ٹرمپ کا معاندانہ رویہ اور پاک امریکہ تعلقات
05 دسمبر 2018 (00:08) 2018-12-05

امتیاز کاظم:

امریکی عوام کو داد دینا پڑتی ہے کہ اپنے آپ کو صف اوّل کی قوم سمجھنے والوں نے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے آدمی کو صدر چُن کر دُنیا پر مسلط کردیا ۔ ایسا صدر جسے ہر لمحہ یہ ڈر اور خوف رہتا ہے کہ کسی کیمرے کی زد میں اُس کی بیوی اُس کا ہاتھ نہ جھٹک دے۔ ٹرمپ ٹاور کی سب سے اُوپر والی منزل پر بیٹھ کر اس کے ڈسکو فواروں کا نظارہ کرنے والے کو کیا پتہ کہ بم دھماکے کی آواز کتنی ہولناک ہوتی ہے اور جنگ بذاتِ خود کتنی ہولناک ہوتی ہے۔ یہ میڈیا کا ایکٹر پینٹاگون میں کہاں سے گھس گیا۔ فاکس نیوز کو 18نومبر کو انٹرویو میں ”ارشاد“ فرما رہے ہیں کہ ”پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی کوئی مدد نہیں کی اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مختص فنڈز میں سے تین سو ملین ڈالرز کی فوجی امداد تو ایک طرف اب ہم پاکستان کو ایک ڈالر بھی نہیں دیں گے“۔ محدود سوچ رکھنے والے انسان سے یہی تواقع کی جاسکتی ہے۔

بد اعتماد امریکہ سے ہم اُس وقت سے واقف ہیں جب اس نے بحری بیڑہ بھیجنے کا کہا تھا جو آج تک نہیں پہنچ سکا اور پاکستان اس بداعتماد سے پتہ نہیں کیوں دوستی رکھنا چاہتا ہے۔ دوستی تو برابر والے کے ساتھ ہوتی ہے، مجھے تو یہ دوستی ایسے ہی لگتی ہے جیسے مربعوں کے مالک ایک چوہدری کا ملازم اُس کے پاس بیٹھا ہوتا ہے لیکن چوہدری چند کنال والے زمیندار کو کہتا ہے ”یار پانی تو پلا دو“ اور اُس چھوٹے زمیندار کو چوہدری کو پانی پلانا پڑتا ہے اور وہ زمیندار گھر جا کر بڑے فخر سے بتاتا ہے کہ آج چوہدری نے مجھے دوست/ یار کہا ہے۔ امریکی صدر کا یہ بیانیہ 18نومبر کا ہی نہیں بلکہ وہ ایسے ارشادات کئی دفعہ فرما چکے ہیں۔ جنوری 2016ءکا بیانیہ دیکھ لیں یا 22 اگست 2017ءکا۔ 26 اپریل کا بیان دیکھ لیں یا اب حالیہ ملاحظہ فرما لیں۔ فاکس نیوز ٹرمپ کا پسندیدہ چینل ہے جس پر وہ بیانات توپ کی طرح داغتے رہتے ہیں جب کہ سی این این کے رپورٹر ”جم اکوکسٹا“ کو 7 نومبر کو وائٹ ہاﺅس میں ٹرمپ کے ساتھ الیکشن چھیڑخانی پر، اُس کا وائٹ ہاﺅس میں داخلہ بند کرنا سی این این سے اظہارِ نفرت ہے اور انہیں یہ فیصلہ عدالت کی مداخلت پر منسوخ کرنا پڑا۔

بہرحال پاکستان کی امداد سے انکار کی باتوں کو ٹرمپ کے اپنے ہی محکمہ خارجہ نے مسترد کر دیا ہے۔ دُنیا پوچھ رہی ہے اب حالیہ دور میں ہی اگر پاکستان نے مدد نہیں کی تو امریکہ کا سامانِ حرب کیسے پہنچ رہا ہے جب کہ افغانستان کے ساتھ لگنے والی سرحد اگر ایران کی ہے تو ”محترم ٹرمپ “ اُن سے بگاڑ کر بیٹھے ہیں۔ روس یا چین کے ساتھ لگنے والی سرحد سے بھی سامان نہیں جا سکتا، اُن سے بھی بگڑی ہوئی ہے۔ ہوائی راستے سے ایک ڈبل روٹی بھی سینکڑوں ڈالرز میں پہنچتی ہے تو پھر امدادی سامان کیسے جا رہا ہے۔ اگر پاکستان نے کچھ نہیں کیا۔ پھر دوسری بات کہ امریکی تاریخ کی لمبی ترین اور مہنگی ترین جنگ پاکستان کی مدد کے بغیر سترہ اٹھارہ سال کیسے لڑی جب کہ واحد آسان زمینی راستہ صرف پاکستان کی طرف سے ہے۔ اگر کسی اور طرف سے راستہ آسانی سے دستیاب تھا تو اس طرف سے لے لیا ہوتا۔ عقل مند بش نے پاکستان کو راستہ نہ دینے کی صورت میں ”پتھر کے دور میں پہنچانے“ کی بڑھک کیوں ماری تھی، ایسی صورت میں پاکستان نے بھی ٹھیک کیا، امریکہ کو سترہ سال خوب نچایا۔

