کشمیر، بھارت اور پاکستان
05 اگست 2020 (23:02) 2020-08-05

کل 5 اگست کو بھارتی حکومت کے یکطرفہ اور انتہائی جارحانہ اقدام کے نتیجے میں ریاست جموں و کشمیر کی ہندوستانی آئین میں خصوصی حیثیت ختم کر کے یعنی دفعہ 370 اور ذیلی دفعہ 35۔اے پر خط تنسیخ پھیر کر اسے اپنے تئیں ملک کے اندر ضم کرنے کو پورا ایک سال گزر گیا… نریندر مودی کی حکومت اس پر خوش اور مطمئن ہے… اس نے عوام کے ساتھ کئے جانے والے انتخابی وعدے پر عمل کر دکھایا… وہ کچھ حاصل کر لیا جو بظاہر ناممکن یا انتہائی مشکل نظر آتا تھا… کانگریسی حکومتیں اس پر ہچکچاتی دکھائی دیتی تھیں… خود بی جے پی کی واجپائی حکومت اس جانب قدم اٹھاتے دس مرتبہ سوچتی اور خاموشی اختیار کر لیتی … مگر نریندر مودی کی جارحانہ اور ہندو نسل پرستی کے جذبات و خیالات سے مملو انتظامیہ نے دوسری بار منتخب ہونے کے بعد یہ مذموم حرکت کر ڈالی… چند بھارتی دانشوروں اور حزب اختلاف کے دو ایک سیاستدانوں کے علاوہ پوری بھارتی قوم کو اپنے راستے پر لگا لیا… اس ضمن میں مزید اقدامات کئے جا رہے ہیں جن میں اہم تر یہ ہیں کہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں صدیوں اور نسلوں سے آباد مسلمان اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر کے اس کے مسلم ریاست ہونے کے تشخص کو ملیامیٹ کر کے رکھ دیا جائے… کشمیر گزشتہ ایک سال سے عملاً جیل خانے میں تبدیل ہو چکا ہے… بنیادی انسانی حقوق کی پامالی معمول کی بات ہے… مقبوضہ ریاست کے آزادی پسند لوگوں خاص طور پر مسلمان آبادی کے لئے جینا تک عذاب بن گیا ہے… ردعمل میں پاکستان کی (جو کہ تنازع میں تیسرا بڑا فریق ہے) حکومت اور ریاست کے مقتدر اداروں کا کیا طرز عمل ہے… ہم سراپا احتجاج ہیں… کل ایک منٹ کی خاموشی کا اہتمام کیا گیا… تقریروں اور سخت قسم کے مذمتی بیانات میں کوئی کمی روا نہیں رکھی جا رہی… اس مذموم ترین واقعے کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ایک کارنامہ یہ سرانجام دیا گیا کہ راولپنڈی کی مشہور کشمیر ہائی وے کا نام تبدیل کر کے سری نگر ہائی وے رکھ دیا گیا… وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے اعلان سرزد ہوا ہماری اصل منزل یہ مقام ہے… ایک روز وہاں پہنچ کر دم لیں گے… کیسے پہنچ پائیں گے یہ ہرگز نہیں بتایا گیا… لیکن اصل سوال یہ ہے کیا ہمارا اصل تنازع سری نگر کا شہر ہے یا پوری کی پوری ریاست جموں و کشمیر… اگر صرف سری نگر حاصل کرنا ہی مقصود ہے جو ہاتھ میں آتا ہے یا نہیں اس سے قطع نظر بقیہ پوری کی پوری مقبوضہ ریاست کو نظرانداز کر کے کیا ہم اپنے اور کشمیری عوام کے ستر سالہ مؤقف کو ترک کرنے کے جرم کے مرتکب تو نہیں ہو رہے… سلامتی کونسل کی جن قراردادوں کا ہم ہر سانس کے ساتھ ذکر کرتے ہیں… عالمی سطح پر انہیں اپنے مؤقف کی حقانیت کے طور پر پیش کرتے نہیں تھکتے… ان میں کیا صرف سری نگر کے باسیوں کے حق خودارادی کاذکر ہے یا پوری ریاست جموں و کشمیر کے شہریوں کا یہ حق تسلیم کیا گیا ہے… پھر ہم نے انہیں کشمیر ہائی وے کا نام تبدیل کر کے سری نگر رکھ کر بھارت کے پنجۂ استبداد کے حوالے کرنے کی سعی لاحاصل کیوں کی ہے… اگر اس کا مقصد پاکستانی عوام کو خوش کرنا ہے کہ ان کی حکومت اور ریاستی ادارے 5 اگست کے اقدام پر خاموش ہو کر نہیں بیٹھے ہوئے تو یہ محض اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے… اس سے بھارت کے کانوںپر جوں کیا رینگے گی ہمارے اپنے ملک کے باشعور شہری مذاق اڑا رہے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں حکومت کے کرنے کا کام اپنے عوام کی آنکھوں میں جھول ڈالنا رہ گیا ہے… واضح رہے 1989ء کے قرب و جوارمیں جب بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھیں اور سارک کانفرنس میں شرکت کے لئے راجیو گاندھی اسلام آباد آ رہے تھے… تب کشمیر ہائی وے کے بورڈ اور ٹریفک سائن ہٹا دیئے گئے تھے… نتیجہ اس کا منتخب وزیراعظم کو یہ بھگتنا پڑا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے مرحومہ کو سکیورٹی رسک قرار دیا گیا… اب تازہ ترین اور مضحکہ خیز اقدام کے بارے میں کیا ارشاد ہے جس میں بظاہر آپ کی اشیرباد بھی شامل حال نظر آتی ہے… قوم اس بارے میں حقیقت جاننے کے لئے بے چین ہے…

