”عمران خان کُچھ بھی کر سکتے ہیں“
05 دسمبر 2018 2018-12-05

وزیراعظم عمران خان نے اپنے سیاسی نظریے اور حکمت عملی سے اتفاق رکھنے والے کچھ سینئر اینکرز اور صحافیوں سے ملاقات میں کہا کہ وہ قبل از وقت انتخابات کی طرف بھی جا سکتے ہیں، یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب ان کی حکومت کو ابھی تین، ساڑھے تین ماہ ہی مکمل ہوئے ہیں اوروہ سو دنوں میں تبدیلی کے لئے اپنے ہی اعلان کردہ پروگرام میں ناکامی پر بھرپور تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ سوال جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے حوالے سے تھا جس میں نشاندہی کی گئی تھی کہ اگر آپ نے پنجاب کو دو حصو ں میں تقسیم کردیا تو وسطی اور شمالی پنجاب میں آپ کی اکثریت برقرا رنہیں رہے گی کہ اس وقت تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ( اور مرکزی بھی ) ان دو قسم کے ارکان اسمبلی کی وجہ سے قائم ہے جنہوں نے دباو¿ کا سامنا کرنے کے بجائے ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے تحریک انصاف کے ساتھ جانا پسند کیا یا آزاد حیثیت میں منتخب ہونے کے بعدحکومتی جماعت کا حصہ بن گئے، ان میں وہ بہت اہم ہیں جنہوں نے جنوبی صوبہ محاذ بنایا اور مسلم لیگ نون سے بلوچستان کے مستقل محرومی والے آزمودہ فارمولے کے تحت بغاوت کر دی۔ کہاجا رہا ہے کہ جنا ب عمران خان نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی صورت صوبے میں اکثریت ختم ہونے کے سوال پر مسکراتے ہوئے قبل از وقت انتخابات کا عندیہ دیا۔

حکمران جماعت کے طے شدہ یوٹرن کے سیاسی فلسفے کے تحت اس بیان سے کسی بھی وقت واپسی بھی ہو سکتی ہے مگر کیا گورننس میں اناڑی ثابت ہونے والے یہ نہیں جانتے کہ ایسے بیانات ملکی معیشت کے لئے تباہ کن ہیں، وہ معیشت جو تیزی سے زوال پذیر ہے، روپے کی قدر گرتی جار ہی ہے اور شرح سود کے ساتھ ساتھ افراط زر یعنی مہنگائی میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ وزیراعظم نے تین مہینے بعد ہی ایسا بیان دے دیا جس بیان کی توقع، علم سیاسیات کے تحت سیاسی استحکام کی اہمیت کو سمجھنے والے طالب علم، کسی آئینی اور قانونی حکمران سے تین برس بعد بھی نہیں رکھتے۔درست کہ اپوزیشن حکومت کو گرانا نہیں چاہتی کہ پیپلزپارٹی کے پاس سسٹم میں اپنا شئیر موجود ہے اور جانتی ہے کہ فی الوقت اسے اس سے زیادہ کچھ نہیں مل سکتا اور نواز شریف ایک مرتبہ پھر ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اچھے بچے بننے کی کوشش کر رہے ہیں ، یقین ہے کہ وہ حکومت گرانے کی بدتمیزی سے گریز کرتے ہوئے اپنے اچھے روئیے سے سزا میں تخفیف کے مستحق ٹھہریں گے جو ہمارے مینوئلز کا حصہ ہے۔

صورتحال یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانا یا نہ بنانا ہردوصورت تحریک انصاف کے لئے مشکل ہے مگر مجھے جناب عمران خان کو کریڈٹ( یا ڈس کریڈٹ) دینا ہے کہ وہ نتائج کی پروا کئے بغیر مشکل فیصلے آسانی سے کر لیتے ہیں ۔انہوں نے اقتدار کے حصول کے لئے نظریات سے پھرنے کامشکل ترین فیصلہ کیا اور قدرت نے انہیں ایسے فالوررز اور ورکرز سے نوازا ہے جوایسے یوٹرنز کابھی قطعی برا نہیںمناتے۔ اب ایک مشکل یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے صوبہ بننے کا عمل شروع ہونے کے ساتھ ہی خیبرپختونخوا اور سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کا پنڈورا باکس بھی کھل جائے گا مگر اس پنڈورا باکس سے پہلے بھی ایک مسئلہ ہے کہ بہاولپور کا سٹیٹس کیا ہوگا۔ کیا ریاستی زبان بولنے والوں کا بہاولپور سرائیکی زبان بولنے والوں کے صوبے کا حصہ ہو گا، جنوبی پنجاب کا دارلحکومت ملتان ہو گا یا بہاولپور۔ دوسری جماعتیں تو ایک طرف رہیںخود حکمران جماعت میں یہ مسئلہ شدید اختلافات کا شکار ہے۔اگرآپ یہاں پر ان سیاستدانوں کے بارے سوچ رہے ہیں جنہوں نے مسلم لیگ نون سے بغاوت کرتے ہوئے جنوبی صوبہ اتحاد بنایا تھا اور وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ اپنے ’ اصولی‘ موقف کی خاطر کوئی بغاوت کر سکیں تو فی الوقت ا یسا کوئی امکان نظر نہیں آتا، انہیں اپنے مو¿قف پر ہی گزارا کرنا پڑے گا۔

