مطالعے اور کتابوں کی دُنیا…!
05 اگست 2020 (22:56) 2020-08-05

حسین شہید سُہروردی کی قراردادِ دہلی پر کی جانے والی تقریر کے سلسلے کو جاری رکھتے ہیں۔ وہ اپنی تقریر یا پیش کردہ قرارداد (قراردادِ دہلی) میں کہتے ہیں ۔

"ہر گاہ ہندوؤں کا ذات پات کا نظام اسلام کے عادلانہ نظام کے بالکل منافی ہے جس کا مقصد قومیت، مساوات ، جمہوریت اور زندگی کے بارے میں دوسرے اعلیٰ وارفع نظریات کو قائم کرنا ہے"۔ 

"ہر گاہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی مختلف تاریخی روایات، ان کی جداگانہ تہذیب و معاشرت اور مختلف اقتصادی و اجتماعی نظام نے کسی ایک ایسی متحدہ ہندوستانی قومیت کی تشکیل کو ناممکن بنا دیا ہے جو مشترکہ تعاون اور تصورات سے فیض حاصل کر سکے اور ہر گاہ کہ صدیوں تک ایک ملک ہی میں رہنے کے باوجود مسلمان اور ہندو دو جدا جدا قومیں ہیں"۔ 

"ہر گاہ کہ برطانیہ کی موجودہ پالیسی کے اختیار کرنے کے بعد یہ خطرہ بہرحال موجود ہے کہ مغربی جمہوریت کے طریقوں کے مطابق متحدہ ہندوستان میں ایسے سیاسی اداروں کی بنیاد ڈال دی جائے جو اکثریت کی حکمرانی کے اصول کے تحت قائم ہوں، اپنا ہر فیصلہ ، بہ جبر نافذ کریں اور دوسری قوموں کی اکثریت کو مخالف کے باوجود ان پر اپنی مرضی مسلط کریں جس کا مظاہرہ ہندو اکثریت والے صوبوں میں گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے تحت قائم ہونے والی کانگرس حکومتوں کے اڑھائی سالہ عہد میں ہوا جبکہ مسلمانوں کو ناقابل بیان مصائب کا نشانہ بنایا گیا اور جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو یقین ہو گیا کہ وہ نام نہاد تحفظات جو ۱۹۳۵ء کے قانون اور گورنروں کو جاری کردہ ہدایات میں درج کی گئی ہیں، وہ بالکل فضول اور بے اثر ہیں۔ مسلمان اس ناقابل تنسیخ نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر ایک علیحدہ ہندوستان کا کسی بھی نوعیت کا کوئی وفاق بنا تو مسلم اکثریت والے صوبوں کا انجام بھی مسلم اقلیتی صوبوں سے کچھ بہتر نہیں ہوگا اور مرکز میں ہندوؤں کی ابدی اکثریت کے مقابلے میں ان کے مفادات و حقوق کا تحفظ نہیں ہو سکے گا۔ "

ـ"ہر گاہ کہ مسلمانوں کو یقین و اثق ہو چکا ہے کہ ہندوؤں کے غلبے سے مسلمانوں کو نجات دلانے کے لئے ضروری ہے کہ ایک بااقتدار اور با اختیار مملکت کا قیام عمل میں لایا جائے جو شمال مشرقی مظقے میں آسام و بنگال اور دوسرے مسلم اکثریتی علاقوں اور شمال مغربی مظقے میں 

پنجاب، سندھ، سرحد، بلوچستان بشمول دوسرے مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ہوں"۔ 

"مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے مسلم ارکان کا یہ اجلاس مکمل غور و خوض کے بعد یہ اعلان کرتا ہے کہ مسلم قوم متحدہ ہندوستان کی بناء پر مرتب کردہ کسی دستور کو ہر گز قبول نہیں کرے گی اور نہ مسلمان ہر گز کسی ایسی دستور ساز اسمبلی میں شرکت کریں گے جو اس مقصد کے لیے قائم کی جائے گی۔ ملت اسلامیہ متحدہ ہندوستان کے سلسلے میں ہر گز تعاون نہیں کرے گی جب تک حکومت برطانیہ کی جانب سے ہندوستانیوں کو اختیار ات منتقل کرنے کے لیے کوئی ایسا فارمولا نہ پیش کیا جائے جو مندرجہ ذیل منصفانہ اور عادلانہ اُصولوں کے مطابق ہو جس سے ملک میں داخلی امن امان برقرار کیا جا سکتا ہے"۔ 

"۱۔مظقے جن میں بنگال و آسام شمال مشرق میں اور پنجاب و سرحد، سند ھ و بلوچستان ہندوستان کے شمال مغرب میں واقع ہیں اور جو عام طور پر پاکستانی منطقوں کے نام سے بااختیار اور آزاد مملکت سے موسوم ہیں اور جہاں مسلمانوں کو غالب اکثریت حاصل ہے۔ ان منطقوں کو بااختیار و آزاد مملکت کی حیثیت سے تشکیل دیا جائے اور یہ وعدہ کیا جائے کہ پاکستان بلا تاخیر قائم کیا جائے گا"۔ 