دوسرا قدم ہماری جانب سے یہ اٹھایا گیا ہے کہ سرکاری طور پر پاکستان کا نیا نقشہ تیار کر کے پوری کی پوری ریاست جموں و کشمیر کو اصولی طور پر اس میں ضم کر دکھایا گیا ہے… مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو واضح کیا گیا ہے… سیاہ چن اور سرکریک وغیرہ 

پر پاکستان کی پوزیشن کو نمایاں کیا گیا ہے… بظاہر اچھا اقدام ہے لیکن بھارت اس کے برعکس پوری کی پوری مقبوضہ ریاست کا عملاً جغرافیائی، نسلی اور مذہبی نقشہ بدل کر رکھ دینے کے در پے آزار ہے…سابقہ ریاست کو اپنے ضم کرنے کے بعد دو انتظامی حصوں میں تبدیل کر کے اس کی واحد ریاست کے طر پر ہیئت بدل کر رکھ دی ہے… اس کے بعد پاکستان سے آنے والے پانچ لاکھ غیرمسلم مہاجرین یا ان کی اولادوں کو جموں و کشمیر میں آباد ہونے اور برابر کی شہریت کا حق حاصل کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے… اس پر مستزاد ہر وہ بھارتی شہری جو گزشتہ سات برس یا اس سے زیادہ عرصے کے لئے بسلسلہ ملازمت و تعلیم یا دیگر سرکاری فرائض انجام دینے کے لئے کشمیر میں آباد چلا آ رہا ہے اسے بھی مقامی لوگوں کے برابر کی شہریت کا درجہ حاصل کرنے اور باقاعدہ جائیدادوں کا لین دین کرنے کا قانونی استحقاق دے دیا ہے یوں مقبوضہ کشمیر کا زمینی نقشہ بدل کر رکھ دینے کی سعی نامشکور کی گئی ہے… اس کے مقابلے میں ہم نے صرف اپنے طور پر ایک پرانے نقشے کو نیا رنگ و روغن دے کر اپنے عوام کو خوش کام کرنے کا تکلف کیا ہے… اس سے بھارتی اقدامات پر کیا اثر پڑے گا اس پر غور کرنے کی اس لئے زحمت نہیں فرمائی گئی کہ مقصود وقتی طور پر اپنے اور قوم کے ضمیر کو مطمئن کرنا ہے کہ  ہم خاموشی کے ساتھ نہیں بیٹھے ہوئے… لیکن اس سے کون متاثر ہو گا… عالمی رائے عامہ؟ اس کی جانب سے تائید یا مخالفت کا ایک لفظ سننے کا امکان کم ہے… آپ اس نقشے کو اقوام متحدہ میں بھیج دیں گے وہاں بھارتی نقشہ بھی موجود ہو گا… آپ کے پاس اپنے نقشے کو مبنی برحق اور سچ منوانے کے لئے کیا اقدامات ہوں گے یا اس مقصد کی خاطر کون سی مؤثر پالیسی اختیار کریں گے… اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ماسوائے اس کہے کہ بھارت پوری جارحیت کے ساتھ عملی اقدامات کر رہا ہے اور ہماری جانب سے محض رسمی اور کھوکھلی کارروائیاں کی جا رہی ہیں… چوتھے قدم کے طور پر وزیراعظم عمران خان نے کل مظفر آباد پہنچ کر آزاد کشمیر اسمبلی کے اجلاس میں ایک دھواں دار مذمتی تقریر کر ڈالی ہے… صدر آزاد کشمیر چونکہ ان کی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے لہٰذا ان سے الجھنے کی کوشش بھی کی ہے… اس کے ساتھ فرمایا وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے والے لیڈر ہیں… تقریروں سے بھارت کو کیا فرق پڑے گا اور عالمی سطح پر ہماری اس لفاظیت سے جو عملی اور ٹھوس اقدامات سے عاری ہے کون متاثر ہو گا… اس کے بارے میں کسی نے سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی… کشمیر پر تقریریں تو ہمارے وزرائے اعظم اور صدور نے ایک سے ایک بڑھ کر کی ہیں کیا ان کی وجہ سے بھارت کے ہاتھ روکے جا سکے یا عالمی رائے عامہ کے اندر کوئی بھونچال پیدا ہوا… ڈپلومیسی تقریروں کے ذریعے نہیں کی جاتی… باہمی اور فائدہ مند تعلقات پر مبنی ٹھوس نتائج پیدا کرنے کا نام ہے… آخری کارنامہ اس ضمن میں آئی ایس پی آر کی جانب سے یہ سرزد ہوا ہے کہ ایک اور ملّی نغمہ جاری کر دیا گیا ہے… سبحان اللہ…انہی نغموں کے بل بوتے پر ہم نے گزشتہ جنگیں خاص طور پر 1965ء کا محاربہ اور کارگل کی مہم جوئی جیتی ہے… اب یہ کیوں نہ رنگ جمائیں گے… من چلے نے یہاں تک کالم پڑھا تو اس کی زبان پر بے اختیار امیر خسرو کا یہ قول رواں ہو گیا… کھیر پکائی جتن سے چولہا دیا بجھا، آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا…

