی تحریک نے جنم لیا۔ 2018 کے عام انتخابات ہوئے۔ نتائج سامنے آئے پی ٹی آئی کے سرگودھا سے امیدوار جو عمران خان کے بہت فیورٹ تھے۔ الیکشن ہار گئے۔ بنی گالہ پہنچے تو عمران خان نے کہا کہ ہماری 25 نشستیں کم ہیں۔ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ ان کا گلہ کس کے ساتھ تھا قلم کار کو تو معلوم نہیں ۔کچھ عرصہ قبل صحافیوں اور مالکان کی تنظیم کے وفد کے ساتھ میٹنگ میں جناب عمران خان نے ذرا مختلف الفاظ میں یہ شکوہ دیدیا۔یہی بات جناب وزیراعظم نے اپنی پسند کے اینکروں کے ساتھ ذرا کھل کر کی ہے۔ اسی ملاقات میں وزیراعظم نے ایک نہایت عجیب و غریب بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اسمبلی سے قانون سازی کی بجائے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قانون نافذ کرینگے۔ وزیراعظم کو معلوم ہونا چاہیے کہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قانون کا اجراء نا پسندیدہ طرز عمل سمجھا جاتا ہے۔ ویسے بھی یہ آر ڈیننس عارضی مدت کیلئے نافذ ہوتا ہے۔ جناب وزیراعظم کا دوسرا شکوہ نیب سے ہے جس کے متعلق ا ن کا دعوی ہے کہ مقدمات کو حتمی شکل اور سزا کے مرحلے تک پہنچنے کی شرح صرف سات فیصد ہے۔ نیب کے متعلق شکوہ وہ سو روزہ تقریب سے خطاب میں بھی کر چکے ہیں۔ جبکہ نیب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ شرح 80 فیصد سے بھی زائد ہے۔ جناب وزیراعظم اپنی کابینہ سے بھی مطمئن نہیں ۔ اینکروں سے ملاقات میں انہوں نے بعض وزراء کی چھٹی کا اشارہ بھی دیا۔ میرا نہیں خیال کہ موجودہ صورتحال میں وہ کسی وزیر کو تبدیل کر پائیں۔ اتنی کم اکثریت کے ساتھ اتنے بڑے سیاسی فیصلے ممکن نہیں ہوتے۔ وزیراعظم نے بے خبری ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سٹیٹ بنک نے اپنے طور پر روپیہ کی قیمت میں کمی کی۔ انکو پتہ بھی ٹی وی دیکھ کر چلا۔ سٹیٹ بنک کی وضاحت آئی کہ وہ ڈیویلیوایشن وفاقی وزیرخزانہ کو اطلاع دیکر نوٹیفائی کرتے ہیں۔ حاکم وقت کیلئے اتنی بے خبری اچھی نہیں ہوتی۔ وزیراعظم صاحب کو گلے شکوے کرنیکی بجائے اطلاعات کے حصول کا نظام بہتر بنانا چاہیے۔ وہ پانچ سال کیلئے بر سر اقتدار آئے ہیں۔ ابھی تو ٹیک آف کا ٹائم ہے۔ اتنی جلدی لینڈنگ کی باتیں مناسب نہیں ۔ 


ای پیپر