گلوبل ٹریڈ وار : ٹرمپ کی بقاء کی جنگ
05 اگست 2020 (22:59) 2020-08-05

روس کے سپر پزور سٹیٹس سے محروم ہونے کے بعد تقریباً دو دہائی تک امریکہ بلا شرکت غیرے دنیا کی واحد سپر پاور بن کر ابھرا اور دنیا کے کونے کونے میں جنگیں لڑنے کا تاریخی اعزاز حاصل کیا گویا امریکہ نے دنیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ مگر امریکی برتری کا یہ سفر اب آہستہ آہستہ اپنے انجام کی طرف گامزن ہے اور روس کی جگہ پر چائنا اب امریکہ کے مقابل آ چکا ہے۔ گویا تاریخ نے اب اگلا ورقہ پلٹ دیا ہے۔ اس نئے باب میں امریکی بالادستی یا اجارہ داری دم توڑ رہی ہے۔ 

چائنا اور امریکہ کے درمیان 2018ء میں شروع ہونے والی تجارتی جنگ اس وقت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ٹرمپ آج سے 4 سال پہلے برسراقتدار آئے تو ان کا ایجنڈا یہ تھا کہ امریکی معیشت کو مستحکم کیا جائے اور امریکہ کے تجارتی خسارے میں کمی لائی جائے امریکی مقامی مینو فیکچرنگ سیکٹر کو مضبوط کیا جائے تا کہ زیادہ سے زیادہ امریکیوں کو روزگار مل سکے اس کا طریقہ یہ نکالا گیا کہ امریکہ نے چائنا کی امپورٹ پر 15 فیصد ٹیرف یا امپورٹ ٹیکس لگا دیا اس کے جواب میں چائنا نے بھی امریکی درآمدات پر 5 سے 25 فیصد تک ٹیکس لگا دیئے اس تناظر میں امریکہ کو ٹیرف کی مد میں 550 بلین ڈالر کا فائدہ ہوا جبکہ دوسری طرف چائنا نے امریکہ سے 185 بلین ڈالر ٹیرف وصول کیا۔ 

مگر آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ چائنا کا تجارتی یلغار روکنے کے لیے اٹھائے گئے امریکی اقدامات ناکام ہو گئے۔ بھاری ٹیکسوں کی ادائیگی کے باوجود چائنا کی امریکہ کو کی جانے والی ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا اور تجارتی توازن چائنا کے حق میں رہا امریکی تجارتی خسارہ بڑھتا گیا جبکہ دوسری طرف چائنا کا ٹریڈ سرپلس پہلے سے بڑھ گیا۔ ٹریڈ سر پلس ایسی معاشی اصطلاح ہے جس کا عملی مظاہرہ کم ہے دیکھنے میں آتا ہے مگر چائنا نے اپنا 

ٹریڈ سرپلس دنیا کو دکھا دیا جس سے امریکہ اور زیادہ غصے سے پاگل ہو چکا ہے۔ 

امریکہ اور چائنا کی اس تجارتی جنگ میں ایک مشہور چینی ویڈیو ایپ کمپنی Tik-Tok اس وقت طوفان کی زد میں ہے۔ یہ ایپ پاکستان میں تفریح طبع کے لیے استعمال ہوتی ہے اور TikTok کا نام آتے ہی ہمارے ذہن میں حریم شاہ کے متنازع ویڈیو کلپ گھوم جاتے ہیں مگر اس ٹک ٹاک نے ڈونلڈ ٹرمپ کی راتوں کی نیند اڑا دی ہے اور انہیں اپنا الیکشن ہاتھ سے نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔ 

امریکی وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ  بیان میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے امریکہ میں Tik Tok پر پابندی کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ یہ ایپ ایک چینی کمپنی Byte Dance کی ملکیت ہے جس پر الزام ہے کہ Tik Tok کے پاس 180 ملین امریکی شہریوں اور کمپنیوں کا ڈیٹا موجود ہے جسے یہ کمپنی چائنا کی حکمران پارٹی چائنیز کیمونسٹ پارتی کے ساتھ شیئر کرتی ہے۔ کمپنی نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے مگر ڈونلڈ ٹرمپ کو خطرہ ہے کہ الیکشن کے موقع پر امریکہ کی نوجوان نسل جو ٹک ٹاک کی دیوانی ہے ان کے ذہنی انجینئرنگ کی جائے گی تا کہ ٹرمپ کے خلاف ووٹ دیں۔ 

