کرتا پور راہدری ۔۔۔خطے میں امن کی مشعل روشن ہو سکے گی ؟
05 دسمبر 2018 (00:04) 2018-12-05

حافظ طارق عزیز :

بالآخر 70سال بعد دو ”کھلاڑیوں“ کی کاوشیں رنگ لے آئیںاور کرتار پور بارڈر کو سکھ زائرین کے لیے کھولنے کے حوالے سے اقدامات کا آغاز کر دیا گیا۔ اور اسی سلسلے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے 28 نومبر کو کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر اعتراف کیا کہ پاک بھارت تعلقات کے معاملے میں دونوں طرف سے غلطیاں ہوئی ہیں، ماضی صرف سبق سکھانے کے لیے ہوتا ہے، ماضی کی زنجیرجب تک توڑیں گے نہیں، آگے نہیں بڑھ سکیں گے، ہمیں اچھے ہمسائیوں کی طرح رہنا ہے،کئی جنگیں لڑنے والے فرانس، جرمنی مل کر آگے بڑھ سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں، ہمارے سارے ادارے ایک پیج پرکھڑے ہیں۔ ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ بھارت میں سدھو پر تنقید کیوں ہوئی؟دو ملک جن کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں ان کا جنگ کے بارے میں سوچنا بیوقوفی ہے۔ سدھو پاکستان میں اتنے مقبول ہو گئے ہیں کہ وہ پاکستان آکر پنجاب میں الیکشن لڑیں گے تو جیت جائیں گے۔

خطابات اور شاعری کے دلدادہ سدھو بھی اس تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان آئے تھے، وہ بھی پیچھے نہ رہے اور صاف کہہ دیا کہ عمران خان نے ہماری جھولیاں بھر دیں، بابانانک کا فلاسفہ جوڑنے کا ہے توڑنے کا نہیں۔ خون خرابہ بند ہونا چاہیے، امن آنا چاہیے، پاک بھارت حکومتیں احساس کریں اور آگے بڑھیں۔

لیکن بھارت سرکار کی جانب سے اس معاملے میں شدید پریشانی سامنے آئی، اس حوالے سے جہاں بھارتی حکومت کو بھی اس حوالے سے خوش ہونا چاہیے تھا وہیں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا کہ کرتارپورراہداری کھلنے کا مطلب یہ نہیں کہ دوطرفہ مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر سرکاری نہیں ذاتی حیثیت میں کرتار پور کی تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔ ملکوں میں رابطے حکومت سے حکومت کے ہوتے ہیں، انفرادی نہیں۔

کرتار پور بارڈر سے آمدو رفت کے لئے ویزا ہو گا یا نہیں، یہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔ بھارت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کرتارپور میں واقع سکھ مذہب کے بانی بابا گررو نانک سے منسوب گرودوارہ ڈیرہ بابا صاحب سکھ برادری کے لیے انتہائی مقدس ہے اور دنیا بھر کے سکھ اس پیش رفت کے حوالے سے خوش اور پُر جوش نظر آتے ہیں۔

کرتارپور راہداری پر حالیہ بات چیت کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا تھا جب وزیراعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری میں آئے انڈین کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے اس بارے میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے بات چیت کی۔ پھر وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے اس بات کا باضابطہ اعلان کر کے انڈیا میں بسنے والے سکھوں کے ارمان جگا دیے۔ جب لوگوں سے لوگوں کے روابط بڑھتے ہیں، جب لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو تاثرات تبدیل ہوتے ہیں، یہ خطہ غربت میں جکڑا ہوا ہے، یہ خطہ جہالت کی نذر ہوا ہے۔ ہم نے یہاں تبدیلی لانی ہے، اور تبدیلی کہاں سے آتی ہے، ذہنوں سے آتی ہے، رویوں سے آتی ہے، تو کرتارپور کا یہ جو فیصلہ ہے، یہ ذہن کی تبدیلی ہے۔ یہ سوچ کی تبدیلی ہے، جو کہ دوریوں کو کم کرتی ہے اور قربت میں اضافہ کرتی ہے، اور کہتی ہے ہاں آئیے مل بیٹھیں۔ تنوع میں بھی اتحاد ہو سکتا ہے، مل کر رہ سکتے ہیں۔