امریکہ یہ یاد رکھے کہ اُس نے افغانستان سے فوج ہر صورت میں نکالنی ہے، ایسے میں اُسے پاکستان کی مدد کی ضرورت پھر پڑے گی۔ خود کو عقل مند ترین سمجھنے والے ٹرمپ یاد رکھیں کہ تمہاری فوج کا پاکستان کی مدد حاصل نہ ہونے کی صورت ”تورا بورا“ بن جائے گا۔ افغانی تقریباً40 سال سے آپریشنل ہیں کیونکہ وہ 1979ءسے پہلے کے حالت جنگ میں ہیں اور مسلسل ہیں جب کہ ”آپ جناب“ اپنی جنگ کو ”ٹھیکے“ پر ”بلیک واٹر“ کو دینے پر تُلے بیٹھے تھے ۔ ٹھیکیدار یقینا سٹیٹ ایجنسی کا کاروبار کرنے والے ٹھیکیدار ذہن کے ہی ہوتے ہیں۔ موجودہ امریکی صدر نے غالباً کبھی یہ کوشش نہیں کی کہ عالمی معیار کے بیانات داغنے سے پہلے اپنے مشیروں سے بریفنگ لے لیں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو پاکستان کے متعلق کبھی اس طرح کی ہرزہ سرائی نہ کرتے۔

ٹڑمپ کے اس بیان پر وزیراعظم پاکستان نے اُن کو حقائق سے روشناس ہونے کی تلقین کی تو جناب صدر بُرا مان گئے یعنی ”جان کہہ کر جو بلایا تو بُرا مان گئے۔ آئینہ اُن کو دکھایا تو بُرا مان گئے“۔ جناب صدر حقائق کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ 1873ءمیں شروع ہونے والی گریٹ گیم کا فیصلہ 1893ءمیں برطانیہ اور افغانستان کے درمیان کابل معاہدے کی صورت میں ہوا۔ ان سے پہلے سکندراعظم نے بھی یہاں پنجہ آزمائی کی کوشش کی، کچھ ہاتھ نہ آیا۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کو چھوڑتے ہوئے اگر ہم 1979ءمیں روس کی سُرخ فوج کا دریائے آموکراس کرتا۔ دیکھتے ہیں تو ہمیں ڈوبتے ہوئے فوجی نظر آتے ہیں جن کے ساتھ روس کا شیرازہ بھی بکھر گیا اور وہ 1989ءمیں یہاں سے بے نیل ومرام نکلی۔ نائن الیون کے بعد جنگی جنون کی ٹرائیکا یعنی صدر بش نائب صدر ڈِک چینی اور رمزفیلڈ صلیبی جنگ کا نعرہ لگا کر افغان دلدل میں کود پڑی۔ اب سترہ سال کے بعد اگر جناب صدر اپنی فوج نکالنا چاہتے ہیں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ”بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کُوچے سے ہم نکلے“ اور حد یہ کہ اب بھی ”جناب ٹرمپ “ کی خواہش ہے کہ طالبان سے معاہدہ ہوا اور ہماری فوج ”باعزت“ نکلے۔ ”ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے“۔

صدر نکسن نے بھی ویت نام کی جنگ میں 48 ہزار فوجی مروا کر بھی بڑی ڈھٹائی سے جنگ کو فتح قرار دے دیا تھا حالانکہ دُنیا جانتی ہے کہ امریکی فوج جوتے چھوڑ کر بھاگی تھی اور ہیلی کاپٹروں سے لٹک لٹک کر جان بچانے کی کوشش کی تھی۔ پھر بھی فوجی مارے گئے تو محترم صدر ٹرمپ آپ کی فوج نے بھی آخرکار افغانستان سے نکلنا ہے۔ کیا نکسن والا نعرہ لگا کر نکلنا چاہتے ہیں۔ پاکستان بڑا کام آئے گا۔ لینے کے دینے پڑ جائیں گے اور جان کے لالے بھی پڑ جائیں گے۔ ایک ٹریلین بہت بڑی/ خطیر رقم ہے جو افغان جنگ کی نذر ہو چکی ہے۔ سپرپاور کے صدر صاحب آپ نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے امریکی چیف منصوبہ ساز ”سٹیفن بانن“ سے یمن میں ” کاﺅنٹرٹیررازم آپریشن“ کے لیے نہ صرف مشاورت کی بلکہ امریکی ”سیل ٹیم 6“ نے باقاعدہ فوجی کارروائی بھی کر دی تھی جس میں آپ کا 75 ملین ڈالرز کا ہیلی کاپٹر تباہ ہوا اور فوجی بھی مارے گئے لیکن پھر بھی آپ نے کامیابی کا دعویٰ کیا۔