پومپیو نے فوکس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ یہ کمپنی امریکہ کے لیے A broad array of national security risk یعنی ایک وسیع البنیاد سکیورٹی رسک بن چکی ہے۔ امریکی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اور بھی بے شمار امریکی کمپنیاں جو چینی نسل کے امریکیوں کی ملکیت ہیں وہ امریکہ کی مخبری یا جاسوسی میں ملوث ہیں۔ ٹرمپ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے وہ کہتے ہیں کہ اب بہت ہو گیا ہم نے اس کا بندوبست کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے یعنی ٹک ٹاک پر امریکی پابندی  جس کا اطلاق امریکہ کے اندر ہو گا۔ 

درسری طرف امریکی کمپنی مائیکرو سوفٹ کو ٹرمپ نے ہدایت کی ہے کہ وہ Tik Tok کے امریکہ کے اندر آپریشن کے حقوق خرید لے۔ امریکی سینیٹر لنڈ سے گراہم کہتے ہیں کہ اس میں امریکہ کو فائدہ ہی فائدہ ہے ایک تو مقامی کمپنی منافع کمائے گی دوسرا چائنا کی جاسوسی کا امکان ختم ہو جائے گا۔ 

یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ کرونا وائرس کے معاملے میں امریکہ کھلم کھلا چائنا کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے کہ چائنا کی وجہ سے پوری دنیا  میں تباہی پھیلی ہے جس کا ذمہ دار چائنا ہے حالانکہ جب چائنا میں کورونا دریافت ہوا اور اموات کی خبریں آنا شروع ہوئیں تو ٹرمپ مزاحیہ انداز میں اس وائرس کو Wuhan Virus کہا کرتے تھے اور جب انہیں پوچھا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ "it is just a virus" اب وہ کہتے ہیں کہ امریکہ میں ہونے والی 2 لاکھ سے زائد اموات کا ذمہ دار چین ہے کیونکہ انہوں نے وائرس کو چھپایا اور دنیا کو خبردار نہیں کیا۔ امریکہ اقوام متحدہ کے ذریعے چائنا کے خلاف کارروائی اور ہرجانے کا دعویٰ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ 

امریکی چائنیز تجارتی جنگ نے دنیا کے گلوبل ویلیج کے تصور کو دھچکا لگایا ہے اور اب دنیا واپسی 1980ء کی دہائی یا اس سے پہلے کی طرف واپس جا رہی ہے جس میں دنیا کے دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کی لکیر کھینچی جا رہی ہے ۔ ایک دھڑا چین کا ہو گا اور دوسرا امریکا کا۔ اس پس منظر میں گلوبل سپلائی چین  نیٹ ورک کا وجود خطرے میں ہے۔ دنیا واپس سکڑ کر علاقائی سطح پر آئے گی اور سرحدیں مضبوط ہوں گی۔ Borderless ورلڈ کا تصور زوال پذیر ہو گا اور عالمی سپلائی چین سکڑ جائیں گے۔ سپلائی چین کا آغاز امریکہ سے ہوا تھا جو دنیا کی تجارت پر قبوضہ کرنے کا منصوبہ تھا۔ میکڈونلڈ اور پیپسی اور کوکا کولا جیسی کمپنیوں کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ امریکہ ہر حال میں اپنے سپلائی چین کو جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں انہیں تحفظ دینے کی فکر میں ہے۔ اس کے لیے 2 ٹریلین ڈالر کا پیکیج ٹرمپ کے ٹریڈ ایڈوائزر کی میز پر ہے مگر چینی قیادت کے چیرے کی پر اعتمادی بتاتی ہے کہ انہیں پتہ ہے کہ آگے کیا کرنا ہے۔ 


ای پیپر