دیر آ ید در ست آ ید
05 اگست 2020 (23:00) 2020-08-05

  دیر آ ید درست آ ید۔خبر ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے شوگر کمیشن رپورٹ کی روشنی میں کریک ڈائون کا حکم دیا ہے۔ اس سلسلے میں سٹیٹ بینک، مسابقتی کمیشن، وفاقی تحقیقاتی ادارہ، سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، نیب اور اینٹی کرپشن کے صوبائی اداروں کو خط لکھے گئے ہیں اور 90 روز کے اندر عمل درآمد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایف بی آر کو حکم دیا گیا ہے کہ ملک بھر کی شوگر ملوں کا آڈٹ کیا جائے اور بے نامی ٹرانزیکشنزکی تحقیقات کی جائیں۔ نیب کو شوگر ملوں اور مالکان کے مالی معاملات کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ سٹیٹ بینک کو مشکوک برآمدات، سبسڈی اور کماد کے کاشتکاروں کو کم ادائیگی کی تحقیقات کا کہا گیا ہے۔ مسابقتی کمیشن کو شوگر ملوں کی اجارہ داری کے خلاف بروقت اقدامات نہ کرنے پر اظہارِ وجوہ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جبکہ پنجاب، سندھ اورخیبر پختونخواہ کی حکومتوں کو کاشتکاروں سے کم قیمت پر گنا خریدنے اور شوگر ملوں کی جانب سے کاشتکاروں کو سود پر قرض دینے کے معاملات کی تحقیقات کا کہا گیا ہے۔ بادی النظر میں یہ شوگر انڈسٹری کے حوالے سے جامع تحقیقات کی شروعات معلوم ہوتی ہے، مگر اس کام میں اتنے اداروں کی دخل اندازی کیا رنگ لائے گی، یہ بھی وقت ہی بتائے گا۔ نیز یہ سوال بھی قائم ہے کہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کی تحقیقات رپورٹ اور اس رپورٹ کا فرانزک آڈٹ کرنے والے چھ رکنی اعلیٰ سطحی کمیشن کی اُس جامع رپورٹ کی حیثیت اس نئے سرے سے کی جانے والی تحقیقات کے بعد کیا ہوگی؟ فرانزک رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کی کیا صورت ہوگی؟ کیا یہ کام اسی رپورٹ کی بنیاد پر شروع ہوسکے گا یا اس وقت تک مؤخر رہے گا جب تک کہ سٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، نیب، ایف بی آر، مسابقتی کمیشن اور صوبائی حکومتوں کی اس ضمن میں رپورٹ نہیں آجاتیں؟ شوگر ملوں کی بدعنوانیوں کے حوالے سے حکومت کے پاس بظاہر کافی معلومات موجود ہیں، مگر اس معاملے میں قانونی کارروائی میں حکومت کی گو سلو پالیسی حیران کن ہے اور یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ اس کہانی کا حتمی نتیجہ بھی وہی ہوگا جو ہمارے ہاں عموماً تحقیقاتی کمیشنز کی رپورٹس کا ہوتا ہے، یعنی نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا۔ اگر حکومت کو ایف آئی اے کی رپورٹ اور اس رپورٹ کا فرانزک جائزہ لینے والے کمیشن کی رپورٹ پر اعتبار 

ہے تو اس رپورٹ کی فائنڈنگز پر عمل درآمد میں کیا امر مانع ہے؟ کیا اس سلسلے میں حکومت کا رویہ اپنی ہی رپورٹ کے اثبات پر سوالیہ نشان نہیں؟ اس سلسلے میں دوسری تشویش اس بات کی ہے کہ شوگر ملوں کے معاملات اور بدعنوانیوں کا کچا چٹھا کھولنے کے ہرممکن اقدام کے باوجود چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے اور حکومت اس ضمن میں بالکل بے اثر دکھائی دے رہی ہے اور چینی اس وقت خوراک کے ان اجزا میں شامل ہوچکی ہے جن کی بلیک مارکیٹنگ عروج پر ہے۔ حد یہ ہے کہ ما ہِ رو اں کے آ غا ز میں چینی کی قیمت سو رو پے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔ یعنی عو ا م کی حا لت یہ ہو چکی ہے کہ گنجی نہا ئے کیا اور نچو ڑے کیا۔ حکومت کی جانب سے چینی کی بتائی گئی قیمت اور مارکیٹ کی قیمت میں بیس روپے یا اس سے بھی زیادہ کا فرق ہے اور واقعہ یہ ہے کہ چینی کی قیمت پر حکومت اپنی عملداری کو یقینی 

بنانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ چینی کے صنعتکاروں کو عوام کی پہلے سے خالی جیبوں پر دو شکلوں میں ڈاکہ ڈالنے دیا گیا ہے۔ پہلے عوامی وسائل سے ان صنعتکاروں کو اربوں روپے سبسڈی کی مد میں بانٹے گئے، اور پھر چینی کی مصنوعی قلت پید اکرکے انہیں قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا موقع فراہم کیا گیا  اور اس وقت جب قیمتوں میں اضافے پر ایکشن لینے کی ضرورت تھی تو ہماری حکومت نے نئے سرے سے تحقیقات کا ڈول ڈال دیا ہے۔ اس دوران وفاقی کابینہ کے اجلاس سے یہ خبر بھی آئی ہے کہ وزیراعظم نے پٹرول بحران کے ذمہ داروں کے خلاف بھی انکوائری کمیشن کی منظوری دی ہے اور کمیشن کے سربراہ اور ارکان کا تقرر جلد کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ اس معاملے پر وزیراعظم نے اپنے معاون خصوصی شہزاد قاسم کی سربراہی میں 30 جون کو انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی جسے یہ مینڈیٹ دیا گیا تھا کہ وہ پٹرول بحران میں ملوث کرداروں کی نشاندہی کرے، ذمہ داروں کا تعین کرے اور آگے اس قسم کے حالات سے بچنے کے لیے تجاویز دے۔ اس کمیٹی سے قبل پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے بھی ایک انکوائری کی جاچکی تھی جس میں واضح کیا گیا تھا کہ متعدد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے جان بوجھ کر یہ بحران پیدا کیا۔ اس رپورٹ میں اس بحران کی ذمہ دار کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی گئی تھی، مگر 18 جون کو آنے والی اس رپورٹ کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹھیک ایک ہفتہ بعد حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 25 روپے 58 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 21 روپے 31 پیسے کا علان کردیا۔

یہی نہیں،ما ہِ رواں کے آ غا ز یعنی یکم اگست سے پٹر و لیم مصنو عا ت جیسے پٹر ول کی قیمت میں 3.86روپے،ہا ئی سپیڈ کی قیمت میںپا نچ روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 5-97روپے اضا فہ کر دیا گیا ہے۔ یوں حکومتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں جو سفارش کی تھی، حکومت کی جانب سے اس کے برعکس عمل کیا گیا۔ کارروائی کی مستحق بحران کی ذمہ دار آئل مارکیٹنگ کمپنیاں تھیں، مگر عملی کارروائی کی تلوار عوام کے سر پر گری اور اس فیصلے میں حکومت نے اس جلد بازی کا مظاہرہ کیا۔ اس معاملے پر حکومت کمیشن بناتی ہے اور وہ کمیشن رپورٹ پیش کرتا ہے تو اس معاملے پر یہ کم از کم تیسری رپورٹ ہوگی جو حکومت کی پیش کی جائے گی، مگر کمیشن، انکوائری اور رپورٹ کا مقصد اُسی وقت پورا ہوگا جب ان سفارشات پر حکومت عمل کرے اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ شوگر اور پٹرولیم کے معاملے میں بدعنوانی کے ذمہ داروں کے خلاف عملی کارروائی میں حکومت کس حد تک عوام کی توقعات پر پورا اترتی ہے۔


ای پیپر