جناب صدر آپ نے شمالی کوریا کو بھی بڑی دھمکیاں دی تھیں اور کہا تھا کہ ہم طاقت کا استعمال کریں گے، یہ کون سی نئی بات ہے۔ امریکہ کے پاس صرف طاقت کی ہی زبان ہے جو وہ بول رہا ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ افغانستان میں طاقت کی زبان بھی ناکام ہے۔ 1994ءمیں صدر کلنٹن نے شمالی کوریا کے ساتھ ”فریم ورک ایگری منٹ“ کیا تھا لیکن صدر بش نے صدارت سنبھالتے ہی ”ایکسس آف ایول“ کا نعرہ لگا کر شمالی کوریا پر چڑھائی کر دی اور حالات بگاڑ کر رکھ دیے۔ افغانستان میں بھی اسی بش نے حالات بگاڑے اور ٹرمپ نے اپنے ملک میں میکسیکو سے حالات خراب کر لیے جس پر نیوکلیئر سٹرٹیجسٹ ولیم ہیری نے کہا تھا کہ ” ٹرمپ انتظامیہ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ روس کا بارڈر میکسیکو کا بارڈر نہیں“ اگر امریکہ صرف طاقت کی زبان ہی بولنا چاہتا ہے تو اب افغانستان میں ”مذاکرات“ کی زبان کیوں بول رہا ہے جہاں پر امریکہ کی بات نہیں مانی جاتی، وہاں پر ہی یہ جنگ مسلط کر دیتا ہے یعنی طاقت کی زبان اور یہ وطیرہ اس نے اپنی آزادی کے وقت سے اپنایا ہوا ہے۔

تھوڑا سا تاریخ کا جھروکہ کھول دیتا ہوں۔ امریکہ سپین کی ملکہ ازابیلا کی مالی امداد سے 12اکتوبر 1492ءمیں کرسٹوفر کولمبس (بمطابق تاریخ جو کہ متنازعہ ہے) کی مدد سے دریافت ہوا۔ ابراہیم لنکن کے بعد امریکہ سارے علاقے کا کنٹرول سنبھالنا چاہتا تھا یعنی لاطینی اور جنوبی امریکہ کا ، جس کے لیے اس نے کچھ علاقے اونے پونے خرید لیے، دھونس دھاندلی سے اور جہاں بات نہ بنی وہاں جنگ مسلط کر دی مثلاً کیوبا، سپین کی نوآبادی تھا، امریکہ نے اسے خریدنے کی کوشش کی، بات نہ بنی تو جنگ مسلط کر دی اور اسی کیوبا سے 1898ءمیں ”گوانتاناموبے“ 33 سالہ لیز پر حاصل کی تھی یعنی امریکہ ایک بہت بڑا قبضہ گروپ ہے جو دُنیا کے ممالک پر اور حکومتوں پر قبضہ کر رہا ہے اور دُنیا کو پُرامن نہیں رہنے دینا چاہتا ۔ موجودہ صدر جسے امریکی عوام خود نالاں اُسس کے بارے میں امریکی اب کیسی سوچ رکھتے ہیں یہ مڈٹرم الیکشن نے یہ ثابت کردیا۔ جن کے نتائج سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ امریکیوں کی اکثریت کے مطابق ٹرمپ حکومت سنبھالنے کے اہل نہیں ہیں۔ یہ تو ایک کاروباری اور رئیل سٹیٹ ڈیلر ہے جہاں اس کے مفادات ہوں گے وہاں ہی اس کا تعاون ہو گا مثلاً بھارت کے ساتھ ٹرمپ کارپوریشن کے 150ارب ڈالرز کے مفادات اور رئیل سٹیٹ ڈویلپرز کے ساتھ پارٹنرشپ ہے۔ بھارت کے شہر ”پونا“ میں ٹرمپ کا 23 منزلہ ٹاور ہے اور اس کے پارٹنرز ”اٹلی جورڈیا“ اور ”ساگر جورڈیا“ اپنی ذاتی کوششوں سے بھارت امریکہ مفادات کا کھیل کھیل رہے ہیں، ایسے لوگوں سے کیا گلہ کیجئے جن کی نیت کا اعتبار نہیں۔


ای پیپر