گورنر ہاؤس کی ’’دیوارِ گریہ‘‘ اور اصل قومی مسائل
05 دسمبر 2018 2018-12-05

کل سے پورے ملک میں سوگ کا سماں ہے اور صف ماتم بچھی ہوئی ہے کہ ہمارے پیارے گورنر ہاؤس کی دیواریں منہدم کی جا رہی ہیں یہ تو ہماری قومی وراثت ہے اور یہ قومی ورثہ قائم رہنا چاہیے۔ اس میں آثار قدیمہ کے قوانین نکال لیے گئے اور ساتھ ہی اگلے دن عدالت کی طرف سے اس فیصلے پر سٹے آرڈر جاری ہو گیا ۔ ایک اور طبقے کا غم و غصہ اس پر ہے کہ دیوار گر اکر جو کروڑوں روپے لوہے کی گرل لگانے پر خرچ ہوں گے وہ وسائل کا ضیاع ہے حالانکہ صوابدیدی فنڈ اور گورنر ہاؤس کے بجٹ میں کی جانے والی نئی حکومت کی کٹوتی کے بعد گورنر ہاؤس اپنے فنڈز سے ہی یہ کروا سکتا ہے جس کا مقصد مال روڈ کی خوبصورتی میں اضافہ کرنا اور سیاحت کا فروغ ہے اس مقصد کے لیے تو یہ پیسہ اگر میونسپل گورنمنٹ کے فنڈ سے بھی خرچ کر دیا جائے تو کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے لیکن یوں لگتا ہے کہ تمام دیگر قومی مسائل حل ہو چکے ہیں اور اس وقت سب سے سنگین مسئلہ جو 22 کروڑ عوام کی زندگیوں کو داؤ پر لگائے ہوئے ہے وہ گورنر ہاؤس کی دیوار ہی ہے۔ ہمیں گورنر ہاؤس کی دیوار کو نظر انداز کر کے ان دیواروں پر توجہ دینا چاہیے جن کی وجہ سے پورا ملک ایک زندان خانہ بنا ہوا ہے مگر کرپشن، منی لانڈرنگ، رشوت ستانی اور ناقص طرز حکمرانی کی دیواریں نظر نہیں آتی اور ہماری نظریں گورنر ہاؤس کی دیوار پر آ کر ٹھہر گئی ہیں۔ کہتے ہیں کہ جب تاتاریوں نے بغداد پر حملہ کیا اور وہاں مسلمانوں کے سروں کے مینار کھڑے کرنا شروع کیے تو عین شہر کے مرکزی چوک میں مسلمانوں کے درمیان وقت کے ثقہ بند علماء اور مفتیان کے بیچ اس بات پر مناظرہ جاری تھا کہ کوا حلال ہے یا حرام۔ کسی مفتی نے یہ فتویٰ نہیں دیا کہ جب آپ کے ملک پر حملہ ہو رہا ہو تو اس وقت مناظرے کرنے کی بجائے میدان عمل میں آنا چاہیے۔ 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ہیجان خیز کیفیت اور سنسنی خیزی کا ذمہ دار کون ہے جب ملکی خزانہ سوٹ کیسوں میں بھر کر باہر لے جایا جا رہا تھا یہ کراچی سے لانچوں کے ذریعے کرنسی اور ڈالر دبئی پہنچائے جاتے رہے تو اس وقت پوری قوم خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی گویا روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ احمد فراز نے کہا تھا: 

ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے

خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے

لہٰذا اگر گورنر ہاؤس کی دیوار نہ بھی گرائی جا رہی ہوتی تو بھی میڈیا کا رخ گویا کہیں اور ہوتا اس موقع پر مجھے نیو یارک ٹائمز جیسے دنیا کے معتبر ترین اخبار کے ایک سابقہ چیف ایڈیٹر جان سونٹن کی ایک تقریر بڑی شدت سے یاد آ رہی ہے جو انہوں نے صحافیوں کے اجلاس کے اختتام پر کی تھی جس کا عنوان تھا: We are intelectual prostituties ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ امریکہ میں تاریخی طور پر آزاد صحافت ایک بہت بڑا جھوٹ ہے۔ یہ میں بھی جانتا ہوں آپ سب جانتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی اپنی Honest opinion رقم کرنے کی جرأت نہیں رکھتا۔ اگر آپ ایسا کرنا چاہیں بھی تو آپ نہیں کر سکتے۔ مجھے اس بات کی تنخواہ دی جاتی ہے کہ میں اپنے اندر کی آواز کو اپنے اخبار کے صفحات سے دور لاکھوں۔ آپ بھی اپنے اپنے اداروں سے اسی بات کی تنخواہ لیتے ہیں۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہم گلیوں میں بھٹک رہے ہوں گے۔ 

