جمعہ کی چھٹی ! اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
05 اگست 2020 (22:59) 2020-08-05

چند روز قبل جماعت اسلامی کے امیر سنیٹر سراج الحق نے اتوار کے بجائے جمعہ کو ہفتہ وار تعطیل کرنے کی قرار داد سینٹ میں پیش کی،جس پر چئیرمین سینٹ نے معاملہ ایڈوائزری کمیٹی  کے سپرد کردیا ہے۔ سراج الحق صاحب کا استدلال یہ تھا کہ اکثر مسلم ممالک میں جمعہ کو چھٹی ہوتی ہے اس لیے ہمیں بھی جمعہ کی چھٹی اختیار کرنی چایئے۔ اتوار کو چھٹی کا فیصلہ نواز شریف دور میں معاشی نقطہ نظر کے حوالے سے جمعے کی چھٹی کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ اور دلیل یہ دی گئی تھی کہ جن ممالک سے ہماری معاشی سرگرمیاں منسلک ہیں وہاں اتوار کو چھٹی ہوتی ہے اور اگر ہم جمعہ کی چھٹی کریں گے تو ہفتے میں تین دن معاشی سرگرمیاں متاثر ہونگیں۔ سراج الحق مُصر ہیں کہ اتوا کی چھٹی کرنے سے ہماری معیشت پر کوئی خاص مثبت اثر نہیں پڑا ہے  لہذا چھٹی جمعہ ہی کی ہونی چاہیے۔ 

ارشاد احمد حقانی مرحوم ایک کہنہ مشق صحافی ہونے کے ساتھ ایک زمانے میں جماعت اسلامی کے رکن کے طور پر بھی سیاست میں سرگرم رہے ہیں۔ مجھے ڈاکٹر الطاف جاوید مرحوم نے بتایا کہ حقانی صاحب نے کم و بیش بیس بائیس سال قبل ایک کالم لکھا جس میں انہوں نے بتایا کہ لاہور کی ایک صاحبِ ثروت و حیثیت شخصیت ہر ماہ کسی غریب بستی میں راشن تقسیم کیا کرتی تھی ۔ ایسے ہی کسی موقع پر وہ ایک بار حقانی صاحب کو بھی لاہور کی کسی قریبی بستی میں راشن تقسیم کرنے  ساتھ لے گئے۔ حقانی صاحب لکھتے ہیں کہ غربت کا جو تصور ان کے ذہن میں تھا وہ وہاں جا کر بالکل ٹوٹ گیا ، اسی بستی میں اس قدر غربت تھی کہ انسانی ذہن اس کا تصور ہی نہیں کرسکتا۔ غور کریں کہ یہ اس شخصیت کے الفاظ ہیں جس تعلق ہی معلومات اور خبر کی دنیا سے تھا اوران کے ذہن میں جو غربت کا تصور تھا اس بستی میں غربت و افلاس اس تصور سے کہیں زیادہ تھی۔ 

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں کرونا وبا سے معاشی بدحال ہونے والوں کی تعداد پچاس لاکھ بتائی جاتی ہے۔اگر ایک فرد کے ساتھ پانچ افراد بھی متعلق کئے جائیں تو متاثرین کی تعداد ڈھائی کروڑ بنتی ہے، اور حکومت بارہ ہزار روپے فی خاندان دے کر اپنی ذمہ داری سے ’’با خوبی عہدہ برا‘‘ ہورہی ہے۔جس کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کے پاس وسائل کی شدید قلت ہے۔ دو دن قبل ہی کی خبر ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ ۹ اگست کو ٹائیگر فورس ڈے منایا جائے گا اور صوبے بھر میں پانچ سو بیس تقریبات منعقد ہونگیں اور بارہ لاکھ پودے لگائیں جائیں گے۔ایک جانب وسائل کی قلت کا رونا ہے اور دوسری جانب سیاسی میدان میں نمبر سازی  کے لیے وسائل کا بے دریغ استعمال۔ غالبؔ نے شاید ایسی ہی صورت حال کے لیے کہا تھا کہ: جذبہ بے اختیار شوق دیکھا چایئے۔

ہفتہ وار تعطیل کسی بھی دن کی ہو اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنا چاہیے ۔ لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ سیاست میں اپنی دکانداری چمکانے کے لیے مذہب کا استعمال کرکے عوام کے جذبات سے نہیں کھیلنا چاہیے، جیسا کہ بدقسمتی سے ہماری قومی اور ملّی تاریخ میں ہوتا چلا آرہا ہے۔ قرآن حکیم ہمیں سورہ جمعہ کی آیات 9-11  میں ہدایت دیتا ہے کہ  ’’ایمان والو، (پیغمبرکی قدر پہچانواور) جمعہ کے دن جب (اُس کی طرف سے) نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف مستعدی سے چل کھڑے ہو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمھارے لئے بہتر ہے، اگر تم جانو۔ پھر جب نماز ختم ہوجائے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہوتاکہ تم فلاح پائو۔ اِن لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب کوئی تجارت یا کھیل تماشے کی چیز دیکھتے ہیں تو اُس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور تمھیں کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔ اِن سے کہو ، جو اللہ کے پاس ہے، وہ کھیل تماشے اور تجارت سے کہیں بہتر ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بہترین رزق دینے والا ہے۔ــ‘‘  اس سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ جمعہ کی تعطیل کے حوالے سے دینی حوالہ کوئی سند فراہم نہیں کرتا ہے، اگر کوئی زبردستی مذہبی حوالے سے جمعہ کی چھٹی پر بضد ہے تو اس کا علاج کسی چارہ گراں کے پاس نہیں ہے۔ ہمارے یہاں عام طور پرماہ رمضان میں جمعہ کی نماز سے قبل ہی زیادہ تر دفاتر بند کردیے جاتے ہیں۔ لیکن میں جس ادارے میں ملازمت کرتا رہا وہاں دفتر کے سربراہ کلیم احمد مبین صاحب ، تعطیل کے اعلان کے باوجود اسٹاف کو جمعہ کی نماز کے بعد دفتر میں کچھ دیر کام کرنے کی ہدایت دیتے اور دلیل میں یہی قرآنی آیات پیش کرتے تھے۔

پارلیمنٹ ہو یا دیگر ادارے، ان کا وجود ، ان کی بقاء اور ان کا جواز فقط عوام ہی ہیں۔ عوام کے ووٹوں سے پارلیمنٹ میں بیٹھنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے پالیسیاں بنائیں، عوام کے بے رحمانہ استحصال کو روکنے کے لیے حالات معاشی اور سماجی نظام میں جس بنیادی تبدیلی کا تقاضا کرتے ہیں اس پر بحث کریں اور کوئی نظام متعارف کرائیں ۔ عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے مئوثر کردار ادا کریں ۔ یہاںتو شہر کے شہر بارش کے پانی اور کچرے میں ڈوبے ہوئے ہیں، آٹا، چینی، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتیں حکومت کے قابو اور عوام کی قوتِ خریدسے باہر ہوتی چلی جارہی ہیں  اور ہم ہفتہ وار تعطیل کے دن متعین کرنے پر وقت، وسائل اور توانیاں ضائع کررہے ہیں۔  فلاحی ریاست کے بارے میں ہم قصے تو سیاستدانوں کی تقاریر اور گفتگوئوں میں بہت سنتے ہیں لیکن اس عملی تعبیر کے لیے سنجیدہ کوشش کب ہوگی ؟ اس کا انتظار ہے۔ 


ای پیپر