کیا وزیراعظم کے بیان کا یہ مطلب لیا جائے کہ جب وہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنائیں گے تو ان کی مقبولیت اتنی بڑھ جائے گی کہ وہ (کم از کم پنجاب میں) دوبارہ انتخابات کرواتے ہوئے شمالی اور وسطی حصے سے بھی اکثریت حاصل کر لیں گے۔ میںاندازہ لگا سکتا ہوں کہ حکمران جماعت کے اندر شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ایسا تاثر دے سکتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف سو دنوں( یااس کے بعد سو ہفتوں) کی ناقص کارکردگی کے باوجود اپنے حلیفوں کی مدد سے پہلے سے بھی بڑی کامیابی حاصل کر سکتی ہے ۔ گورننس کے میدان میں عملی صورتحال یہ ہے کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن ہو یا موٹرسائیکل پر سوار خواتین سمیت تمام افراد پر ہیلمٹ پہننے کی پابندی ہو، یہ تمام اقدامات عدالتوں کے حکم پر کئے جا رہے ہیں اور جو معیشت حکمرانوں کے اختیار میں ہے وہاں بدترین حالات کا سامنا ہے۔مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ پاکستان اپنی تاریخ کا ( اپنی اپنی خواہش کے مطابق بدترین یا بہترین) جوڈیشئل ایکٹو ازم دیکھ رہا ہے۔ ایک طویل عرصے سے بیوروکریٹوں پر مشتمل انتظامیہ براہ راست عدالتوں کو جوابدہ ہے جبکہ( مسلم لیگ ن کے بعد اب) پی ٹی آئی کے وزراءبھی بیانات ، پروٹوکول اور دفاتر کے مزے لے رہے ہیں۔ موجودہ حکمرانوں کے کریڈٹ پر اس وقت تک شیلٹر ہوم کے سوا کچھ بھی نہیں اور بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ان شامیانوں میں بھی محنت کشوں کے بجائے انہی نشئیوں کا زیادہ قبضہ ہے جو داتا دربارسے پیر مکی اور لوہاری کے درمیان فٹ پاتھوں پر پڑے ہوئے ملتے تھے۔ اس ناکامی کو گورنر ہاو¿س کی دیواریں گرا کے پانچ کروڑ اسی لاکھ روپے سے جنگلے لگادینے کے نام نہاد انقلابی اقدامات سے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔کبھی اپوزیشن نان ایشوز کو ایشوز بنایا کرتی تھی، یہ وہ حکومت ہے جو یہ کام خود کر رہی ہے۔

اگر وزیراعظم یہ سمجھتے ہیں کہ پچیس جولائی کو ہونے والے انتخابات کے ری پلے میں دوبارہ سلیکٹ ہوسکتے ہیں جو پاکستان کے معروضی حالات میں ناممکن بھی نہیں تو وہ یقینی طور پر قبل ازوقت انتخابات کا بڑافیصلہ کر سکتے ہیں مگر اس کے نتیجے میں بھی کوئی بہتری نہیں آئے گی بلکہ وطن عزیز کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میں جانتا ہوں کہ عمران خان اس قسم کا قدم اٹھا سکتے ہیں کیونکہ باخبر صحافیوں کے مطابق وہ اس سے پہلے دو مرتبہ استعفا دینے کی دھمکی دے چکے ہیں۔یہ حکومت عمران خان کی ہے جو اگر نواز شریف پر مودی کا یار ہونے کا الزام لگاتے ہوئے یک طرفہ طور پر کرتار پور راہداری کھولنے کا گناہ ِبے لذت کر سکتے ہیں تو ان سے اپنے بیان سے پھرنے اور قبل از وقت انتخابات کی ضد کرنے سمیت کوئی بھی توقع کی جا سکتی ہے۔


ای پیپر