"۲۔علیحدہ علیحدہ دستور بنانے کے لیے پاکستان اور ہندوستان کے باشندے دو علیحدہ دستور ساز اسمبلیاں قائم کریں گے"۔ 

ـ"۳۔آل انڈیا مسلم لیگ کی قرارداد لاہور منظور شدہ مارچ ۱۹۴۰ء کی بنیاد پر پاکستان و ہندوستان کی اقلیتوں کے لیے آئین میں تحفظات فراہم کیے جائیں گے۔ "

"۴۔عبوری مرکزی حکومت کی تشکیل میں مسلم لیگ کا تعاون و اشتراک حاصل کرنے کی لازمی شرط ہے کہ مسلم لیگ کے مطالبہ پاکستان کو تسلیم کیا جائے اور اسے بلا تاخیر قائم کرنے کی ذمہ داری قبول کی جائے"۔ 

"یہ کنونشن پر روز طریقے سے اعلان کرتا ہے کہ متحدہ ہندوستان کی بنیاد پر اگر کسی دستور کو نافذ کیا گیا یا کوئی مرکزی نظام حکومت مسلم لیگ کے مطالبے کے برخلاف جبری طور پر نافذ کیا گیا تو مسلمانوں کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا کہ وہ اپنی بقائے ملی، زندگی اور وجود کو برقرار رکھنے کے لیے تمام امکانی ذرائع سے اس کی مزاحمت کریں"۔ 

"مجھے انتہائی مسرت اور فخر ہے کہ میں آج یہ اہم قرارداد تمام ہندوستان کے منتخب مسلم ارکان اسمبلی کے سامنے پیش کر رہا ہوں اور سب سے بڑی بات یہ کہ ملت اسلامیہ کے جو نمائندے یہاں موجود ہیں انھیں مسلم قوم نے مطالبہ ء پاکستان کی بنیاد پر ہی منتخب کیا ہے"۔ 

"مختلف جماعتیں حکومت کے سامنے اپنے مطالبات پیش کر رہی ہیں، لہٰذا اب سوال یہ ہے کہ حکومتِ برطانیہ نظام حکومت کی باگ دوڑ کس کے حوالے کرے ؟ کانگرس کی کوشش ہے کہ وہ اختیارات خود حاصل کرے تاکہ وہ مسلمانوں اور دیگر ترقی پذیر اقوام کے عزائم کو کچل سکے۔ کانگرس کہتی ہے حکومت ہمارے حوالے کرو، ہم تمام مخالفوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے ، ہم مسلمانوں کو کچل ڈالیں گے، ہم اچھوتوں کو مغلوب کر لیں گے اور بالآخر ان کے وجود کو ختم کر دیں گے۔ کانگرس کہتی ہے کہ پولیس کو اس کے حوالے کر دیا جائے ، فوج اور اسلحہ اس کے حوالے کر دیا جائے،تو پھر وہ ہندوستان یا اکھنڈ بھارت کے نام پر ملک میں کشت و خون اور ایک ہمہ گیر جنگ اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کر دیں گے لیکن میں کانگرس کی ان تمام گیدڑ بھبکیوں اور شوروغوغا کو ایسے جنون سے تعبیر کرتا ہوں جو طاقت و اقتدار کے حصول کی لالچ سے پیدا ہو گیا ہے"۔ 

"اگر برطانیہ کی حکومت ہندوستان کا مستقبل اور مقدر اس خوں خوار گروہ کے سپرد کرنے کا فیصلہ کرے گی تو یہ اس کی بے بصری اور انتہائی حماقت ہوگی"۔ ـ"مسلمانوں کے لیے مسلم لیگ کے سوا کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں ہے اور پاکستان کے علاوہ مسلمانوں کے لیے کوئی دوسرا نصب العین نہیں ہے ، حتی کہ صوبہ سرحد کا کانگرسی مسلمان بھی پاکستان کے خلاف نہیں ہیں۔ غالباً انھوں نے تو اپنے صوب میں پاکستان قائم بھی کر لیا ہے۔ اب اس ملک میں ایسے شخص کی کوئی گنجائش نہیں جو نظریہ پاکستان پر اعتقاد نہ رکھتا ہو۔ کیا ملک خضر حیات ٹوانہ یہ بات نہیں کہتے کہ وہ پاکستان پر اعتقاد رکھتے ہیں؟ میں ان سے کہتا ہوں کہ وہ ایک خادم قوم کی حیثیت سے مسلم لیگ میں شامل ہو جائیں اگر وہ عزت اور وقار کے خواہاں ہیں تو اپنی قوم سے کیوں طلب نہیں کرتے۔۔۔۔؟"

"دنیا میں ایسی کوئی قوت نہیں جو مسلمانانِ ہند کی بڑھتی ہوئی طاقت اور ترقی کو روک سکے، دس کروڑ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں جبکہ تیس کروڑ انسان جو خود کو ہندو کہتے ہیں انھیں ایک قوم تصور کرنا غلط ہے، وہ کسی صورت میں ایک قوم نہیں، اچھوتوں، پست اقوام میں بیداری پیدا ہو رہی ہے، وہ برصغیر میں اپنے لیے مناسب حیثیت حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں"۔ 


ای پیپر