اس حوالے سے انڈین کابینہ نے کرتار پور راہداری کو عملی شکل دینے کی منظوری بھی دے دی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ علاقائی امن و استحکام اور ہم آہنگی کا سفر صرف ایک راہداری تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ دونوں ممالک کو آگے بڑھ کر ایسی مزید بے شمار راہداریاں لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لئے قائم کرنی چاہیئں۔ تاریخ بتلاتی ہے کہ آج کی سپر پاور امریکہ کا معاشرہ بھی کسی زمانے میں کالے اور گورے شہریوں کے مابین سماجی تفریق کا شکار تھا، امریکی صدر ابراہام لنکن نے غلامی کا خاتمہ اور تمام شہریوں کو برابری کے حقوق یقینی بنا کر ملک کو ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن کر دیا۔ یورپی ممالک کی تاریخ ایک دوسرے کے خلاف جنگوں سے بھری پڑی ہے لیکن آج وہ یورپی یونین کی چھتری تلے متحد ہیں، شمالی اور جنوبی کوریا دونوں کے درمیان عوام کی بہتری کی خاطر دشمنی ترک کرنے پر اتفاق ہو چکا ہے۔

آج احترامِ انسانیت کا درس دینے والے باباگورونانک ہمارے درمیان موجود ہوتے تو یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ وہ بہت خوش ہوتے کہ ستر سال کے بعد آخرکار انڈیا اور پاکستان نے بھی عوام کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی ضرورت سمجھ لی ہے۔ اس بات سے قطعاً کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ اس تاریخی اقدام کا کریڈٹ دونوں اطراف کی سیاسی و عسکری قیادت کو جاتا ہے اور یہ امن کی راہداری وادی کشمیر کے منقسم خاندانوں کے لیے بھی امید کی کرن ثابت ہو گی۔

آج ہم سب کو مل کر خُدا سے دُعا کرنی چاہیے کہ کرتار پورکوریڈور عالمی امن اور مذہبی ہم آہنگی کے لئے کلیدی کردارکا حامل ثابت ہو، ایکوسِکھ نامی ایک امریکی این جی او گوردوارہ کرتارپور صاحب کے اردگرد 100ایکڑ پر مقدس جنگل قائم کرنے کی تجویز دے چکی ہے، اگر ایسا ہو جائے تو پاکستان مذہبی سیاحت کی بدولت دنیا بھر کے یاتریوں کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے، کرتارپور میں گورونانک انٹرنیشنل انٹرفیتھ ہارمونی سینٹر کا بروقت قیام دنیا کے دیگر فلاحی اداروں کی توجہ بھی حاصل کر سکتا ہے۔

بطور پاکستانی ہمیں کرتارپور راہداری قائم کرتے ہوئے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انڈیا میں بھی مسلمانوں کے بہت سے مذہبی مقدس مقامات بشمول اجمیر شریف موجود ہیں، ایک تاریخی درگاہ پاک بھارت سرحد سے ملحقہ بھارتی علاقے راجا تال میں قائم ہے، یہ درگاہ دو عظیم صوفی بزرگوں حضرت خدمت علی شاہ اور حضرت عظمت علی شاہ سے منسوب ہے، قیام پاکستان کے بعد تمام مسلمان آبادی ہجرت کر گئی، بعد میں پاکستانی علاقے سے زائرین درگاہ کی زیارت کے لئے آتے رہے لیکن بارڈر پر خاردار تاریں لگانے کے بعد پاکستانی زائرین کا داخلہ بند ہو گیا۔