جب سے میں نے جان سونٹن کی تقریر کے اقتباسات پڑھے ہیں میں پاکستانی میڈیا کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتا۔ جب ہر کوئی اپنا اپنا تفویض کردہ رول ادا کر رہا ہے تو صحافی بھی تو اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ 

عمران خان کے 100 روزہ کارکردگی کے اعلان میں انہوں نے اپنی ڈائریکشن متعین کرنے سے متعلق قوم کو آگاہ کیا اس میں بہت سی اچھی چیزیں بھی تھیں لیکن میڈیا نے سارا کچھ چھوڑ کر مرغی اور انڈے کو پکڑ لیا اور اس کا خوب تمسخر اڑایا۔ عمران خان کو بھی یہ بات اس فورم پر نہیں کرنی چاہیے تھی یا چاہیے تھا کہ متعلقہ وزارت کے ذریعے غربت مٹانے کا یہ پروگرام پیش کیا جاتا مگر بات پھر وہی ہے کہ خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے۔ لہٰذا انہوں نے کوئی اور بات کا بتنگڑ بنا لینا تھا۔ 

اگر ایک لمحہ کے لیے ایمانداری سے سوچیں کہ جب دسمبر کی یخ بستہ راتوں میں آپ اپنی نرم گرم خواب گاہوں میں ہوتے ہیں تو آپ کے کانوں سے 10 سالہ بچے کی آواز ٹکراتی ہے ’’گرم آنڈے‘‘ تو یہ ہمارا سینہ چیر کر رکھ دیتی ہے۔ گلی میں انڈہ فروش بچے کی ماں نیم شب تک اپنے لخت جگر کا انتظار کرتی ہے کہ آج کتنے انڈے فروخت ہوئے ہیں تا کہ وہ اپنے کھانے کا بندونست کر سکیں۔ اگر رورل ایریاز میں اس طرح کی فیملیز کے لیے مرغی اور انڈے کے کاروبار کے فروغ کے لیے کوئی قومی سطح کا پراجیکٹ لانچ کیا جائے تو اس میں غلط کیا ہے۔ 

بنگلہ دیش میں ڈاکٹر محمد یونس کا نام تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رقم ہو چکا ہے کیوں ملک سے غربت کے خاتمے کے لیے اس نے گرامین بینک کی بنیاد رکھی اور دیہاتی عورتوں کو بلا سود اور بلا ضمانت قرضے دینے شروع کیے یہ مائیکرو فنانس یعنی چھوٹے چھوٹے قرضے تھے۔ ڈاکٹر یونس کا یہ چیلنج ہے کہ وہ اپنے ملک سے غربت کا خاتمہ کریں گے اور ایک وقت آئے گا کہ غربت آپ کو میوزیم میں رکھی چیز کے طور پر پیش کیا جائے گا اس نے خواتین کو سلائی مشینز، بکریاں پالنا اور اس طرح کے چھوٹے چھوٹے کام شروع کروائے ڈاکٹر یونس کو گرامین بینک کے کارنامے پر امن کا نوبل پرائز دیا گیا۔ پاکستان میں ڈاکٹر امجد ثاقب کی تنظیم اخوت فاؤنڈیشن گرامین بینک کے خطوط پر ہی کام کر رہی ہے۔ لہٰذا عمران خان کے مرغی اور انڈے کی بات کا مذاق اڑانا بہت بڑی نا انصافی ہے۔ 

ابھی کل رات عمران خان نے ٹی وی پر سینئر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کی ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ملک کا وزیراعظم گورننس کے اوپر میڈیا پر آ کر ایک ایک بات کا برجستہ جواب دے رہا تھامگر اس کے باوجود سیاق و سباق کو چھوڑ کر ایسی بات نکال لی جاتی ہے جو اگلے کئی دنوں تک میڈیا کے لیے مرچ مصالحہ بنی رہتی ہے۔ کل رات کی میڈیا بریفنگ میں انہوں نے بڑی مدلل باتیں کیں جن میں سے کسی ایک کو بھی endorse نہیں کیا گیا البتہ جب سرائیکی صوبے کی بات ہوئی اور اس میں ضمناً عمران خان نے مڈٹرم الیکشن کی بات کی تو اس کو سب سے بڑی خبر بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ مڈٹرم الیکشن صوبائی بات ہو رہی ہے کہ اگر پنجاب کے دو صوبے بنائے گئے تو پھر صوبائی الیکشن دوبارہ کروانے کی ضرورت پیش آئے گی۔ اب پوری قوم یہ سمجھ رہی ہے کہ شاید الیکشن دوبارہ ہو رہے ہیں۔ 

جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے


ای پیپر