5 اگست 2019ء کو یعنی ایک برس پہلے بھارتی حکومت نے یہ مذموم ترین حرکت اندھیرے میں چھپ کر نہیں کی تھی… کھلے عام اعلان کیا… پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کی… وہاں کا سپریم کورٹ منقازیر پر ہے… متعصب ہندو آبادی کی رائے عامہ مودی کی ہم خیال نظر آتی ہے… میڈیا اس پالیسی کا دم بھرتا ہے… حزب اختلاف کے سیاسی رہنمائوں اور دانشوروں میں دو تین مستثنیات کے علاوہ سب منہ بند کر کے بیٹھے ہوئے اپنے مجرم ضمیروں کو تھپکی دے رہے ہیں اور سمجھتے ہیں اگر پاکستان کچھ نہیں کر پا رہا… جنگ نہ کرنے کی ایک کے بعد دوسری یقین دہانی کراتا ہے محض اپنے مؤثر دفاع پر ڈٹا ہوا ہے تو ہمارا کیا بگڑتا ہے… ہمارا ملک تو جغرافیائی لحاظ سے جائز یا ناجائز طور پر پہلے سے بڑا ہوا ہے… ہماری سرحدیں پھیل گئی ہیں… چلیے ہمارے یعنی پاکستان کے حکمرانوں نے طے کر لیا اور دنیا کو بھی یقین دلایا اپنی طرف سے کوئی جنگی کارروائی نہ کریں گے… ڈٹ کردفاع کرنا ہمارا حق ہے اس میں کمی نہیں روا کریں گے تاہم کشمیر کی آزادی اور اس کے عوام کے حق خودارادی کے حصول کی خاطر عالمی سطح پر بھرپور سفارتی جنگ لڑیں گے اور بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے… گزشتہ ایک برس میں اس حوالے سے ہم کیا حاصل کر پائے… سلامتی کونسل کشمیر جس کے ایجنڈے کا باقاعدہ حصہ ہے اس دوران ایک بھی قرارداد منظور نہیں کرا پائے… ایک خفیہ اجلاس ہوا تھا جو نشستند و گفتند وبرخاستند کے مصداق لاحاصل ثابت ہوا… اس سے آگے ایک قدم بھی نہ اٹھایا جا سکا… بین الاقوامی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بارے میں سوچا گیا… معلوم ہوا بھارت نے پہلے سے پیش بندی کر رکھی ہے… صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ وہائٹ ہائوس کے موقع پر امریکہ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کو دہرایا… ہم خوشی خوشی اور فتح کے جھنڈے لہراتے واپس لوٹے نتیجہ صفر… ٹرمپ نے افغانستان میں اپنے حق میں زمین ہموار کرنے کے لئے الّو سیدھا کیا تھا… اسلامی سربراہی کانفرنس ہمارا بہت بڑا سفارتی محاذ رہا ہے… اس کے تقریباً ہر اہم سربراہی یا وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر کشمیری عوام کے حق خودارادی کے حق میں مؤثر قرارداد منظور کی جاتی تھی… اس مرتبہ مگر یہ بھی نہ ہو سکا… سعودی عرب جو اس تنظیم کا مؤثر ترین رکن اور ہمارا سرپرست خاص ہے اس ضمن میں مسلسل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے… کسی اور کو بولنے کا یارا نہیں… گزشتہ برس ماہ نومبر میں ملائشیا کے اندر ترکی اور پاکستان کے اشتراک کے ساتھ ایک مسلم سربراہی کانفرنس منعقد ہو رہی تھی… امکان غالب تھا کشمیریوں کے حق میں زبردست آواز بلند کی جائے گی… مگر سعودی ولی عہد کی ایک دھمکی ہمارے وزیراعظم خان بہادر کے پائوں کی زنجیر بن گئی… وہاں نہ جا سکے… ساری سفارتی جنگ دھری کی دھری رہ گئی… بھارت مقبوضہ کشمیر پر جنگی اور اس کے بعد آئینی لحاظ سے اپنا قبضہ جما چکا ہے… اسے ناجائز مگر عملی لحاظ سے اپنے ملک کا حصہ بنا چکا ہے… ہمارے پاس ماسوائے گھر میں بیٹھے صدائے احتجاج بلند کرنے کے کیا رہ گیا ہے… یہ لمحۂ فکر ہے…


ای پیپر