یہ امر باعثِ دلچسپی ہے کہ آج اس تاریخی درگاہ کے سجادہ نشین اور زائرین سب کے سب غیر مسلم ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے جانے کے بعد بطور امانت درگاہ کے انتظامات سنبھالے ہوئے ہیں۔ لیکن بھارتی ہٹ دھرمی نے ہمیشہ اس عمل کو نقصان ہی پہنچایا ہے۔ بھارت کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اب اُسے ذاتی مفادات کے بجائے ملکی مفاد پر مذاکرات کرنے اور امن عمل میں حصہ ڈالنے والوں کا سامنا ہے لہٰذا اُسے مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔

اور ویسے بھی اس حقیقت کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ تنازعات ہمیشہ گفت و شنید سے ہی حل ہوا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس طرز عمل معاملات کو مزید پیچیدہ اور گنجلک بنانے کا باعث بنا کرتا ہے، پاکستان اور بھارت کے مابین تلخیوں کی بس اتنی سی داستان ہے۔1947ءمیں تقسیم ہند سے دو ملک تو وجود میں آئے لیکن اپنے جلو میں دنیا کی سب سے بڑی ہجرت اور ایسا قتل عام بھی لائے کہ چشم فلک نے ایسا منظر کبھی نہ دیکھا ہو گا۔ بدقسمتی سے بھارت نے طاقت کے زعم میں کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر کے پاکستان پر جنگ مسلط کر دی اور یہی دونوں ملکوں کے مابین نزاع کی بنیادی اور سب سے بڑی وجہ ہے۔اوردنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں موجود ہندوﺅں اور سکھوں کے مقدس مقامات کی نہ صرف مکمل دیکھ بھال ہوتی ہے بلکہ ان مقامات کی یاترا کرنے کے لئے آنے والوں کو بھی حتی المقدور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ پاکستان کے اسی حسن سلوک کا نتیجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک انتہائی مثبت پیش رفت یہ دیکھنے میں آئی ہے کہ بھارت بھی پاکستانی تجویز منظور کرتے ہوئے کرتار پور بارڈر کھولنے پر تیار ہو گیا، اوراب جب وزیراعظم عمران خان کوریڈور کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے تو یہ راہداری ڈیرہ بابا نانک سے بین الاقوامی سرحد تک جائے گی۔

کون نہیں جانتا کہ دونوں ملکوں کی سماجی و معاشی ابتری کی بڑی وجہ باہمی تعلقات کی ناخوشگواری ہی ہے، دونوں ملکوں میں کروڑوں افراد خط افلاس کے نیچے زندگی گھسیٹ رہے ہیں تو ضروری ہے کہ دو طرفہ تعاون سے ایک دوسرے کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ حکومت سے ہٹ کر یہ دونوں شخصیات عمران خان اور نوجوت سنگھ سدھو اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، اور خوش آئند بات یہ ہے کہ بھارت میں جہاں پاکستان کا ہمیشہ منفی چہرہ ہی دکھایا جاتا ہے وہیں سدھو جیسی شخصیت پاکستان کا مثبت چہرہ دکھا رہی ہے۔

جس سے وہاں کے عوام اپنی حکومت پر دباﺅ ڈال کر اُسے امن عمل کی طرف لانا چاہ رہے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف پاکستان ہمیشہ سے پر امن بقائے باہمی کے جذبے کے تحت مذاکرات کا حامی رہا ہے ۔ ہمیں خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی درکار ہے تو ماضی کی تلخیوں کو فراموش کر کے بات چیت اور میل ملاپ کی طرف آنا ہو گا اور یہی وقت کا تقاضا بھی ہے۔ امید ہے کہ کرتار پور سرحد دونوں ملکوں کے لئے امن کی راہداری ثابت ہو گی۔ ایسا ہونا بھی چاہیے کہ کیونکہ دو ایٹمی طاقتوں کو یہی زیب دیتا ہے کہ وہ امن کے ساتھ بقائے باہمی کے نظریہ پر عمل کرتے ہوئے رہیں اور آپس میں الجھنے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی خاطر اسلحہ کے ڈھیر لگانے کے بجائے غربت کی چکی میں پستے ہوئے عوام کی بہتری اور خوشحالی کے لئے کام کریں۔


ای پیپر